صدر ٹرمپ کامشرق وسطیٰ کادورہ کامیاب مگر یورپ میں تحفظات

صدر ٹرمپ کامشرق وسطیٰ کادورہ کامیاب مگر یورپ میں تحفظات

واشنگٹن (اظہر زمان، تجزیاتی رپورٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بطور صدر مشرق وسطیٰ اور یورپی ممالک کا اپنا پہلا 9 روزہ سرکاری دورہ مکمل کرکے ہفتے کی رات واپس وائٹ ہاؤس پہنچ گئے جہاں داخلی سطح پر ان کی صدارتی ٹیم کے ’’روسی کنکشن‘‘ کا معاملہ اسی طرح جوں کا توں موجود ہے جیسا کہ وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ ان کی آمد سے تھوڑی دیر پہلے وائٹ ہاؤس کے ترجمان سین سپائسر نے اس دورے کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دورے کے 9 دن بہت سیر حاصل رہے۔ قبل ازیں اپنے دورے کے آخری مرحلے پر واپس واشنگٹن روانہ ہونے سے پہلے اٹلی میں سیگونیلا کے فوجی اڈے پر انہیں بتایا کہ انہوں نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو بہت مضبوط بنایا ہے تاہم یورپی لیڈروں اور میڈیا کا جو ردعمل سامنے آیا ہے وہ اس سے مختلف ہے۔ امریکہ کے مشرقی ساحل کے بحراوقیانوس کے پار واقع یورپ کے اتحادی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا امریکہ کے ساتھ اب اتنا اتحاد نہیں رہا جتنا صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے تھا۔ یورپی حکام اب یہ بھی کہنا شروع ہوگئے ہیں کہ شاید اب انہیں اکیلے ہی چلنا پڑے۔ یورپی پریس کہہ رہا ہے کہ امریکہ اب ’’قابل اعتماد اتحادی‘‘ نہیں رہا اس سلسلے میں ایک نمائندہ تبصرہ بلجیم کے ایک اخبار لی سوئر (Le Soir) نے کیا ہے جس کی صفحہ اول کی ایک رپورٹ کی سرخی تھی کہ ’’ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں کو دھکا دے دیا ہے‘‘ یورپ کی مایوسی کے اسباب میں بحرالکاہل کے خطے میں ا وبامہ کے عرق ریزی سے تیار کردہ تجارت کے معاہدے کا تعطل اور ماحولیاتی تبدیلی کے عالمی معاہدے میں امریکہ کی عدم دلچسپی، امیگریشن کے مسئلے پر بے ہنگم پالیسی اور روس پر پابندیوں پر عدم توجہی شامل ہے۔ یورپی میڈیا نے ٹرمپ پر یہ تنقید بھی کی ہے کہ اس نے یورپی ممالک کو نیٹو میں اپنے حصے کا فنڈز دینے پر لیکچر تو دیا ہے لیکن حملے کی صورت میں مشترکہ کارروائی کرنے کی نیو معاہدے کی شق پر کوئی توجہ نہیں دی۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے اٹلی کے خطاب میں بڑے فخر سے کہا کہ وہ امریکہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی نوید لے کر جا رہے ہیں تو یہ بات واقعی درست ہے۔ سعودی عرب نے آئندہ دس سال میں امریکہ میں ساڑھے تین کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ لگانے کا معاہدہ کیا ہے اور پہلے مرحلے پر ایک کھرب دس ارب ڈالر کا فوجی سازوسامان خریدنے کی منظوری دی ہے۔ سعودی عرب نے امریکہ کے انفراسٹرکچر تیار کرنے کے کھربوں ڈالر کے آئندے کے منصوبے کیلئے 40 ارب ڈالر فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔ امریکہ کے ترقیاتی پروگراموں کیلئے کسی غیر ملک کے سرمایہ فراہم کرنے کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ سعودی عرب کے توسط سے امریکہ کو مسلم دنیا کے ایک بہت بڑے دھڑلے سے قربت پیدا کرنے اور غلط فہمیاں دور کرنے میں مدد ملی ہے جو واقعی بہت بڑی کامیابی ہے۔ شاہ ایران کے دور کے بعد سے امریکہ کے ایران سے شدید اختلافات چلے آرہے ہیں۔ سعودی عرب کے ایران کے ساتھ تعلقات کافی عرصے سے کشیدہ تھے جبکہ گزشتہ چند سالوں میں یمن کے مسئلے پر ان کی کشیدگی ایک باقاعدہ جنگی صورتحال میں تبدیل ہوچکی ہے۔ اس لئے امریکہ اور سعودی عرب کی ایران کے بارے میں پہلے سے جاری حریفانہ پالیسی پر زیادہ فرق نہیں پڑا بلکہ انہیں امریکہ اور بیشتر مسلم ممالک کی سربراہ کانفرنس سے تقویت ہی ملی ہے البتہ اب یہ ہوا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے اس مشترکہ اقدام سے کانفرنس میں شریک مسلم ممالک کا ایران اور شام سے فاصلہ مزید بڑھ گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس کانفرنس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف مسلم دنیا کے ایک بڑے دھڑے میں یکجہتی پیدا ہوئی ہے وہاں ایک چھوٹے سے گروپ سے اختلاف کی خلیج زیادہ گہری ہوگئی ہے اور مسلم دنیا دو حصوں میں بٹی نظر آ رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کو اس بات کا اندازہ تھا اور وہ اجتماعی طور پر اسے اپنی کامیابی ہی تصور کریں گے۔ جب صدر ٹرمپ غیر ملکی دورے پر تھے تو داخلی محاذ پر امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ’’روسی کنکشن‘‘ کی کھچڑی بدستور پکتی رہی بلکہ ان کی غیر حاضری میں یہ معاملہ کہیں زیادہ آگے بڑھ چکا ہے۔ ہفتے کی سب ان کی واشنگٹن آمد سے تین روز قبل ’’نیویارک ٹائمز‘‘ امریکی انٹیلی جنس اداروں کے حوالے سے یہ خبر دے چکا تھا کہ روس کے سینئر سیاسی اور انٹیلی جنس حکام نے مشیروں کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے اثر میں لانے کیلئے باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت کام کیا تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق روسی حکام کی دلچسپی کا زیادہ مرکز ٹرمپ کی صدارتی ٹیم کے چیئرمین پال مانا فورٹ اور ریٹائرڈ جنرل مائیکل فلین تھے جو بعد میں ٹرمپ کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر بنے اور ’’روسی کنکشن‘‘ کے سیکنڈل کے تحت فارغ بھی ہوگئے۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں کی کمیٹیاں اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے باقاعدہ تفتیش آگے بڑھائی تو صدر ٹرمپ نے خوفزدہ ہوکر انہیں برطرف کردیا اور انہیں ان کے جرأت مندانہ اقدام پر میڈیا اور انٹیلی جنس کمیونٹی کا ہیرو بنا دیا جو کسی وقت بھی کانگریس کمیٹیوں میں شہادت دینے کیلئے دوبارہ آسکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل ہی ڈپٹی اٹارنی جنرل راڈ روزنسٹن نے ایف بی آئی اے کے ریٹائرڈ ڈائریکٹر کو ’’روسی کنکشن‘‘ کی تفتیش کیلئے سپیشل پراسیکیوٹر مقرر کرکے ایک دھماکہ خیز قدم اٹھایا تھا جن کی تفتیش ٹرمپ کے مواخذے پر بھی منتج ہوسکتی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ کے نوجوان داماد اور قریبی مشیر جیرڈ کشنر کو اپنی تحقیقات کا مرکز بنا رکھا ہے جس پر یہ تبصرہ کیا جا رہا ہے کہ یہ تفتیش اب صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے میں داخل ہوچکی ہے اور آخری لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ’’روسی کنکشن‘‘ اب تفتیش اور تحقیقات سے ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی واشنگٹن واپس آمد سے تھوڑی دیر پہلے سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی نے ایک نیا بل منظور کیا ہے جس کے تحت روسی پراپیگنڈے اور امریکہ سمیت دیگر ممالک کے انتخابات میں روس کی مداخلت کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ اس پس منظر میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ پر شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ روس سے ہمدردی رکھنے کی بنا پر سابق صدر اوبامہ کی وہ پابندیاں ختم کردے گی جو یوکرائن میں کریمیا کے علاقے پر روسی قبضے کے بعد عائد کی گئی تھیں۔ بدلتے ہوئے حالات میں شاید اب ٹرمپ انتظامیہ کو روس کے ساتھ رعایتی اور ترجیحی سلوک کرنے کا موقع نہ ملے۔

مزید : صفحہ اول