کل قومی پیداوار اور کوالٹی آف لائف کا منترا

کل قومی پیداوار اور کوالٹی آف لائف کا منترا

اس میں شک نہیں کہ گزشتہ دس برسوں میں ہماری کل قومی پیداوار ، یعنی جی ڈی پی، نے 5.28فیصد گروتھ حاصل کی ہے ۔ معاشی ماہرین اس سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ جی ڈی پی گروتھ مبنی بر حقائق ہے اور اس ضمن میں اعدادوشمار کا ہیر پھیر نہیں کیا گیا۔ لیکن یہی معاشرین یہ سب تسلیم کرنے کے بعد ایک نیا راگ الاپتے ہیں کہ محض جی ڈی پی میں اضافے کا مطلب ہر گز نہیں کہ معاشرے میں لوگوں کی زندگی میں بہتری بھی آگئی ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر وہ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ کیا جی ڈی پی گروتھ میں اضافے سے ملک میں ذرائع روزگار میں اضافہ ہوا ہے؟کیا اس سے معاشی عدم مساوات اور مواقع تک رسائی میں محرومیوں کا ازالہ ہوگا؟کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سوشل سیفٹی نیٹ ورک موثر ہو گیا ہے؟

دوسری جانب کچھ اور معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ معیشت میں بہتری سے غربت میں بہرحال کمی واقع ہوئی ہے اور اس ضمن میں وہ اعدادوشمار کا حوالہ دے کر بتاتے ہیں کہ 2001-02میں کل آبادی کا 57فیصد صرف 2ڈالر یومیہ کما رہا تھا جبکہ آج آبادی کا صرف 7فیصد حصہ 2ڈالر یومیہ کما رہا ہے اور باقی لوگ اس سے زیادہ کما رہے ہیں ۔ اس پر ناقدین دوبارہ سے نقطہ اٹھاتے ہیں کہ آمدن میں اضافہ چاہے ہوا ہو اس پر بھی تو غور کیجئے کہ ذہنی طور پر کمزور بچوں کی پیدائش اور غذائی کمی کے شکار بچوں کی تعداد اب بھی کم نہیں ہوئی ہے اور پینے کے صاف پانی تک رسائی گھٹتی جا رہی ہے جو کہ غربت سے زیادہ سوسائٹی کو نقصان پہنچانے والے فیکٹرز ہیں۔ اس ضمن میں ایک دلچسپ تقابل یہ کیا جاتا ہے کہ آج پاکستان میں موبائل فون رکھنے والوں کی تعداد ایسے لوگوں سے کہیں زیادہ ہے جن کے پاس ٹائیلٹ نہیں ہیں۔

معاشرے میں بڑھتی عدما مساوات کاعالم یہ ہے کہ گزشتہ 15برسوں میں 0.44فیصد سے بڑھ کر 0.55ہو گئی ہے اور ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس کے پیمانے پر پاکستان کا147ویں نمبر پر ہے۔ زراعت پر براہ راست سبسڈی کے بجائے اجناس کی سپورٹ پرائس میکانزم پر شفٹ ہونے کی وجہ سے کم آمدن والے گھرانوں کے لئے قیمتوں میں گرانی کے سبب خوراک کا حصول مشکل ہو تا جا رہا ہے ۔اگرچہ حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور یوٹیلیٹی سٹورز جیسے اقدامات تو کئے ہیں جو آبادی کے بڑے حصے کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔

دوسری جانب گھروں کی تعمیر عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ ان پر اٹھنے والے اخراجات ہوشربا ہیں۔ مڈل کلاس کے لئے گھر کی ملکیت کا تصور افورڈ نہ کرنے کے سبب مشکل ہوتا جا رہا ہے اور ایک چھت تلے بسنے والے افراد کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔ کم سے کم آمدن کے مقابلے میں ہاؤسنگ اور ریئل اسٹیٹ کی قیمتیں کئی ہزار گنا بڑھ چکی ہیں اور آسان قرضوں کی عدم دستیابی کے سبب ایک اوسط نوجوان فیملی کے لئے گھر بنانا خواب بن کر رہ گیا ہے۔ دوسری جانب قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے سبب ان کی آمدن میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے جن کے پاس پراپرٹی کی صورت میں اثاثے ہیں۔ یہ وہ طبقے ہیں جن کو سرمائے، اثاثہ جات اور دیگر سماجی اور معاشی سہولیات تک رسائی ہے اور وہ محروم طبقوں کے سر پر ترقی کر رہے ہیں۔ سرکاری شعبے میں چلنے والے ہسپتالوں اور سکولوں کی حالت دیدنی ہے جبکہ پرائیویٹ سکیٹر میں چلنے والے ادارے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کررہے ہیں مگران سکولوں میں غریب گھرانوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ نئے کاروباری خیالات پیش کرنے والوں کو بینک قرضہ اس لئے نہیں دیتے کہ ان کے پاس گارنٹی نہیں ہے۔

ماہر معیشت یہ سوال کرتے ہیں کہ ان سماجی کمیوں کو میکرواکنامک گروتھ سے کس طرح جوڑا جا سکتا ہے ؟ گزشتہ دو سے تین برسوں میں سیمنٹ، سٹیل، آٹوموبائیل، بینکوں، تجارت، ریٹیل اور ہول سیل کے شعبوں نے تو ترقی کی ہے لیکن عام آدمی نے نہیں کی!

