اپنے آپ سے مکالمہ

اپنے آپ سے مکالمہ
 اپنے آپ سے مکالمہ

  

اپنے آپ سے مکالمہ کرنے کے فائدے ہی فائدے ہیں اور نقصان ایک بھی نہیں۔ کچھ عرصے سے بلکہ کافی عرصے سے میں یہی ایکسر سائز کر رہا ہوں اس لئے اس نسخۂ کیمیا کے مجرب ہونے کی میں زیادہ وثوق سے گواہی دے سکتا ہوں۔ اس خود ساختہ خاموشی کے بھرت کو توڑنے کا صرف ایک ہی سبب ہے کہ سین سے زیادہ دیر غائب رہنا مناسب نہیں ہے۔ لکھنے کا کوئی فائدہ یا اثر ہو یا نہ ہو کم از کم لکھنے والوں کی فہرست میں نام تو برقرار رہتا ہے بلاشک کوئی فہرست میں سب سے نیچے رکھ لے اس سے بھلا مجھے کیا فرق پڑے گا؟ مجھ سے کوئی میری خود پسندی تو نہیں چھین سکتا۔ جو میری اپنی خالص رائے میں حقیقت پسندی بھی ہے۔ میں اپنے آپ کو لفظوں کے ان فن کاروں کا حصہ سمجھتا ہوں جو اس کی حرکات و سکنات اور اتار چڑھاؤ کو استعمال کرکے دل کی گہرائیوں تک اثر کرنے و الے مکالمے ترتیب دیتے ہیں۔ جہاں تک اپنے آپ سے مکالمہ کرنے کا معاملہ ہے تو وہ سلسلہ بھی ساتھ ساتھ جاری رہ سکتا ہے۔ جہاں اپنی بے باک سوچ کے بیان کی اشاعت سے مسئلہ پیدا ہو تو مصیبت میں گرفتار ہونے کی بجائے اپنی تسلی کے لئے اپنے آپ سے مکالمہ کہیں زیادہ اچھا ہے جس پردنیا کا کوئی قانون پہرہ نہیں بٹھا سکتا۔

میرے دوست جانتے ہیں کہ میں بات ختم کرتے یا واع لیتے ہوئے عموماً یہ کہتا ہوں کہ ’’مکالمہ جاری رہے گا‘‘۔ میں اس تصور پر یقین رکھتا ہوں کہ مکالمہ جاری رہنا چاہئے، مکالمہ وسیع پیمانے پر شائع یا نشر ہو، مکالمہ دوست احباب سے ہویا اپنے آپ سے۔ یہ اظہار بھی پوری زندگی نہیں ہے۔ تاہم یہ ایک بھرپور زندگی کا ایک اہم عنصر ضرور ہے۔ بلاشک میری طرح ’’تشنہ اظہار‘‘ ہو لیکن اظہار ہوتا رہنا چاہئے یا مکالمہ جاری رہنا چاہئے۔ پتہ نہیں کون لوگ ہیں جو ’’مکمل اظہار‘‘ کرپاتے ہیں لیکن میں یہ مانتا ہوں کہ اظہار تشنہ ہی رہتا ہے اس لئے میں کہتا ہوں کہ اسے تکمیل کی سمت لے جانے کے لئے مکالمہ جاری رہنا چاہئے۔

کہانیاں سننے ، سنانے کا کسے شوق نہیں ہوتا جو مجھے بھی ہے۔ میں جب کوئی کہانی سناتا ہوں تو عموماً وہ آخرمیں گھمبیر شکل اختیار کرلیتی ہے جسے میں یہ کہہ کر ختم کرتا ہوں کہ ’’یہ کہانی ہے دیئے کی اور طوفان کی‘‘۔ہر کہانی میں کسی نہ کسی شکل میں ایک دیا ہوتا ہے۔ کہیں زیادہ روشن کہیں زیادہ مدھم! جہاں دیا جلتا ہے وہاں طوفان نہ آئے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اور پھروہ طوفان بھلا کیسے کہلائے گا جو بے رحم اور ظالم نہ ہو اور جو تباہی کے لاؤ لشکر سے آراستہ نہ ہو۔ دیا بجھے نہ بجھے، طوفان اس کی شامت ضرور لے کر آتا ہے۔ یہی زندگی ہے۔ میرا مطلب ہے یہی وہ زندگی ہے جس سے میں واقف ہوں۔

