چیف ،سوشل میڈیا اور سیاسی جماعتیں

چیف ،سوشل میڈیا اور سیاسی جماعتیں
 چیف ،سوشل میڈیا اور سیاسی جماعتیں

  

آرمی چیف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ نے پچھلے دنوں فوج کے سماجی تبدیلیوں بارے ادراک پر بے لاگ گفتگو فرمائی۔ بات ذہنوں کی تبدیلی سے شروع ہوئی اور اختتام سوشل میڈیا کی حشر سامانیوں پر۔گولہ، بارود کی اہمیت اپنی جگہ لیکن سوشل میڈیا کی صورت حقیقتاً ایک ایسا جن بوتل سے باہر نکل چکا ہے جسے دُنیا بھر کے سماج اپنی اپنی بساط کے مطابق دوبارہ بند کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ کیا سوشل میڈیا پاکستانی سلامتی کے لئے واقعی خطرناک ثابت ہو رہا ہے؟۔ کچھ حد تک کہا جا سکتا ہے، لیکن دوسری طرف یہ امر بھی تسلیم کرنا پڑے گا گزرے برسوں میں پاکستانی ریاست نے بے پناہ مضبوطی کا سامنا کرتے ہوئے ہر طرح کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کیا۔ سب سے بڑا مقابلہ طالبان کی فلاسفی کو شکست اور اب داعش کے نظریات سے سماج کو محفوظ رکھنا تھا۔

ذرا ماضی میں نظر دوڑائیے اور دیکھئے طالبان نے کس ذہانت سے پروپیگنڈے کے پتے کھیلے۔ ریاستی طاقت کے استعمال سے قبل نہ انہوں نے ہتھیار پھینکے نہ ہی علاقائی عملداری سے دستبرداری کا ارادہ ظاہر کیا۔طالبان کے پشت پناہوں کی دلیری اور پاکستانی ریاستی کمزوری کا گہرا تعلق رہا۔ طالبان فلاسفی بڑی قلیل مدت میں قبائلی علاقوں سے پوش علاقوں تک جا پہنچی۔ اسی دور میں طالبان نے physically اہم شہروں میں نیٹ ورکس قائم کرنا شروع کئے۔ بعدازاں ایک وقت ایسا بھی آیا جب نظام کے ستائے عوام نے طالبان سے امیدیں باندھ لیں۔ درحقیقت اگر طالبان بے دردی سے خودکش حملوں میں ملوث نہ ہوتے اور نہ ہی ببانگ دہل ذمہ داری قبول کرتے تو شاید پاکستانی عوام کی اکثریت انہیں اپنا ہیر و قرار دے ڈالتی۔ بلا کم و کاست پاکستان تاریخ کے نازک نہیں بلکہ خوفناک ترین دور سے گزرا۔ ایک طرف دلیل سے عاری سخت گیر تھے دوسری طرف صوفی ازم کو ’’ چراغ کے جن‘‘ کا روپ دینے والے بوریا نشین ۔طالبان کا زور ٹوٹا تو داعش کا غلغلہ اٹھا، لیکن دہشت کے نشان داعش کو پاکستانی سماج نے بیک جنبش قلم مسترد کر دیا۔ ایک تبدیلی یہ بھی دیکھنے کو نظر آئی پہلے سماج کا وہ طبقہ جو سخت گیر نظریات کے پھیلاؤ واسطے محفلوں یا چوراہوں میں تقاریر کرتا تھا آہستہ آہستہ سوشل میڈیا پر شفٹ ہو گیا۔ سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بک پر بڑی دلچسپ صورتِ حال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہاں مختلف طبقات اپنی خواہشوں، حسرتوں ، محرومیوں اور عزائم کو جنونیوں کی طرح بیان کر رہے ہیں۔ ایک طبقہ وہ ہے جس کی نظر میں زندگی میز پر چنے کھانوں اور چند دوستوں تک محدود ، دوسرا وہ جو مشہور شخصیات کے ساتھ تصاویر پوسٹ کرنے میں مگن، تیسرے،جو ’’آج دیواروں سے سر ٹکرانے کو جی کرتا ہے‘‘جیسے مختلف فقروں کے ذریعے ٹرکوں کے پیچھے لکھے اشعار کی یاد تازہ کرتے، چوتھے،جنہیں یکایک احساس ہوتا ہے زندگی بڑی مختصر ہے،لہٰذا ان کی نیکی پر مبنی پوسٹ کو شیئر نہ کرنے والا کوئی بدقسمت ہی ہوگا۔ پانچویں ، جو اپنے پسندیدہ لیڈر کو دیوتا اور مخالف کو فرعون سے بھی بدتر ثابت کرنے پر تلے ہوئے، چھٹے ، خواجہ سراؤں کے ٹولے جو لڑکیوں کی آئی ڈی بنا کر چسکے لینے کے عادی۔۔۔یہاں تک تو سب ٹھیک ہے۔ اب اس کے بعد باری آتی ہے ان خطرناک ذہنوں کی جو پاکستانی ریاست کے لئے انتہائی زہر قاتل ثابت ہو رہے ہیں۔ ہماری مراد ان مسلکی گروپوں سے ہے جو سوچی سمجھی پلاننگ کے مطابق فرقہ وارانہ فساد کی آگ کو گھر گھر پھیلانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ یہاں ریاستی کوتاہی عروج پر نظر آرہی ہے۔ ایسا قاتل پروپیگنڈہ، ایسی مشتعل کرنے والی تصاویر اور مقدس ہستیوں بارے اس قدر زہر میں بجھی تحریریں پوسٹ کی جا رہی ہیں جو کسی بھی سیدھے سادے پاکستانی کو اپنے ہمسایہ پر حملہ آور ہونے پر اکسا سکتی ہیں۔ یہی وہ ذہنی تربیت ہے، جس نے طالبان جیسی فلاسفی کو جنم دیا تھا۔ طالبان نے کیا کیا تھا؟ خود کو چودہ سو سال قبل کی روایات کا امین ٹھہرایا۔ پاکستانی مدارس میں اپنی فلاسفی کے نام پر نجات دہندہ کا تصور ابھارا۔ اگرچہ ادھیڑ عمر اساتذہ طالبان کو ایک خاص حد سے زیادہ سراہنے پر تیار نہیں تھے لیکن نوجوان طالبعلموں نے انہیں آئیڈیلائز کیا۔ دوسری طرف طالبان فلاسفی کو کاؤنٹر کرنے کے لئے ایسے مذہبی رہنما سامنے آئے جو گمشدہ چیزوں کی بازیابی اور موکلوں پر قبضے کی داستانیں بکھیرنے میں ماہر تھے ۔ ان کی مارکیٹ میں پہلے ہی کوئی شنوائی نہ تھی لہٰذا پروپیگنڈہ بھی ناقص ثابت ہوا اور عملی اقدامات بھی محض محافل تک محدود رہے۔

