ان شہروں میں اُردو بے نام نشان ٹھہری

ان شہروں میں اُردو بے نام نشان ٹھہری
ان شہروں میں اُردو بے نام نشان ٹھہری

  

شاعر انقلاب ساحر لدھیانوی نے 1947ء کے بعد کانگرس کی حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہا ’’جن شہروں میں گونجی تھی غالب کی نوا برسوں ان شہروں میں اب ’اردو بے نام نشان ٹھہری‘اس کی وجہ یہ تھی کہ کانگریس حکومت نے ہندوستان میں اُردو زبان کی حوصلہ شکنی شروع کر دی تھی، جس پر شاعر نے صدائے احتجاج بلند کی تھی، مگر وہ تو ہندوستان کی بات تھی وہاں حکومت ہندوؤں کے ہاتھ میں تھی اس میں کوئی شک نہیں اردو ادب میں کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، اوپندرناتھ اشک، پریم چند جیسے عظیم ادیب لکھتے تھے، جو سب ہندو تھے مگر یہ لوگ ادیب تھے اہل دانش تھے مگر ہندو سیاست دانوں کا مسئلہ کچھ اور تھا۔ ان کے نزدیک اردو مسلمانوں کی زبان تھی لہٰذا ہندوستان میں اس کا کوئی مقام نہیں ہے۔ قیام پاکستان کے بعد بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ اردو ہی پاکستان کی قومی زبان ہو گی۔ اگرچہ اس وقت بابائے قوم کو طلبا کے ایک گروہ کی طرف سے احتجاج کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر وہ بھی قائداعظم ؒ تھے اپنے قول کے پکے جن کے قول اور عمل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ قائداعظم نے تقریر کی اور وہاں سے چلے گئے، مگر ان کی تقریر ان کے احکامات پر آج بھی من و عن عمل نہیں ہو رہا۔ بانئ پاکستان کی روح آج بھی افسردہ ہے۔ وہ کون سے عناصر ہیں،جو اردو زبان کو پاکستان کی قومی سرکاری دفتری زبان بنانے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ 1973ء کا آئین پاکستان کے لئے ایک بے مثال تحفہ ہے، جس میں چند ایک نکات سے اختلاف کے باوجود وطن عزیز میں بسنے والے تمام طبقات اتفاق رائے سے اسے نافذ کر چکے ہیں۔ آئین میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اُردو کو بطور سرکاری اور دفتری زبان آہستہ آہستہ نافذ کر دیا جائے گا، مگر آج 42سال گزرنے کے باوجود آج اردو بقول ساحر لدھیانوی۔۔۔’’اُن شہروں میں ارد وآج بے نام نشان ٹھہری‘‘۔۔۔کے مترادف ہے۔

اردو زبان کو نافذ کرنے کے لئے قومی زبان تحریک کی کاوش قابل تعریف ہے۔ یہ لوگ ایک پٹیشن سپریم کورٹ بھی لے کر گئے ہوئے ہیں جہاں اس کی سماعت جاری ہے۔ ایک سماعت میں جناب جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے پوچھا ہے ان افراد کے نام بتائے جائیں ،جو اُردو زبان کو بطور سرکاری اور دفتری زبان نافذ کرنے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ معزز عدالت کا حکم قابلِ تحسین ہے۔ ایسے چہرے ضرور بے نقاب ہونے چاہئیں جو قومی زبان سے دشمنی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پچھلے چند برسوں سے سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے ایک اور قابلِ تحسین عمل کیا جا رہا ہے کہ فیصلے اردو زبان میں بھی لکھے جاتے ہیں، جو سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائیٹ پر ڈال دیئے جاتے ہیں۔ ہمارا قومی المیہ ہے کہ اپنی زبان اپنا ادب ہونے کے باوجود ہم انگریزی زبان کے محتاج ہیں۔

انگریزی زبان پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، مگر اسے اپنے اعصاب پر سوار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ پچھلے دِنوں چین کے صدرِ پاکستان آئے انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب اپنی زبان چینی میں کیا۔ ساری دُنیا نے دیکھا چین گونگا نہیں ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حلف ہندی میں اٹھایا۔ ہمارے صدور اور وزراعظم کیا کرتے ہیں۔ 1973ء کے آئین میں جب واضح طور پر لکھ اجا چکا ہے اُردو کو سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر نافذ کیا جائے وہ کون لوگ ہیں، جو اس میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔42سال گزرنے کے باوجود پاکستان گونگا ہے اسے ایک بدیسی زبان کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ اُردو کو برصغیر میں مسلمانوں نے متعارف کرایا آج وہ مُلک جہاں 98فیصد مسلمان ہیں وہاں اردو نافذ نہیں۔ مسلمان ہی کیا اس ملک میں بسنے والی اقلیتوں کی زبان بھی اُردو ہے۔ آج وطن عزیز ایک دوراہے پر کھڑا ہے پاکستان کا سب سے اونچا منصف گھر جہاں اردو اپنا مقدمہ لئے کھڑی ہے۔ اس تاریخ ساز فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں، جہاں اس مُلک میں ان بااثر افراد کو بے نقاب کیا جائے، جنہوں نے ایک بدیسی زبان کے لئے اپنی زبان اُردو کو اپنے ہی دیس میں بے نام شان کیا ہے۔

مزید :

کالم -