بلاشبہ ہمارے ماہرین معیشت کی جانب سے کوالٹی آف لائف کے حوالے سے اٹھائے جانے والے نکات جاندار ہیں اور ایک ایسا تاثر پیدا کرتے ہیں جس سے گزشتہ 10برسوں میں 5فیصد سالانہ سے اوپر کی شرح نمو کی کامیابی ہیچ نظر آتی ہے ۔ ہم ان مایوس طبقوں سے صرف یہ گزارش کریں گے کہ ان کے علم میں ہونا چاہئے کہ زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ملک کی آبادی کا لگ بھگ ساٹھ ستر فیصد حصہ دیہی آبادیوں پر مشتمل ہے ۔ دیہی علاقوں میں بسنے والے افراد کی معیشت شہری آبادیوں کی معیشت سے مختلف ہوتی ہے ، ان کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں اور زندگی سے جڑی مختلف تعیشات ، جس کا شہر وں میں بسنے والی مڈل کلاس کو بھی بھرپور ادراک ہوتا ہے ، سے نہ تو انہیں آگاہی ہوتی ہے اور نہ ہی ضرورت....البتہ دیہی آبادیوں کے لئے سکولوں اور ہسپتالوں کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں ہے کہ دیہی علاقوں میں بنے ہوئے سکولوں اور ہسپتالوں میں معیارنام کی کوئی شے نہ ہوگی لیکن اس کا بہترین حل یہی ہو سکتا ہے کہ ان دیہی آبادیوں کو بڑے شہروں میں موجود سہولتوں سے جوڑ دیا جائے جس کے لئے سڑکوں کا وسیع و عریض جال کلیدی کردار ادا کرے گا۔ سی پیک کے تحت جس طرح ملک بھر میں موٹر ویز کا جال بچھایا جا رہا ہے اس سے پاکستان کی دیہی آبادیوں میں امید کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ انہیں اپنی صحت اور تعلیم سے متعلق مسائل کے حل کے لئے بڑے شہروں تک رسائی اب انتہائی آسان نظر آنے لگی ہے ۔ ایک مشہور قول ہے کہ کسی علاقے میں ترقی لے جانا ہو تو اس علاقے تک سڑک لے جائیے ، باقی سب کچھ خود بخود ہو جائے گا۔ خود وزیر اعظم پاکستان نواز شریف بھی کہہ چکے ہیں کہ جن کو سڑکوں کی تعمیر پر اعتراض ہے وہ بتائیں کہ دور دراز کے علاقوں میں ترقی کے وسائل پل بنا کر لے جائیں یا ہوائی جہاز پر ڈال کر لے جائیں ۔

چنانچہ ہم اپنے معیشت دانوں کی خدمت میں عرض کریں گے کہ جی ڈی پی گروتھ میں نمایاں ترقی میں کیڑے نکالنے کے ساتھ ساتھ ان معروضات پر بھی غور کیجئے جو درج بالا پیرے میں رکھی گئی ہیں۔ اس ضمن میں ایک اور دلچسپ چٹکلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ٹیکسٹائل سیکٹر کے سیٹھ یہ کہہ کہہ کر حکومت سے مراعات لیتے رہے ہیں اور بھاری قرضے معاف کرواتے رہے ہیں کہ اگر ان کی فیکٹریاں بند ہوگئیں تو ملک میں بے روزگار ی ہو جائے گی ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکسٹائل ملوں میں کام کرنے والوں کی اکثریت ایسے نوجوانوں کی ہے جن کا زراعت کے شعبے سے گہرا تعلق ہے اور جو وقت وہ ٹیکسٹائل ملوں میں لگاتے ہیں اگر وہی وقت اپنے کھیتوں میں لگاتے اور حکومت کسانوں کو براہ راست وہی مدد دیتی جو ٹیکسٹائل مل مالکان کو دیتی رہی ہے تو ہماری زراعت کب کی ماڈرن خطوط پر استوار ہو کر آج ٹیکسٹائل سے کہیں زیادہ ایکسپورٹ کر رہی ہوتی ۔

مزید : ایڈیشن 2