فیس بک پر فساد کی کوشش کرنے والے ریاست کے اصلی اور حقیقی دشمن ہیں۔ فیس بک چلانے والوں کی اکثریت محض وقت گذاری کے لئے یا ایڈکشن کے زیر اثر یا ذہنی دباؤ کو بھگانے کی خاطر تصاویر یا تحریروں کو پڑھنا شروع کر دیتی ہے۔ لوگ لکھے پر یقین رکھتے ہیں۔ تصدیق کا کسی کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ وہ جو دیکھتے ہیں اس پر یقین کرتے ہوئے اپنے اپنے حلقہ احباب میں تشہیر شروع کر دیتے ہیں۔ مذہبی جماعتوں کے سیدھے سادے کارکنوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ اکثر مذہبی جماعتیں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے نظریے سے محروم ہیں؟ حقیقی اسلامک سکالرز کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہی برصغیر کے مسلمان ٹرین کے انجن کو دجال کی آنکھ سمجھتے ہوئے سنگ ریزی کرتے رہے۔ لاؤڈ سپیکر،انتقال خون پر کفر کے فتوے لگائے گئے۔ تصویر کھنچوانے، چاند پر چہل قدمی کو خدائی احکامات کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا گیا۔ دنیا کی مشترکہ جائیداد ’’چاند، قطب شمالی اور سمندری تہہ‘‘ سے اپنے حصے سے محرومی پر لبوں کو تالے لگائے گئے ۔ برصغیر کا مسلم کلچر سکالرز پیدا کرنے کی بجائے گئے وقتوں کی تشریحات کے ماہرین کی کھوج میں الجھ گیا۔ اسی کلچر کی بدولت محلے کی مسجد میں تقریر کرنے والا عالم کے درجے پر فائز ہوا ۔ جوش خطابت میں مہارت رکھنے والوں نے بڑے شہروں کے پوش علاقوں کی مساجد کو مسکن بنایا۔ امام، دین کی خدمت کی خاطر فنانسر ڈھونڈنے میں مشغول ہو ئے۔ تعلیمات کے پھیلاؤ کے واسطے قرآن ، حدیث سے ہٹ کر روایات پر مبنی ’’اسلامک فیس ‘‘متعارف کروایا گیا۔ مدرسوں کی فرنچائزز کی صورت شہروں ، قصبوں میں نیٹ ورک قائم کئے گئے۔ انہیں چلانے کے لئے اسلامک بلاکس کی پراکسیز میں بالواسطہ حصہ داری ڈالی گئی۔ اندرون ملک تعمیر و توسیع کے نام پر سوال دراز کئے گئے۔تحریر، تقریر کے ذریعے نیٹ ورک گھروں و دفاتر تک پھیلائے گئے۔ قربانی کی کھالوں، تہواروں، ویلفیئرز کی آڑ میں پیسہ اکٹھا ہوا۔ خطابات پر مبنی کیسٹوں کے ذریعے دیہات تک رسائی حاصل کی گئی اور آخری قدم کے طور ریاستی مشینری میں حصہ وصول کرنے کی خاطر سیاسی جماعت کا اعلان بھی کر دیا گیا۔’’ سسکتی انسانیت‘‘ کو راہ دکھلانے کی خاطر ہر پانچ ، دس سال بعد اک نیا مذہبی رہنما منظر عام پر آرہا ہے۔ ہر آنے والا قومی تشخص کو تاراج کرتے ہوئے مخصوص لباس ، عقائد متعارف کروارہا ہے۔ غربت، جہالت کا عفریت قلیل عرصے میں ہزاروں پیروکار بھی فراہم کر رہاہے۔ یوں ریاست کو خبر بھی نہیں ہو پاتی عبادت کے نام پر مستقبل کے کس لائحہ عمل کو طے کیا جا رہا ہے اور تخت ہوا پر سوار’’ دین کی نئی تشریح‘‘ کس سرعت سے دنیا کے دوسرے ممالک تک پہنچ رہی ہے۔ جب خبر ہوتی ہے تو ریاست کو مجرموں کی صورت دنیاکو جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔چھوٹی سی فیکٹری قائم ہو تو درجن بھر سرکاری ادارے فارمز پکڑے آندر پیٹا کھنگالنے آجاتے ہیں۔ مالک کے بنک اکاؤنٹ سے لے کر بچوں کے سکولز، غیرملکی سفر تک کا ریکارڈ مانگا جاتا ہے، جبکہ خدائی احکامات کی صحیح ترویج جیسے شعبے کو لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مدارس،مساجد کی اکثریت فلاح کا راستہ دکھاتی ہے۔ اس شعبے کو نظر انداز کرنے کا مطلب ان فیکٹرز کو جگہ فراہم کرنا ہے جو مسلکی جنگ میں برادر اسلامک ملکوں کی خاطر پاکستانی معاشرے کو تختہ مشق بنا رہے ہیں۔

