انتہا پسندی۔۔۔ روٹ نمبر23

انتہا پسندی۔۔۔ روٹ نمبر23
 انتہا پسندی۔۔۔ روٹ نمبر23

  

اِس وقت انتہا پسندی دُنیا کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے،بدقسمتی سے پاکستان خود انتہا پسندی کا شکار ہے، دُنیا میں ہونے والی بہت سی تباہیوں اور بربادیوں کا اگر سراغ لگایا جائے تو اِس کے تانے بانے انتہا پسندی کے ساتھ ملتے ہیں ،دو افراد کے درمیان لڑائی سے لے کر دو ممالک اور دو خطوں کے درمیان خونریز جنگوں تک میں انتہا پسندی کے عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، انتہا پسندی تشدد کی بنیاد بنتی ہے۔ انتہا پسندی عدم برداشت کی کوکھ سے جنم لیتی ہے اور عدم برداشت کا سبب محرومیاں بنتی ہیں۔ انتہا پسندی، معاشی، معاشرتی اور مذہبی نظریات میں عدم توازن کا نام ہے، جس کا تعلق کسی مذہب، فلسفے یا نقطہ نظر کے ساتھ نہیں ہے،بلکہ انسانی رویوں کے ساتھ ہے۔ سیاسی جبر، طبقاتی نظام، جہالت، عقلی رویوں کا فقدان، فرقہ واریت اور مذہب کی غلط تشریح کو انتہا پسندی کی بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔موجودہ دور میں انتہا پسندی کو صرف مذہب کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ اِس بات سے انکار نہیں کہ مذہبی کلچر میں کم علمی کی وجہ سے عدم برداشت اور تنازعات کی جانب جھکاؤ زیادہ ہوا ہے، مخالف فرقوں کے افراد کے خلاف جارحیت کو اپنانا ایک عام روایت بن چکی ہے۔ ایک مکتب فکر کے لوگ دوسرے مکتب فکر کے لوگوں کو اپنی مسجد سے بے دخل کر دیتے ہیں۔ عموماً اسلام کی مخصوص تعلیمات کا پرچار کیا جاتا ہے، انتہا پسندوں کی جانب سے مذہب کو ایک آلے کے طور پر استعمال کر کے لوگوں کو بھرتی کرنے کا جواز بنایا گیا ہے،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی مذہب انتہا پسندی و شدت پسندی کی ترغیب نہیں دیتا۔انتہا پسندی کے بہت سے عوامل ہوتے ہیں،جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی، اقتصادی، مذہبی، نفسیاتی، تعلیمی اور تخیلاتی عوامل سمیت کئی عوامل انتہا پسندی کے فروغ کی بڑی وجہ ہیں، یہاں تعلیم کی شرح بہت کم ہے اور جو تعلیم دی بھی جا رہی ہے، وہ بھی انتہا پسندی کا موجب ہے، کیونکہ ہمارا نظام تعلیم نوجوانوں کے بنیادی سماجی رویوں کو سیدھی راہ پر چلانے میں ناکام رہا ہے، جبکہ مناسب تعلیم و تربیت سے ہی مطلوبہ سماجی تبدیلی لانا اور بہترین شہری تیار کرنا ممکن تھا۔

پاکستان کا نظامِ تعلیم ابھی تک وہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے، جس سے عوام میں قرار واقعی سماجی اور ثقافتی رویے فروغ پا سکیں، ہمارے معاشرے میں بنیادی طور پر پرائیویٹ انگلش میڈیم ادارے، پبلک ادارے اور دینی مدارس تین نظامِ تعلیم رائج ہیں، تینوں نظاموں کے لوگوں کے درمیان ایک خلیج حائل ہے، جس میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان مختلف نظاموں سے احساس محرومی بڑھتا ہے اور محرومی کا یہ احساس اس وقت اور بھی گہرا ہو جاتا ہے جب بے روزگاری عام ہو، عمومی طور پر بے روز گاری بھی انتہا پسندی کی جانب ایک قدم ہے۔ اگر نوجوانوں کو روزگار دینے کے لئے کوئی موزوں بندوبست پہلے سے موجود نہ ہو، تو اس کے منفی نتائج نکلتے ہیں اور یہی صورتِ حال منفی سرگرمیوں کی طرف رہنمائی کرتی ہے جس کا اثر معاشرے پر ہوتا ہے، جب بے روز گار نوجوانوں کو اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے تو وہ آسانی سے انتہا پسندی کا شکار ہو کر شدت پسندوں کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ ناانصافی، انتہا پسندی کی سب سے بڑی اورا ہم وجہ ہے، معاشرتی انصاف کا فقدان سماجی اقدار کو کمزور کرتا ہے، رشوت ستانی اور میرٹ کا قتل عام ناانصافی کی مثالیں ہیں جو انتہا پسندی کو فروغ دینے میں اپنا کردا ادا کرتی ہیں۔ ان کی وجہ سے افراد مایوسی کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں، جب لوگوں کو اپنے حقوق بھی میرٹ پر نہ ملیں تو پھر لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کسی انتہا پسند گروپ کی وساطت سے اپنی محرومیوں کا ازالہ کریں۔ ہماری سماجی قدروں کے مختلف درجے ہیں جو متوازن معاشرے کے ڈھانچے سے مناسبت نہیں رکھتے، معاشرے میں وڈیروں، جاگیرداروں اور امراء کے طبقے کو نہایت عزت سے دیکھا جاتا ہے بہت سے امیر لوگ اور مراعات یافتہ طبقات غریب لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس قسم کے رویوں نے نچلے طبقات کے لوگوں کو نفسیاتی مسائل میں جکڑ رکھا ہے، اسی لئے یہ لوگ بڑی آسانی اور خوش دِلی کے ساتھ انتہا پسندوں کے ساتھی بن جاتے ہیں،بلکہ خود بہت بڑے انتہا پسند بن کر سامنے آتے ہیں۔ اس لئے یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے اسباب میں سیاسی کلچر کے ساتھ اقتصادی ثقافت کاخاصا عمل دخل ہے۔

