قانون کی بالادستی، خوش آئند امر

قانون کی بالادستی، خوش آئند امر
 قانون کی بالادستی، خوش آئند امر

  

میرا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ پاکستان بنانا ریاست نہیں،بلکہ ایک حقیقی ریاست ہے، جس کا ایک آئین ہے اور اُس کے تحت ریاستی اداروں کی ایک لمبی قطار موجود ہے۔ یہ ریاستی ادارے اگر کام کرنے لگیں تو بڑے سے بڑا شخص یا گروہ بھی اُس کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا۔ مسئلہ صرف اُس وقت پیدا ہوتا ہے،جب یہ ادارے اپنا آئینی فرض ادا نہیں کرتے اور کسی طاقتور مافیا کے سامنے ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ادارے کوئی سنگ و خشت کے دفاتر یا مکان نہیں ہوتے،بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اُن اداروں کو چلاتے ہیں۔ یہ لوگ اگر اپنا آئینی فرض ادا نہیں کرتے اور کسی مصلحت یا مفاد کے لئے پہلو تہی سے کام لیتے ہیں تو اداروں کی ساکھ تباہ ہو جاتی ہے۔ اگر یہ لوگ اپنا فرض غیر جانبداری اور بلا خوف و خطر ادا کریں تو مُلک میں آسانی سے قانون کی حکمرانی قائم ہو سکتی ہے۔مجھے یہ باتیں آج اِس لئے یاد آ رہی ہیں کہ بہت سے حلقے اِس بات پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش کیسے ہو گئے؟افواہیں تو یہ گرم تھیں کہ جے آئی ٹی کو شریف خاندان سے سوالات کے جواب لینے کے لئے خود اُن کے پاس جانا پڑے گا۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ ایک مقتدر خاندان کا چشم و چراغ، ایک طاقتور شخص قانون کی تکمیل میں ایک تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو گیا اور حیرت کی بات اس میں شاید یہ ہے کہ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا،تاہم جو نکتہ ذہن میں رہنا چاہئے وہ یہ ہے کہ جے آئی ٹی کوئی عام نوعیت کی جے آئی ٹی نہیں، جو پچھلے کئی برسوں سے ہم دیکھتے آئے ہیں، بلکہ یہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے حکم پر قائم ہوئی اور اُسی کی نگرانی میں کام کر رہی ہے۔اگر یہ جے آئی ٹی کسی بیورو کریٹ کو جوابدہ ہوتی یا اسے قانون کا مکمل تحفظ اور اعتماد حاصل نہ ہوتا تو شاید یہ بھی حسین نواز سے ملنے کے لئے رائیونڈ کے چکر لگا رہی ہوتی، مگر چونکہ سپریم کورٹ نے اس جے آئی ٹی کو مکمل اختیار دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ کوئی بات نہ مانے یا دباؤ ڈالے تو فوراً اُسے آگاہ کیا جائے، اِس لئے اِس جے آئی ٹی میں جان پڑ گئی ہے۔ یہ جان اِس لئے پڑی ہے کہ ریاستی اداروں نے اپنی حیثیت کو پہچانتے ہوئے فرض ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اِسی لئے مَیں کہتا ہوں کہ پاکستان ایک حقیقی ریاست ہے، مگر افراد کے ہاتھوں اس کی کمزور شکل سامنے آئی ہے۔ آج سپریم کورٹ اِس امر کا بھی فیصلہ کرے گی کہ جے آئی ٹی کے جن دو ارکان پر حسین نواز اور طارق شفیع نے اعتراضات کئے ہیں، وہ کس حد تک درست ہیں اور اس پر کیا حکم جاری ہونا چاہئے، تاہم یہ بات طے ہے کہ پاناما کیس نے آگے بڑھنا ہے اور منطقی طور پر اس کا حتمی فیصلہ بھی سامنے آنا ہے۔

