1363 ارب سود کی ادائیگی،بجٹ تاریخی نہیں قابل مذمت ہے:عوامی تحریک

1363 ارب سود کی ادائیگی،بجٹ تاریخی نہیں قابل مذمت ہے:عوامی تحریک

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر )پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی قائم کی گئی بجٹ کمیٹی نے وفاقی حکومت کے 2017-18 کے بجٹ پر وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے کہا کہ 1363 ارب سود کی ادائیگی والا بجٹ تاریخی نہیں قابل مذمت اور قابل گرفت ہے،قرضوں کی لعنت سے نجات حاصل کرنیکی بجائے حکومت نے مزید8سو ارب قرضہ لینے کا اعلان کر دیا،عوام کے خون پسینے کی کمائی کا جو پیسہ تعلیم،صحت ، انصاف اور تحفظ کی فراہمی پر خرچ ہونا چاہیے تھا وہ پیسہ سود کی نذر ہو رہا ہے۔سودکی ادائیگی کا بجٹ ڈویلپمنٹ اورڈیفنس کے بجٹ سے بڑھ گیا،10فیصد ردّ الفساد الاؤنس خوش آئندتاہم نیکٹا کو مطلوبہ فنڈز نہ دیکر ایکشن پلان کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیئے گئے ،حکمرانوں نے پانچویں بجٹ میں بھی عزت کی سوکھی روٹی پر ادھار کے روغنی نان کو ترجیح دی،نظام عدل میں اصلاحات لائے بغیرملک سے کرپشن ختم ہوگی اور نہ سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسے واقعات رکیں گے،عالمی مالیاتی اداروں اور اشرافیہ کے سوا بجٹ پراور کوئی خوش نہیں، قوم دعا گو ہے شریف برادران کا آخری بجٹ ہمیشہ کیلئے آخری ثابت ہو ۔وائٹ پیپر بجٹ کمیٹی کے سربراہ سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپوراور ممبران بشارت جسپال، بریگیڈیئر(ر) محمد مشتاق، فیاض وڑائچ، ڈاکٹر ایس ایم ضمیر، نوراللہ صدیقی، ساجد محمود بھٹی ،فرح ناز اور مظہر محمود علوی،عرفان یوسف کی طرف سے گزشتہ روز خصوصی اجلاس کے بعد میڈیا کو جاری کیا گیا۔وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ آئین کاآرٹیکل 38 ایف سود کو بلا تاخیر ختم کرنے پر زور دیتا ہے مگر نواز حکومت نے ہر سال سودی لین دین کو فروغ دیا، سودی لین دین کے باعث معاشرتی انصاف کے فروغ،عوام کی معاشی فلاح وبہبوداور ترقی کے مساوی مواقعوں کی فراہمی کے آئینی تقاضے حکومت بری طرح پامال کر رہی ہے، قرضوں کا جی ڈی پی کی متعینہ حد 60 فیصد سے بڑھ کر 69 فیصد ہونا معیشت کی کمزوری اور ملک و قوم کے مفاد کے برخلاف ہے،جس قوم کے ہاتھ میں کشکول ہو اسکی کوئی عزت نہیں کرتا، وائٹ پیپر میں قومی ایکشن پلان کو بری طرح نظر انداز کرنے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف مربوط جدوجہد کیلئے نیکٹا تشکیل دیا گیا تھا جسے محض 140 ملین روپے دئیے گئے جس سے صرف تنخواہیں اور یوٹیلٹی اخراجات پورے ہو سکیں گے ۔