اقتصادی اکائیوں میں بٹی ہوئی قوم کو غرباء نچلا درمیانی طبقہ، بالائی درمیانی طبقہ اور امراء کے گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔غربا احساسِ محرومی کا شکار ہیں اور درمیانی طبقے کا شمار بھی محروم لوگوں میں ہوتا ہے۔ امراء نے ہمیشہ کمزور لوگوں کا استحصال کیا، درمیانی اور غریب طبقات جو کہ امراء کے دستِ کرم پر ہوتے ہیں،محرومی سے دوچار ہیں ،اس کے نتیجے میں یہ احساس ان کو بدلہ لینے پر اُکساتا ہے، اس طرح ہمارا اقتصادی نظام بھی لوگوں کو انتہا پسندی کی طرف مائل کرتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی کلچر میں بھی ایسے بہت سے عوامل ہیں جو کہ انتہا پسندی کو ہوا دینے کا موجب ہیں،حالانکہ آئینی اور قانونی طور پر تمام شہری مساوی طور پر سیاسی مواقعے سے فائدہ اٹھانے کے اہل تصور ہوتے ہیں جو کہ سیاسی حقوق سے محروم ہیں، بعض لوگوں اور کچھ خطوں میں یہ احساس محرومی اس قدر بڑھ چکا ہے کہ لوگ اپنے حقوق کے حصول کے لئے طاقت کا استعمال کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ذرائع ابلاغ ایسا طاقتور آلہ ہے جو کسی معاشرے کے بناؤ یا بگاڑ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے ایک محرک اور عامل کا کردار ادا کیا ہے جس سے انتہا پسندی کو پھلنے پھولنے میں مدد ملی ہے۔ ہمارا معاشرہ سماجی اقتدار میں عجیب و غریب نمونہ پیش کرتا ہے۔ کسی کو مارنا یا قتل کرنا بڑی بہادری کاکام مقام سمجھا جاتا ہے اور ذرائع ابلاغ بھی ایسے واقعات کا خوب چرچا کرتے ہیں جن سے ان عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ معاشرے سے انتہا پسندی کو جلد ختم نہیں کیا جا سکتا، اگر اعتدال پسند لوگ اس کے خاتمے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں، جو جتنا کر سکتا ہے، وہ اپنی ذمہ داری ادا کرے تو معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی میں کمی آ سکتی ہے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

روٹ نمبر23 کی بسیں جناح ٹرمینل ملتان روڈ (بس اڈہ) سے آر اے بازار لاہور کینٹ کے درمیان چلتی تھیں، ان بسوں کا ٹائم صبح اذانوں کے وقت تقریباً چار سے رات دس بجے تک تھا اور دونوں طرف سے ہر دس دس منٹ کے بعد بسیں روانہ ہوتی تھیں، مطلب ایک گھنٹے میں6 بسیں چل رہی تھیں، ان بسوں کا روٹ جناح ٹرمینل (بس اڈہ) ملتان روڈ سے کینال روڈ، جناح ہسپتال (شوکت علی روڈ) اکبر چوک،ٹاؤن شپ، پیکو روڈ، ماڈل ٹاؤن کچہری، کوٹ لکھپت، غازی روڈ، ڈیفنس، بھٹہ چوک سے آر اے بازار۔۔۔ میرا گھر ٹاؤن شپ میں ہے اور کئی عشروں سے اس روٹ پر بسیں چلتی دیکھ رہا ہوں، تقریباً ہر ماہ بعد ٹاؤن شپ بذریعہ بس نمبر23 جناح ٹرمینل جاتا ہوں۔ سنا ہے کہ روٹ نمبر23 پر پر چلنے والی بسوں کو بند کرنے کا مقصد نئی چلنے والی لال(سپیڈ) بسوں کو کامیاب کروانا ہے۔ مجھے صرف اس روٹ پر چلنے والی بسوں کے بارے میں لکھناہے کہ ویسے تو لاہور کی سڑکوں پر لال(سپیڈ) بسیں خالی چلتی نظر آتی ہیں، خدا جانے وہ کون شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہے جس نے خادمِ اعلیٰ کو روٹ نمبر23 کی بسیں بند کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس روٹ پر سفر کرنے والے ہزاروں لوگ دھکے کھا رہے ہیں اور بامرِ مجبوری بیس تیس روپے کی جگہ پچاس پچاس، سو سو روپے چنگ جی موٹر سائیکل رکشوں اور دوسرے رکشوں کو دے کر منزلِ مقصود پر جا رہے ہیں۔ ذمہ دار لوگ عوام کی بددعائیوں سے بچنے کے لئیروٹ نمبر23 کی بسیں چلائیں، اگر کوئی مجبوری ہے توروٹ نمبر23 کا متبادل روٹ جاری کر کے اس کی نگرانی کریں،روٹ نمبر23 کو بند کر کے ضرورت مند لوگوں کے ساتھ بہت زیادتی اور ظلم کیا ہے، یہ علاقہ کم از کم تین ممبران صوبائی اسمبلی اور دو ممبران قومی اسمبلی کے حلقے میں آتا ہے، خدا جانے یہ معزز ممبران کن لوگوں کی مشکلات دور کروا رہے ہیں۔ بہرحال روٹ نمبر23 کی بسوں کو فوری چلوانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو سفری سہولتیں بہتر طریقے سے مل سکیں۔

مزید : کالم