اب وقت آ چکا ہے جب آرمی اور سیاسی جماعتوں کو ان اقدامات کے بارے میں سوچنا ہوگا جو پہلے کبھی نہیں کئے جا سکے ۔ سوشل میڈیا پر مذہبی دِل آزاری بارے سخت قوانین کا نفاذ وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔اسی طرح مدارس سے فارغ التحصیل طلباء کی بہتر زندگی کے لئے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ زیادہ نہیں تو ابتدا میں طلبا کی ڈگری کو حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے ہنر مند بنانے والے اداروں کے سرٹیفکیٹ سے نتھی کر دیا جائے۔صبح کے وقت دینی تعلیم اور پچھلے ٹائم خراد، سی این سی مشین آپریٹنگ، اے سی، فریج، پلمبنگ جیسے کئی ایک کورسز ہیں جن کی پوری دنیا میں ڈیمانڈ ہے۔کوئی مدرسہ اس اقدام کی مخالفت نہیں کرے گا۔ تاکہ دور دراز دیہات میں بستا طالب علم جب مدرسے سے فارغ ہو تو وہ ہنر ساتھ لے کر واپس جائے۔ یوں نہ ہو وہ باہر جا کر پیر بن جائے یا اپنی مسجد قائم کر لے یا مدرسے کے نام پر لوگوں سے سیمنٹ، اینٹیں مانگتا پھرے۔کروڑوں افراد پر مشتمل معاشرے کے لئے واحد اور پائیدار امید سی پیک کی صورت نمودار ہو چکی ہے۔ لیکن اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے، مدارس و مساجد کو عزت و احترام کے ساتھ نیٹ ورک میں نہ لایا گیا تو طالبان و اینٹی طالبان فلاسفی کسی بھی وقت دوبارہ انگڑائی لے سکتی ہے۔ طالبان انتہا کے شدت پسند اور اینٹی طالبان انتہا کے رومان پرست ہیں۔ ایک سختی سے اپنے نظریے ، مسلکی برتری کی خاطر روپیہ مانگتا ہے اور دوسرا کھیر جیسی ملائمت کی صورت ہاتھ دراز کرتا ہے۔یہ دونوں فریق ہر قسم کے حساب کتاب، آڈٹ، باز پرس سے آزاد ہیں۔ اب سوال یہ ہے اقدامات کون کرے گا؟ کیا حقیقی اسلامی تعلیمات کے نفاذ سے خائف سیاسی جماعتیں؟یا تبدیل شدہ اپروچ کی حامل اسٹیبلشمنٹ؟ اردگرد تبدیلی کی ہوائیں چل پڑی ہیں۔ یہ تبدیلی سیاست، معیشت اور معاشرت تک ہی محدود نہیں رہے گی۔ خدشہ ہے آنے والے ماہ و سال میں عقائد کی جنگ دوبارہ بھڑکے گی۔ یہ جنگ کون بھڑکائے گا ، وہی جن کے ملکوں سے روپیہ اور بندرگاہوں سے عالمی سرمایہ دار ہجرت کرکے پاکستان کا رخ کر رہے ہیں۔

مزید :

کالم -