کیا اوبامہ کے دورے سے ہیروشیما کا زخم بھر جائے گا؟

کیا اوبامہ کے دورے سے ہیروشیما کا زخم بھر جائے گا؟

  

خصوصی تجزیہ: اظہر زمان

امریکی صدر بارک اوبامہ نے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق جمعہ کے روز جاپان کے وزیراعظم شنزوابے کے ہمراہ ہیروشیما کے دورے کے موقع پر ’’امن یادگار‘‘ پر پھولوں کی چادر چڑھا کر ایک تاریخی یادگار قدم اٹھایا۔ 71 برس قبل اس شہر پر امریکہ نے ایک ایٹم بم گرایا تھا جس سے موقع پر ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور شدید زخمیوں کے سال کے آخر تک جاں بحق ہونے والے افراد کو ملا کر یہ تعداد ایک لاکھ 40 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران 6 اگست 1945ء کو ہیروشیما اور اس کے تین دن بعد ناگاساکی پر ایٹم بم گرنے کے بعد جاپان نے ہتھیار ڈال دیئے۔ امریکہ نے یہ سب کچھ جاپان کی طرف سے جزیرہ ہوائی کی پرل ہاربر پر لنگر انداز ایک امریکی بحری جہاز پر حملے کے جواب میں کیا جس میں چند ہزار فوجی مارے گئے تھے۔ اگرچہ امریکہ نے یہ بمباری جوابی کارروائی کے طور پر کی تھی لیکن بدلہ لینے کے اتنے خوفناک انداز پر امریکہ پر اندرون ملک اور دنیا بھر سے مسلسل تنقید ہوتی رہی ہے۔ صدر اوبامہ نے سات آٹھ سال قبل اقتدار سنبھالنے کے وقت سے ہیروشیما جانے کا سوچنا شروع کردیا تھا۔ یہ ایک بہت اہم اور تاریخ ساز فیصلہ تھا کہ قبل ازیں کسی امریکی صدر نے اپنے عہد صدارت کے دوران ہیروشیما کا دورہ نہیں کیا تھا۔ جمی کارٹر عہد صدارت سے فارغ ہوکر وہاں گئے تھے جس کی وجہ سے اس کی سرکاری حیثیت نہیں تھی۔

بعد کے دور میں بتدریج امریکہ اور جاپان کے درمیان کشیدگی کم ہوتی گئی اور ایک وقت آگیا کہ وہ بین الاقوامی معاملات میں ایک دوسرے کے حلیف بن گئے۔ سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور فوجی سمیت تمام شعبوں میں ان کے درمیان بھرپور تعاون شروع ہوا جو اب تک جاری ہے لیکن دو جاپانی شہروں پر امریکی بمباری کی تلخی پس منظر میں ہمیشہ موجود رہی۔ جاپان نے دکھوں سے گزر کر ایک مثالی سبق حاصل کیا۔ اس نے ترقی اور تعمیر نو کے کام کو تیزی سے آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ وہ سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی تو حاصل کرے گا لیکن ایٹم بم نہیں بنائے گا حالانکہ جاپان اب اتنی بڑی اقتصادی طاقت ہے کہ اس کیلئے ایٹم بم بنانا کوئی مشکل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ جاپان دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کو کم کرنے کی تحریک میں سرگرم ہوگیا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کا تکلیف دہ سانحہ اب جاپان کا ایسا ماضی ہے جس پر رک کر وہ آنسو بہانے کی بجائے تباہ شدہ شہروں کی دوبارہ آباد کاری کے ساتھ اقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے میں مصروف رہا۔ تاہم امریکہ کے حوالے سے جاپان نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس پر وہ آج بھی تمام تر نئی دوستی کے باوجود قائم ہے۔ وہ فیصلہ یہ تھا کہ کوئی ایسی پرواز جو امریکہ کے کسی شہر سے شروع ہو یا وہاں ختم ہو اسے جاپان کی فضائی حدود میں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکہ کو یقیناًاس کا بہت نقصان ہوا لیکن جاپان نے کبھی اپنے فیصلے پر نظرثانی نہیں کی۔

امریکہ نے کبھی جاپانی شہروں پر بمباری کی معافی نہیں مانگی اور صدر اوبامہ نے بھی ایسا نہیں کیا تاہم صدر اوبامہ نے ہیروشیما کا دورہ کرنے کا جو تاریخی فیصلہ کیا ہے اس سے پرانا زخم بھرنے میں مدد ملے گی یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ غالباً امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کے طور پر یہ حملہ کیا تھا اس لئے وہ اس پر معافی نہیں مانگے گا تاہم اتنے وسیع پیمانے پر انسانوں کی ہلاکت پر اس نے اظہار افسوس ضرور کیا ہے۔ صدر اوبامہ نے ہیرو شیما میں اس حملے سے نقصان کی یاد میں بنائے جانے والے ہیروشیما امن پارک میں موجود یادگار پر پھول چڑھائے۔ اس جذباتی لمحے سے دنیا کو یہ پیغام ضرور ملا ہے کہ تباہ کن ہتھیاروں کی پیداوار اگر فوراً ختم نہیں تو کم از کم بتدریج اس میں کمی ہونی چاہئے۔ امریکہ اور جاپان اس سلسلے میں عالی سطح پر چلنے والی تحریک میں پہلے ہی پیش پیش ہیں۔ صدر اوبامہ ہیروشیما پر بمباری سے بچ جانے والے افراد سے گلے ملے اور ان سے ہاتھ ملایا۔ توقع کے عین مطابق صدر اوبامہ کی ہیروشیما آمد پر ان کے خلاف مظاہرہ بھی ہوا جس کے دوران تباہ کاری بیان کرنے والے بینر مظاہرین نے اٹھا رکھے تھے۔ اس تلخ پس منظر کے باوجود دو بڑی عالمی طاقتوں نے ایٹمی اسلحہ ختم کرنے کے عزم کا جو اعادہ کیا ہے اس سے دوسرے ایٹمی ممالک بھی متاثر ہوں گے اور تخفیف اسلحہ کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔ امریکہ اب ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے جو گزشتہ کئی برس سے اسلحہ کم کرنے کے پروگرام پر مسلسل عمل کر رہا ہے۔ یقیناًصدر اوبامہ کا یہ تاریخی دورہ دنیا میں قیام امن کی راہ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

مزید :

تجزیہ -