آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم
 آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

  

تیسری تراویح

سورۃ النساء: چوتھی سورت

سورۃ نساء کے پہلے تین رکوع چوتھے پارے کے آخر میں ہیں اور باقی پانچویں پارے پر مشتمل ہے۔ صرف آخری 29 آیات چھٹے پارے کے شروع میں شامل ہیں۔ یہ سورۃ مبارکہ رسول پاک کی مدینہ آمد کے بعد ۴ ھ کے آخری حصہ میں نازل ہوئی۔ اس سے پہلے ۲ ھ میں بدر کا مشہور معرکہ حق و باطل بپا ہو چکا تھا۔ جس میں قلیل مسلمانوں کو بفضل اللہ فتح حاصل ہوئی تھی۔ پھر ۳ ھ میں مکہ کے لوگوں نے مدینہ منورہ پر چڑھائی کی تیاری کی، حملہ کا پروگرام بنایا تو مسلمانوں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں مدینہ سے باہر آ کر احد کے مقام پر مکہ والوں کو روک لیا، جہاں لڑائی ہوئی۔ مسلمانوں کو پہلے فتح ہوئی بعد ازاں بعض مسلمانوں کی انتہائی غلطی سے فتح شکست میں بدل گئی، بہت سے مسلمان شہید ہو گئے اور ان کی اولاد یتیم ہو گئی۔ (اس لڑائی کا کچھ ذکر سورہ آل عمران میں گزر چکا ہے) ۔۔۔احد کی لڑائی میں منافقین نے مسلمانوں کو تکلیف پہنچائی۔ وہ لوگ لڑائی سے پہلے ہی مسلمانوں سے الگ ہو گئے۔ واقعہ احد کے کچھ روز بعد جب مسلمانوں کے ہوش و حواس بحال ہوئے تو یہ سورۃ مبارکہ نازل ہوئی۔ اس سورت میں مسلمانوں کے عائلی مسائل اور وراثت کے قوانین بیان کئے گئے ہیں۔ معاشرے میں کی جانے والی بے انصافیوں کے سدباب کی تلقین ہے اور منافقین کی شر انگیزیوں سے محفوظ و مامون رہنے کا حکم ہے۔

سورۃ نساء نزول کے لحاظ سے مدنی سورت ہے۔ 177، آیات اور 24 رکوع ہیں۔ اس سورۃ میں اجتماعی زندگی کی درستی کے طریقے بتائے گئے ہیں۔ خاندان کی تنظیم، نکاح کے طریقے، یتیموں کے حقوق، وراثت کی تقسیم، خانگی جھگڑوں کی اصلاح، تعزیری قوانین، محرمات، منافقین، یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے غلط تصورات اور معاملات وغیرہ بارے مضامین ہیں۔

