قطر اور ایران میں ٹیلی فونک رابطہ، باہمی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

قطر اور ایران میں ٹیلی فونک رابطہ، باہمی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

دوحہ/تہران (آئی این پی)قطر اور ایران نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے گزشتہ روز ایرانی صدر حسن روحانی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے انھیں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔ایرانی صدر کی ویب سائٹ کے مطابق امیر قطر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ہم دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہیں۔صدر حسن روحانی نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور قطر کے درمیان سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں تعلقات کو بڑھانے کے کافی مواقع موجود ہیں۔ہم دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ان مواقع کو اچھے طریقے سے بروئے کار لانا چاہیے۔شیخ تمیم نے یہ بھی کہا: ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ ایران اور قطر کے تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔واضح رہے کہ امیر قطر شیخ تمیم کے حالیہ متنازع بیانات کی وجہ سے ان کا خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ انھوں نے ایک فوجی تقریب سے اپنی تقریر میں علاقائی اور اسلامی ممالک کی سطح پر ایران کے کردار کو سراہا تھا اور اپنے طور پر عرب ممالک کو یہ مشورہ دیا تھا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کو بڑھاوا دینا دانش مندی نہیں ہوگی کیونکہ وہ ایک علاقائی سپر پاور ہے اور اس کے ساتھ تعاون کے ذریعے خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ ان کے بہ قول قطر ہمسایہ ممالک میں استحکام کے لیے ایران کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔قطر کی سرکاری خبررساں ایجنسی (کیو این اے)نے شیخ تمیم کے ان بیانات سے لاتعلقی ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی اور اس نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس کی سائٹ کو ہیک کر لیا گیا تھا لیکن اس کی یہ تمام کوشش ناکام رہی ہے ۔

اس کے رد عمل میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے قطر کے تمام میڈیا ذرائع کی ویب گاہوں پر پابندی عاید کردی ہے۔سعودی عرب نے الجزیرہ ، قطر نیوز ایجنسی ، الوطن ، الرایا ، العرب ،الشرق اور الجزیرہ میڈیا گروپ ، الجزیرہ ڈاکومینٹری ، اور الجزیرہ انگلش پر پابندی عاید کردی ہے۔ان ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات اور اخبارات اور خبررساں ایجنسیوں کی ویب گاہوں کو سعودی عرب کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں بھی نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔

مزید : عالمی منظر