21 کروڑ عوام کو دہشتگردوں سے بچانے کیلئے 14کروڑ اورچند درجن غیر ملکیوں کے تحفظ کے لیے 10ارب کا بجٹ رکھا گیا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشتگردی کا خاتمہ حکومت کی آخری ترجیح بھی نہیں ہے، وائٹ پیپر میں بجلی، یوٹیلٹی سٹورزاور نیشنل فوڈ سکیورٹی ریسرچ کے لیے رکھی گئی سبسڈی کو کم کرنے پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذکورہ شعبہ جات کی سبسڈی کم کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ سال بجلی کی قیمتیں بڑھیں گی،غریب سستی اشیائے خورونوش کو ترسے گا اور ملاوٹ سے پاک غذا کا حصول خواب ہوگا۔وائٹ پیپر کے مطابق یوٹیلٹی سٹوروں کیلئے پچھلے سال سبسڈی 7 ارب تھی جسے 43فیصد کم کر کے 4 ارب کیا گیا جبکہ حالیہ رمضان پیکیج میں بھی 25 فیصد کمی کر کے اسے ڈیڑھ ارب روپے تک محدود کر دیا گیا، وائٹ پیپر میں بجٹ اجلاس سے قبل پارلیمنٹ کے سامنے کسانوں پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اورپاسکو کے بجٹ میں 71 فیصد کمی کو کسان دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ کاشتکار جو سرکاری امدادی قیمت پر پاسکو کو گندم فروخت کرتے تھے اب ان میں سے 71 فیصدکسان سرکاری امدادی قیمت پر گندم فروخت نہیں کر سکیں گے ، وائٹ پیپر میں کے ای ایس سی کیلئے سبسڈی 22 ارب سے کم کر کے 15ارب کرنے پر بھی کڑی تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ کراچی کے شہری پاکستان بھر میں سب سے زیادہ مہنگی بجلی خریدنے والے شہری بن جائیں گے جو حکومت کا امتیازی اور استحصالی رویہ ہے،فاٹا اور گلگت بلتستان کے عوام کے لیے سستی خوراک اور سستی گندم کی فراہمی کے لیے سبسڈی کی رقم کو 100فیصد بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا، وائٹ پیپر میں بتایا گیا کہ حکومت نے 4سالوں میں 6 ہزار 5 سو ارب سے زائد قرضے حاصل کیے اور اب آئندہ مالی سال میں مزید 800ارب کے قرضے لینے کا اعلان کیا گیا ہے، وائٹ پیپر کے مطابق حکومت نے پوری دنیا سے قرضوں کی بھیک ملنے کی امید پر ’’تاریخی ‘‘بجٹ کی بڑھک ماری،وائٹ پیپر میں بتایا گیا کہ حکومت نے چین سے 168ارب، فرانس سے 17ارب، کوریا سے 5ارب، ترکی سے 80 ملین،امریکہ سے 12ارب، جاپان سے 5 ارب، سکوک بانڈ کی فروخت سے 105ارب، اسلامک ڈویلپمنٹ بنک سے 165 ارب، ایشین ڈویلپمنٹ بنک سے 128ارب اور بقیہ رقم IMFاور ورلڈ بنک سے بطور قرض لینے کی امید باندھ رکھی ہے، بھاری قرضوں اور سود کی ادائیگی کے باعث آئندہ نسلیں کئی عشروں تک سودی شکنجے میں جکڑی رہیں گی، وائٹ پیپر میں بتایا گیا کہ حالیہ چند سالوں میں پاکستان سے منشیات کی بین الاقوامی نقل و حمل سے پاکستان کے عالمی تشخص کو بری طرح نقصان پہنچا ، قومی ایئر لائن پی آئی اے منشیات کی ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بہت بدنام ہوئی، ضرورت اس امر کی تھی کہ نارکوٹکس کو کنٹرول کرنے کیلئے بارڈرز اور شہروں کے اندر مانیٹرنگ کو سخت کرنے کیلئے بھاری فنڈز مختص کیے جاتے مگر اس مد میں صرف اڑھائی ارب روپے رکھے گئے جو اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے، اس معمولی رقم سے اندازاہ لگانا مشکل نہیں کہ حکومت کو ملکی وقار اورنوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔

مزید : علاقائی