اس سے پہلے جنگ بدر اور جنگ احد پر تبصرہ تھا۔ اب بیواؤں اور یتیموں کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے۔ اللہ کا خوف دلایا گیا ہے۔ چار نکاح تک کی اجازت ہے لیکن بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کرنا لازمی ہے اور یہ کہ ایک ہی نکاح عدل کے قریب ہے۔ مہر فرض ہے اور اس کا ادا کرنا بہرحال لازمی ہے۔ بیواؤں کی دستگیری اور یتیموں کے مال کی حفاظت کے لئے ہدایت ہے۔ میراث صرف مردوں کا ہی حصہ نہیں، عورتیں بھی حقدار ہیں۔ میراث ضرور تقسیم کی جائے خواہ تھوڑی ہی ہو۔ میراث کی تقسیم کے موقع پر دورو نزدیک کے رشتہ دار اور مسکین آئیں تو ان سے تنگ دلی نہ برتی جائے۔ میراث میں ان کا حصہ نہیں لیکن وسعت قلب سے کام لے کر انہیں بھی کچھ دے دیا جائے۔ مرنے والے کے ورثے میں حقداروں اور ان کے حصے کا ذکر ہے۔ مرنے والے نے کوئی وصیت کی ہو اور قرض بھی چھوڑا ہو تو پہلے وہ ادا کیا جائے پھر وصیت پر عمل کیا جائے اور اس کے بعد ترکہ تقسیم کیا جائے۔ ایسی وصیت پر عمل نہ کیا جائے جس سے اس کے رشتہ داروں کے حقوق تلف ہو جائیں۔ اسی طرح محض حقداروں کو محروم کرنے کے لئے مرتے وقت خواہ مخواہ ایسے قرض کا اقرار نہ کر لینا چاہئے جو فی الواقع نہ لیا ہو۔ پھر دو گناہوں کا ذکر ہے ۔توبہ کا ذکر ہے کہ نادانی کی وجہ سے کوئی برا کام سرزد ہو جائے اور جلد توبہ کر لی جائے تو وہ توبہ قابل قبول ہو سکتی ہے۔ ایسا نہیں کہ گناہ کرتے رہیں اور یہ سوچیں کہ بعد میں توبہ کر لیں گے۔ یا مرتے وقت توبہ کریں، تو ایسی توبہ قابل قبول نہیں۔ ان لوگوں کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی جو مرتے دم تک کافر رہیں۔ بیوہ اپنی عدت گزار کر آزاد ہے۔ جہاں چاہے نکاح کرے اور محض اس خیال سے کہ اگر وہ کہیں چلی جائے گی یا کسی سے نکاح کر لے گی تو اس کے مال سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکے گا، اس لئے اسے روک کر رکھا جائے تو ایسا روکنا جائز نہیں۔ اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ عورتوں کو تنگ کر کے ان کے مہر کا کچھ حصہ اڑا لیا جائے، الا یہ کہ وہ صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں۔ پھر سمجھایا گیا ہے کہ اگر کسی کو اپنی بیوی پسند نہ ہو تو فوراً چھوڑ دینے پر آمادہ نہ ہونا چاہئے۔ صبر سے کام لینا چاہئے کہ اللہ پاک نے اس میں کوئی خوبی بھی رکھی ہو گی۔ یہ ہدایت بھی ہے کہ اگر ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی رکھنے کا ارادہ ہو تو پہلی بیوی سے اپنا مال واپس نہیں لینا چاہئے خواہ وہ کتنا ہی ہو۔ اب ان عورتوں کا بیان ہے جن سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام ہے۔ مثلاً ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی، رضاعی ماں، رضاعی بہن، ساس وغیرہ بعض ایسی عورتوں کا ذکر ہے جن سے کسی وجہ سے نکاح نہیں ہو سکتا لیکن وہ وجہ دور ہو جائے تو پھر ہو سکتا ہے۔

سورۃ المائدہ: 5 ویں سورت

سورۃ نساء میں اسلامی معاشرت کے احکام بیان ہوئے ہیں۔ سورہ مائدہ میں تمدنی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ تمدن کی بنیاد معاہدات پر ہوتی ہے، شریعت بھی اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں کے درمیان چند عقود و معاہدات ہی کا نام ہے۔ سورۃ المائدہ کا نام بنی اسرائیل کی ایک خواہش کے حوالے سے رکھا گیا ہے۔ مائدہ عربی میں دستر خوان کو کہاجاتا ہے۔ بنی اسرائیل نے مطالبہ کیا تھا کہ ہمارے لئے آسمانوں سے ایک مائدہ (دستر خوان) نازل ہو، جس میں قسما قسم کے کھانے ہوں۔ سورۃ مائدہ کے پہلے دس رکوع چھٹے پارہ میں ہیں اور چھ رکوع ساتویں پارے میں ہیں۔ شروع ہی میں عہد و پیمان اورقسم کی پابندی کا حکم ہے۔ پھر احرام کی حالت میں شکار کی ممانعت ہے اور مردار، خنزیر، خون وغیرہ کے حرام ہونے کا ذکر ہے۔ کافروں کی ناامیدی کا ذکر بھی ہے کہ وہ اس اسلام کو مغلوب نہیں کر سکتے کہ دین مکمل ہوا۔ اللہ کی نعمت تمام و کمال عطا ہوئی اور اسلام ہی مسلمانوں کے لئے پسند کیا گیا۔ اب حلال کی گئیں کھانے کے لئے پاکیزہ چیزیں اور پاکیزہ عورتیں بھی، خواہ وہ قید میں ہوں یاان اہل کتاب میں سے ہوں، البتہ ان کا مہر ادا کیا جائے۔ پھر وضو کے فرائض اور مسائل بتائے جاتے ہیں اور مجبوری میں تیمم کی اجازت بھی ہے۔ اس کے بعد گواہی دینے کا حکم بھی ہے تاکہ عدل قائم رہے۔ توکل کرنے کا حکم بھی اسی کے ساتھ آتا ہے۔ نماز، زکوٰۃ ، انبیاء علیہم السلام پر ایمان، تبلغ دین، جہاد اور جہاد کے لئے مالی امداد کا حکم بھی ہے۔ ان یہودیوں کا ذکر بھی ہے جنہوں نے چند روزہ زندگی کے لئے آخرت بیچ ڈالی ہے۔ انہی یہودیوں کو دعوت اسلام دی جا رہی ہے کہ کل وہ یہ نہ کہیں کہ ان کے پاس کوئی نذیر و بشیر نہیں آیا۔ وہ دیکھ لیں کہ یہ رسول محمدﷺ تشریف لے آئے ہیں۔ اب موسیٰ علیہ السلام کی دعوت اور جہاد کا ذکر ہے کہ یہودیوں نے ان سے کیا کیا حیلے بنائے اور یہاں تک کہ ان کو کہہ دیا کہ ’’تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں‘‘۔ ان کی بزدلی کی مذمت ہے اور فرمایا گیا ہے کہ دنیا و آخرت میں فوزو فلاح محض ثابت قدمی اور دلیری سے حاصل ہو سکتی ہے۔

