میٹرک کے طلباءنے لوڈ شیدنگ اور بجلی چوری کے مسئلے کا حل پیش کر دیا

میٹرک کے طلباءنے لوڈ شیدنگ اور بجلی چوری کے مسئلے کا حل پیش کر دیا

پاکستان نے رومانیہ میں منعقدہ عالمی مقابلہ میں چاندی کا تمغہ حاصل کر لیا

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دسویں جماعت کے دو طالبعلموں نے لوڈ شیڈنگ اور گیس و بجلی چوری کے خاتمہ کا طریقہ وضع کر کے رومانیہ میں ہونے والے عالمی مقابلہ میں چاندی کا تمغہ جیت لیا۔ تفصیلات کے مطابق پاک ترک سکول اسلام آباد کے دو طالبعلموں شہباز خٹک اور عبد المعز لودھی نے کمپیوٹر سائنس کے عالمی مقابلہ انفو میٹرکس میں جی ایس ایم (موبائل) ٹیکنالوجی کی مدد سے چلنے والاخودکار میٹر ریڈر پیش کیا جسے دوسرے انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔ یہ آلہ کسی انسانی مداخلت کے بغیر خود کار طریقہ سے بجلی، گیس اور پانی کے استعمال کی تمام تفصیلات سروس فراہم کرنے والی کمپنی کو فراہم کرتا ہے جس سے اندازوں پر مبنی بلوں، غلط بلنگ اور اوور بلنگ کا تدارک ہو جاتا ہے۔ اس سے کمپنی کودرست ڈیٹا اور بر وقت معلومات ملتی ہیںجس سے صحیح تجزئیے ، خرابیوں کا سراغ لگانے اور مناسب منصوبہ بندی میں مدد ملتی ہے۔اس ٹیکنالوجی کی مددسے توانائی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو میٹر ریڈر کی ضرورت نہیں رہتی جبکہ صارفین کے سامنے توانائی کے استعمال کی حقیقی تصویر آ جاتی ہے جبکہ اس سے ٹیمپرنگ کا پتہ لگانے، منافع بڑھانے اور ضیاں کی حوصلہ شکنی کی جا سکتی ہے جبکہ اسے سیکورٹی اورفائر الارم کے نظام کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتاہے۔شہباز خٹک اور عبد المعز لودھی کے مطابق یہ آلہ صارفین کی شکایات کے ازالہ اور توانائی کی چوری جو سالانہ ڈھائی سو ارب تک جاپہنچی ہے روکنے کا بہترین زریعہ ہے۔اس میں معمولی ترمیم سے بجلی کی کمپنیاں گھروں اور دفاتر میں نصب ائیر کنڈیشنروں اورزیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات کوبند کر سکیں گی جس سے پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔اس وقت ملک میں سات ہزار میگاواٹ شارٹ فال ہے جس میں سے پانچ ہزار میگاواٹ ائیر کنڈیشنر کھا جاتے ہیں۔ عالمی مقابلہ پاکستانی طلباءکی اس کاوش کو سراہا گیا اور رومانیہ کے وزیر تعلیم و دیگر حکام نے اس پراجیکٹ میں خصوصی دلچسپی لی۔اس کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے پاک ترک افسران کامل طورے اور ترگت پویان نے کہا کہ عالمی مقابلوں میں کامیابی پاکستانی طالب علموں کی خصوصیت ہے۔تعلیمی ادارے ان کے تخیل، جذبہ اورتخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کریں۔ ان مقابلوں سے پیشہ ورانہ مہارت کے فروغ اور بین الثقافتی مکالمے اور تعاون کو فروغ ملتا ہے۔مقابلہ میںامریکہ، برطانیہ، جرمنی، روس، مقدونیہ، بیلجیم، رومانیہ، پولینڈ، ہانگ کانگ، بوسنیا، تنزانیہ، افغانستان، ترکمانستان، یوکرین، ویت نام، ہنگری، میکسیکو، آذربائیجان، جارجیا، ایکواڈور ، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ترکی، جنوبی افریقہ، قازقستان، لاﺅس، کولمبیا، کینیا، البانیہ، عراق، اور ملائیشیا سمیت مختلف ممالک کے سینکڑوں طلباءنے شرکت کی۔

مزید :

تعلیم و صحت -اہم خبریں -