اظہار اور مکالمے کے فلسفے پر میں یونہی بات کرتا رہا تو کہیں دور نکل جاؤں گا۔ مجھے تو کوئی فکر نہیں ہے آپ کو ہی شکایت ہوگی کہ ساری باتیں مکالمے کے تصور پر ہو رہی ہیں لیکن اصل مکالمہ کہاں ہے؟ ایسا نہیں کہ میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ مجھے غیر ضروری حد تک اعتماد ہے کہ میرے حرف جب تحریر کی صورت اختیار کرتے ہیں تو دلوں پر دستک ضرور دیتے ہیں لیکن یہ کوئی تبدیلی بھی لاسکتے ہیں تو اس بارے میں مجھے ذرا بھی غلط فہمی نہیں ہے۔ محض دل کا غبار ہی نکالنا ہے تو چلو یہی کرلیتے ہیں۔

آغاز ہی میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں جو میں ہمیشہ سے کہتا رہا ہوں اور مجھے امید ہے آپ اس کے لئے مجھے معاف کردیں گے کہ پاکستان سے دہشت گردی اور کرپشن کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔ یہ میری خواہش کے بالکل برعکس ہے میں اپنی تمام تر روشن خیالی کے باوجوداگر آپ کو لگے کہ مایوسی پھیلارہا ہوں تو اس کا سبب وہ ہے جو میں نے دیکھا ہے اور دیکھ رہا ہوں۔ میری دعا اور خواہش ہے کہ کوئی ایسا معجزہ رونما ہو اور میرا یہ اندازہ یا نتیجہ بالکل غلط ثابت ہو جائے۔ ویسے بھی پاکستانی قوم خود کچھ نہیں کرتی معجزوں کا ہی انتظار کرتی ہے۔ پتہ نہیں کچھ کرنا نہیں چاہتی یا اسے کچھ کرنے نہیں دیا جاتا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میرے اس ’’ناپسندیدہ نتیجے‘‘ کی بنیاد جو Indicatorsہیں آپ کی اجازت سے آج صرف تھوڑی سی نشان دہی کرسکتا ہوں۔ کرپشن پر کسی اور نشست میں مکالمہ ہو جائے گا۔