جے آئی ٹی نے طلب کیا تو وزیراعظم نواز شریف بھی اُس کے سامنے پیش ہوں گے۔حسین نواز کی پیشی پر شیخ رشید اور ان جیسے دوسرے رہنماؤں نے شریف خاندان کا غرور خاک میں ملنے کی جو باتیں کی ہیں، مَیں سمجھتا ہوں یہ صرف سیاسی بیان بازی ہے۔ ریاست کے سامنے کسی فرد کا غرور نہیں چلتا،چاہے وہ کتنا ہی با اثر کیوں نہ ہو۔شریف خاندان کو ایک سے زائد بار عدالتوں کے سامنے پیش ہونا پڑا ہے، کبھی کسی کیس کو دائر کرنے کے لئے اور کبھی شوگر ملوں کی منتقلی جیسے کیسوں میں۔۔۔مسلم لیگ (ن) اپنی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی سپریم کورٹ پر حملے کی صورت میں کر چکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اب وہ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی کہ اس عمل کو دہرایا جائے۔ اس واقعہ کی وجہ سے بھی عدلیہ کو مضبوط ہونے کا موقع ملا ہے۔ شریف خاندان کو یقین ہو چکا ہے کہ پاناما کیس ان کے لئے ’’تخت یا تختہ‘‘ والا معاملہ ہے۔ اگر اِس کیس میں اسے بریت نہیں ملتی تو نہ صرف اس کی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا، بلکہ شاید منی ٹریل ثابت نہ کرنے پر منی لانڈرنگ کے کیس کا بھی اسے سامنا کرنا پڑے۔ اِس لئے وہ اِس کیس کو حد درجہ سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ جے آئی ٹی در حقیقت سپریم کورٹ ہی کی نمائندگی کر رہی ہے،اِسی لئے اس کے سامنے پیش ہونا سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے کے مترادف ہے۔ یہ سچ ہے کہ پاناما کیس سپریم کورٹ کے لئے بھی بہت بڑا امتحان ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ مُلک میں قانون کی حکمرانی کا تاثر پیدا کرنے کے لئے ایک سنہرا موقع بھی ہے۔ ابھی تک سپریم کورٹ نے مُلک کے وزیراعظم کے خلاف کیس سنتے ہوئے کوئی مصلحت یا کمزوری نہیں دکھائی۔عوام کو اعتماد ہے کہ اس کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہو گا۔ جب سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جے آئی ٹی بنانے کا اعلان کیا تھا تو بڑی لے دے ہوئی تھی، کیونکہ ماضی میں جتنی بھی جے آئی ٹی بنائی گئیں،ان کے نتائج کچھ اچھے نہیں نکلے، مگر جب اس جے آئی ٹی کے خدوخال سامنے آئے اور سپریم کورٹ نے جس طرح اس کے ہر معاملے پر نظر رکھی، اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی چلی گئی کہ موجودہ جے آئی ٹی عام جے آئی ٹیز سے مختلف ہے اور اب اس کی کارکردگی کے بارے میں جو تفصیلات سامنے آ رہی ہیں،وہ اس کی ساکھ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

یہ بات تو سمجھ نہیں آئی کہ حسن نواز یا طارق شفیع نے اس کے دو ممبران پر اعتراض کیوں کیا ہے؟کہا یہ جا رہا ہے کہ اس کا مقصد صرف وقت گزارنا ہے، تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ چیزوں کو کنارے لگایا جا سکے۔ جے آئی ٹی کے پاس لا محدود اختیارات نہیں ہیں،اسے چند سوالات دیئے گئے ہیں، جن کا اسے جواب ڈھونڈنا ہے،ایسے میں جے آئی ٹی کا کوئی رکن کسی کو کیا فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا ہے؟ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔۔۔جہاں تک کسی رکن کی طرف سے حکمران خاندان کے کسی فرد کو ڈرانے، دھمکانے کے الزام کا تعلق ہے تو اسے سن کر ہی ہنسی آنے لگتی ہے۔یہ کوئی تھانے کی تفتیش تو ہے نہیں اور نہ ہی ملزمان میں علاقے کے غریب غرباء ہیں، پھر جے آئی ٹی کوئی غیر ملکی افسران پر مشتمل نہیں کہ انہیں بعد میں اس مُلک کو خیر باد کہہ دینا ہے، یہ سب افسران اپنی سروس کے درمیانی عرصے میں ہیں، ان کی سروس کا بڑا حصہ ابھی باقی ہے، یہ کیسے کسی کو ڈرا دھمکا سکتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ سارے معاملے کو سپریم کورٹ نظر میں رکھے ہوئے ہے۔خیر یہ تو اب سپریم کورٹ خود فیصلہ کرے گی،لیکن ایک بات طے ہے کہ اس جے آئی ٹی کی تفتیش انتہائی شفاف ہو گی۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسے سپریم کورٹ دیکھ رہی ہے اور دوسری اہم ترین وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کو اس کیس کی تمام جزئیات کا علم ہے اور جے آئی ٹی کو سوالات بھی عدالتِ عظمیٰ نے ہی دیئے ہیں۔ اس کیس کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اس کی وجہ سے مُلک میں قانون کی حکمرانی کا تاثر قائم ہو رہا ہے۔ شریف خاندان جیسا ہمہ مقتدر خاندان اپنے وزیراعظم سمیت اگر اس کیس میں خود کو پیش کر دیتا ہے تو قانون کی بالادستی کے تصور کو نئی زندگی مل جائے گی۔ اس کیس سے مُلک کے دیگر آئینی اداروں، نیب، سٹیٹ بینک اور ایف آئی اے کو بھی سبق سیکھنا چاہئے۔ عہدے اور مناصب وقتی چیزیں ہیں، اصل چیز آئین اور قانون کی بالادستی ہے، یہ قائم رہے تو معاشرے قائم رہتے ہیں، وگرنہ جنگل بن جاتے ہیں۔

مزید : کالم