مقبوضہ کشمیر میں ظلم و تشدد کی گرم بازاری

مقبوضہ کشمیر میں ظلم و تشدد کی گرم بازاری

مقبوضہ کشمیرمیں قابض فورسز نے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید برہان وانی کے جانشین سبزار بھٹ سمیت مزید 12نوجوانوں کو شہید کر دیا،مقبوضہ وادی میں جگہ جگہ ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، ضلع بارہ مولا کے علاقے رام پور، اڑی اور پلوامہ کے علاقے تلواڑ میں کشمیری نوجوانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے،جس کے خلاف نوجوان سراپا احتجاج بن گئے، خواتین بھی پتھر اٹھائے بھارتی فوجیوں کے سامنے آ گئیں، بھارتی فوج کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ لاٹھی چارج اور براہِ راست فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، پورے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہے۔مقبوضہ کشمیر میں شہری کو جیپ سے باندھنے والے میجر کو بھارتی آرمی چیف کی جانب سے ایوارڈ دیئے جانے کے اقدام کو میر واعظ عمر فاروق نے کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا۔

بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز کو دبانے کے لئے سرگرم ہے، اور اس کا ظلم و ستم اقوامِ عالم کے لئے چیلنج بن چکا ہے، پوری دُنیا میں اس کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے،لیکن بھارت نے عالمی ردعمل کی پروا کئے بغیر یہ سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، پیلٹ گنوں کے استعمال سے ہزاروں لوگوں کی بینائی متاثر ہوئی ہے اور بڑی تعداد میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی بینائی ہمیشہ کے لئے زائل ہو چکی ہے، جس جارحیت، سفاکی اور تشدد کی راہ پر بھارتی فوج گامزن ہے اس کے خطے کی سلامتی کے لئے بہت خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔عالمی برادری کو نہتے کشمیریوں کا یہ بے رحمانہ قتل عام رکوانے میں کردار ادا کرنا چاہئے۔ عجیب بات ہے کہ بھارت اپنے ہاں دہشت گردی کا ڈھنڈورا تو ہمیشہ پیٹتا رہتا ہے،لیکن جس ریاستی دہشت گردی کابازار خود اس نے گرم کیا ہوا ہے اس کا سلسلہ رُکنے میں نہیں آ رہا۔