اب آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا ذکر ہے کہ قابیل نے ہابیل کو حسد کی وجہ سے قتل کر دیا۔ یہود و نصاریٰ سے دوستی کرنے کو منع فرمایا ہے، کیونکہ ان میں دوسری خرابیوں کے علاوہ ان کی صحبت بھی بری ہے اور وہ تم کو بھی اپنے جیسا بنا لیں گے اور ارتداد کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ ایمان والوں کو ممانعت ہے ان لوگوں سے ملنے کی بھی جو دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ قرآن سے سرکشی کرنے والوں کے لئے سخت تنبیہ ہے۔ پھر اہل کتاب کے علماء اور مشائخ کی بداعمالیاں مذکور ہیں کہ وہ حرام کھاتے ہیں اوردنیا پرستی میں گرفتار ہیں ۔ وہ فساد پھیلاتے ہیں پھر بھی اگر وہ ایمان لے آئیں تو ان کے لئے انعامات ہیں۔ اب احرام کی حالت میں ممنوع اور جائز کاموں کا ذکر ہے۔ مثلاً خشکی کا شکار ممنوع ہے اور مچھلی کا شکار جائز ہے۔ خانہ کعبہ کی حرمت اور عظمت کا ذکر بھی ہے۔ جانور جن پر نشان لگائے جاتے ہیں اور وہ آزاد چھوڑ دیئے جاتے ہیں، ان سے احتراز کیا جائے۔ اب وصیت کرنے والوں کو گواہ مقرر کرنے کی تاکید آئی ہے اور یہ کہ وہ شہادت کو کبھی نہ چھپائیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نہ خدا تھے اور نہ خدا کے بیٹے تھے۔ وہ بھی بشر تھے اور اللہ کے رسول تھے اور معجزے کے طور پر اللہ نے سب سے پہلے ان سے گہوارے میں بات کرائی، پھر اندھوں اور کوڑھیوں کو اچھا کر دینے اور مردوں کو زندہ کر دینے کا معجزہ دیا گیا۔ یہ واقعہ بھی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے معجزے کے طور پر ان سے یہ فرمائش بھی کی تھی قیامت کے روز حضرت عیسیٰ اللہ سے کہیں گے اے اللہ میں نے ان کو یہ غلط عقیدہ نہیں سکھایا تھا ۔میں نے انہیں تیری وحدانیت کا درس دیا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ میری امت نے اپنے خیال ہی سے مجھے اور میری والدہ کو (اللہ کے علاوہ) خدا ٹھہرایا ہے اور میں اس بات سے بری ہوں۔ میں جب تک ان میں تھا میں نے ان سے وہی کہا جو اللہ نے مجھے بتایا۔ پھر سچے لوگوں کے لئے جنت کی نعمتوں کی بشارت ہے۔

مزید : کالم