صحیح سن تو اسد اللہ غالب کو یاد ہوگا لیکن 1990ء کا عشرہ تھا جب ہم نے ان کی ’’پریس کونسل آف انٹرنیشنل افیئرز‘‘ (PCIA)کے وفد کے ہمراہ گلبرگ میں نہر کے کنارے پر واقع سینئر پیرپگاڑہ کی رہائش گاہ پر ان سے سجی کھائی تھی۔ پروفیسر شفیق جالندھری ، شعیب بن عزیز، پروفیسر مسرور کیفی مرحوم اور وحید رضا بھٹی سمیت تمام دوستوں کو انہوں نے یہ دھماکہ خیز اور سنسنی خیز اطلاع دی کہ چند ماہ کے اندر ملک میں مذہبی فرقہ پرست تنظیموں کی ہنگامہ آرائی شروع ہونے والی ہے۔ اس وقت سیاسی جلسے جلوسوں اور ہڑتالوں کا تو بہت رواج تھا لیکن عمومی طور پر ملک میں بہت امن اور سکون تھا ۔ پیر صاحب کی پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی اور فرقہ واریت کا سلسلہ شروع ہوگیا جو دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کرتا گیا۔ ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے اور گالی گلوچ کرنے والے مختلف فرقوں کے کارکنوں سے اگر آپ الگ سے اس فساد کا سبب پوچھتے تو آپ کو یہ سن کر حیرانی ہوتی کہ وہ یہ سب کچھ اسلام کی محبت میں کررہے ہیں۔ یعنی اسلام کی جس تعبیر پران کا اعتقاد ہے اس کی محبت کا یہ تقاضہ ہے کہ اس سے مختلف سوچ رکھنے والوں کو اس اختلاف کا مزہ چکھایا جائے۔ بعد کے دور میں یہ فرقہ پرستی تو پس منظر میں چلی گئی اور اسلام کے نام نہاد شیدائیوں نے جن کی حرکتیں اور اعمال اسلامی اصولوں کے صریحاً برعکس تھے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اسلامی شریعت اور خلافت کے نفاذ کا نعرہ لگاکر غیر مسلموں کو چیلنج کیا لیکن اس ’’نیک کام‘‘ کا آغاز اپنی سوچ سے اختلاف رکھنے والے اور معصوم مسلمانوں کا خون بہانے سے کیا۔ اسلام کے نام پر بنے پاکستان سے زیادہ انہیں کونسا ایسا ’’زرخیز‘‘ خطہ مل سکتا تھا جہاں وہ اسلام کا لبادہ اختیار کرکے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے ریاست کے اندر اپنی ریاست قائم نہ کرلیتے ۔ پاکستانی عوام کی نفسیات کی جتنی آگاہی دہشت گردوں اور خصوصاً پاکستانی طالبان کو ہے اتنی کسی اور کو نہیں ہے ۔ ان سے زیادہ کسے پتہ ہو سکتا ہے کہ اسلام کا نام لے کر پاکستانی عوام سے کچھ بھی کروالو۔ ایک عرصے تک ان کا پراپیگنڈہ کارگر رہا جسے کامیاب بنانے میں ان کے خفیہ ہمدردوں کا بہت ہاتھ تھا جو شاید اپنے طور پر اسلام کی خدمت کررہے تھے اور غیر اسلامی طاغوتی طاقتوں کے خلاف اسلامی خلافتی نظام نافذ کرنے والے عسکری گروہوں کو چپکے چپکے مضبوط بنانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ آپ کا ماننا ضروری نہیں ہے لیکن مجھے سو فی صد یقین ہے کہ اگر اسلام کا نام استعمال کرنے والے ان دہشت گردوں کے لئے ملک میں خفیہ ہمدردی موجود نہ ہوتی تو بہت عرصہ پہلے ان کی پناہ گاہیں برباد ہو چکی ہوتیں۔ اب یہ حقیقت چھپانے کی ضرورت نہیں ہے کہ سیاسی حکمرانوں اور پاکستانی فوج نے ان دہشت گردوں کے خلاف ’’غیر مقبول‘‘ آپریشن کو التوا میں ڈالے رکھا۔ پاکستانی عالموں کی ایک کثیر تعداد ان طالبان کے خلاف آپریشن کی بجائے ان سے مفاہمتی مذاکرات کرنے کی حامی تھی اور کچھ حد تک بالواسطہ بات چیت بھی ہوئی۔ اس دوران ان دہشت گردوں کا مکروہ چہرہ آہستہ آہستہ بے نقاب ہوتا گیا اور مذاکرات کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا گیا۔ سوات کا مولوی فضل اللہ، پشاور میں آرمی سکول پر ایک بڑی دہشت گرد کارروائی کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ بے گناہ معصوم بچوں کا خون بہا تو اس کے ساتھ ہی کافی حد تک طالبان کے لئے ہمدردی بھی بہہ گئی۔ فوج کو حوصلہ ہوا کہ ان کے خلاف آپریشن ہوا تو عوام کی تائید حاصل ہوگی۔ تب سے اب تک پاک فوج کے آپریشن کامیابی سے جاری ہیں۔ اس وقت فضا عمومی طور پر ان دہشت گردوں کے خلاف ہے۔ عسکری محاذ پر ان سے جنگ تقریباً کامیاب ہو چکی ہے لیکن نظریاتی محاذ کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ پاکستان میں اگر کوئی بھی یہ نعرہ لگائے کہ امریکہ، بھارت، اسرائیل اور مغربی دنیا یا یہودی اور ہندو اسلام دشمنی میں پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں تو سب لوگ اس کے پیچھے اکٹھے ہو جائیں ۔ چونکہ اس الزام میں مکمل یا جزوی صداقت بھی ہوسکتی ہے اس لئے اس نعرے کو ضرور حمایت حاصل ہوگی۔ کوئی نہیں دیکھے گاکہ نعرہ لگانے والا کون ہے اور وہ یہ نعرہ لگا کر کیا منفی مقصد حاصل کرنے والا ہے۔ ان طاقتوں سے نفرت کا کارڈ دہشت گرد بہت ہوشیاری سے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ان کے پراپیگنڈے کا اثر مکمل طور پر زائل کرنا ناممکن ہے اس لئے مجھے تو پاکستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے بارے میں بہت مایوسی ہے۔

دیئے اور طوفان کی ایک اور کہانی بیان کرکے سوچ رہا ہوں کہ اس کی آخر کیا ضرورت تھی؟ اگر دل کا غبار ہی نکالنا مقصود تھا تو جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا اس کی دوسری صورتیں بھی ہوسکتی تھیں۔ مایوس حرفوں کی تشہیر کا کیا فائدہ؟ لفظوں کی اشاعت سے دوست احباب سے مکالمہ بہت بہتر ہے ۔ جبکہ اپنے آپ سے مکالمہ بہترین ہے جس میں آپ کچھ بھی کہہ لیں کسی منفی رد عمل کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ اپنے آپ سے مکالمہ کرنے کے فائدے ہی فائدے ہیں اور نقصان ایک بھی نہیں۔

مزید : کالم