بھارتی حکومت کے تمام تر اقدامات کے باوجود کشمیری نوجوانوں کے جذبہۂ حریت کو سرد نہیں کیا جا سکا، بھارت کا خیال تھا کہ وادی میں لوگ باہر سے آ کر دہشت گردی کرتے ہیں،لیکن جو لوگ مقبوضہ کشمیر میں شہید ہو رہے ہیں وہ اپنے علاقوں میں جانے پہچانے لوگ ہیں، شہید برہان وانی کوئی اجنبی تھا نہ اب اُن کے ساتھی سبزار بھٹ کہیں باہر سے گئے ہوئے ہیں ان نوجوانوں کی کشمیر کی سرزمین میں جڑیں ہیں اور وہ اپنی جوانیاں آزادی کے مقصد کے لئے وار رہے ہیں۔ ایک نوجوان شہید ہوتا ہے تو ہزاروں لوگ اس کے جنازے میں شریک ہوتے ہیں یہ سب کشمیری نوجوان ہیں اور ایسا احساس ہوتا ہے کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کا ہر اول دستہ اب نوجوان نسل بن چکی ہے جسے تشدد کے کسی بھی حربے سے دبایا نہیں جا سکتا، ایسے ہی نوجوانوں کے جذب�ۂ حریت کو دیکھ کر بھارتی حکومت کی جانب سے بھیجے جانے والے کمیشن نے بھی مودی سرکار سے کہا تھا کہ یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا جائے،لیکن حکومت غالباً تشدد کا ہر حربہ آزمانے پر تلی ہوئی ہے اس لئے مذاکرات کے مشورے کو مسلسل نظر انداز کرتی چلی جا رہی ہے۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں12کشمیریوں کی شہادت کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کا قتلِ عام رکوانے میں کردار ادا کریں۔اُن کا کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیر کی کنٹرول لائن پر بھی کشیدگی کا ڈرامہ جان بوجھ کر رچایا ہوا ہے اور اس کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے حالات سے دنیاکی توجہ ہٹانا ہے امریکہ سمیت عالمی برادری کو کنٹرول لائن پر پاک بھارت تناؤ پر تشویش ہے یہاں تک کہ کشمیری نوجوان کو جیپ پر باندھ کرانسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا اور بھارتی آرمی چیف نے یہ حرکت کرنے والے فوجی افسر کو ایوارڈ دے دیا یہ بزدلانہ فعل اور قابلِ مذمت عمل ہے۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے اندر ہر حربہ استعمال کر کے دیکھ لیا،لیکن وہ آزادی کی اس تحریک کو دبانے میں ناکام ہو گیا، مودی نے برسر اقتدار آتے ہی مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کی حکومت بنانے کی منصوبہ بندی کر لی تھی اور ریاستی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے انتخابی مہم کے دوران پانچ بار مقبوضہ کشمیر کا دورہ بھی کیا تھا،لیکن اُن کی تمام تر خوش فہمیاں اُس وقت دور ہو گئیں جب بی جے پی کو ریاست میں25 سے زیادہ نشستیں نہ مل سکیں اور جوڑ توڑ کے تمام حربے بھی ناکام ہو گئے اور مفتی محمد سعید(مرحوم) کو ریاست کا وزیراعلیٰ بننے سے نہ روکا جا سکا، اُن کی وفات کے بعد بھی مودی نے کوشش کی کہ محبوبہ مفتی کو وزیراعلیٰ نہ بننے دیا جائے یہ کوشش بھی ناکام ہو گئی تو مایوسی کے عالم میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں تشدد کی راہ اپنا لی اور اُڑی جیسے واقعات میں پاکستان کو ملوث کرنے کی ناکام کوشش کی۔ پٹھان کوٹ ہوائی اڈے کے حملے کا الزام بھی پاکستان پر لگا دیا اور اِس بہانے سے مذاکرات کا سلسلہ بھی معطل کر دیا،لیکن یہ سارے اقدامات ناکام ہو گئے تو مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کو تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش کی، ساتھ ہی باہر سے ریٹائرڈ فوجیوں کو لا کر کشمیر میں آباد کرنا شروع کر دیا اور ان کی الگ بستیاں بسائی جا رہی ہیں ان سب کوششوں کا مقصد کشمیر کی تحریک کو دبانا ہے، اور ریاست کو گیریژن میں تبدیل کر نا ہے لیکن اب یہ تحریک فیصلہ کن موڑ پر آ چکی ہے اور تشدد کا کوئی بھی حربہ کامیاب ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا، برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارت نے یہ سوچنا شروع کر دیا تھا کہ یہ تحریک دب جائے گی،لیکن ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری تحریک کا یہ مرحلہ اب تک ختم ہونے میں نہیں آ رہا اور ہنوز اِس تحریک میں پوری جان موجود ہے۔

اگرچہ نریندر مودی اور بی جے پی کے دوسرے رہنماؤں کو یہ زعم ہے کہ کشمیر کی یہ تحریک جلد ختم ہو جائے گی، وہ دراصل کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اسے جلد ہی جبرو تشدد اور ظلم و ستم کے ہتھکنڈوں کے ذریعے دبا لیا جائے گا،لیکن ان کا یہ زعم باطل اس بار پورا ہونے والا نہیں، کشمیر کے نوجوانوں نے اس تحریک کے لئے جو گرم خون پیش کیا ہے وہ جلد رنگ لائے گا اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم و سِتم کی اندھیری رات کی ظلمت چھٹ جائے گی اور صبحِ آزادی کا نور جلد طلوع ہو گا، خونِ صد ہزار انجم سے ہمیشہ سحر پیدا ہوتی ہے، ہزاروں نوجوانوں نے اس تحریک کو جو خون دیا ہے اس کا نتیجہ آزادی کی صورت میں ہی نکلے گا۔

مزید : اداریہ