عطائی نے محنت کش کی شادی شدہ بیٹی اغوا کر لی، زیادتی کا خدشہ، ڈاکٹر کلینک کو تالہ لگا کر غائب

عطائی نے محنت کش کی شادی شدہ بیٹی اغوا کر لی، زیادتی کا خدشہ، ڈاکٹر کلینک کو ...
عطائی نے محنت کش کی شادی شدہ بیٹی اغوا کر لی، زیادتی کا خدشہ، ڈاکٹر کلینک کو تالہ لگا کر غائب

  

لاہور (ویب ڈیسک) محنت کش کی 24 سالہ شادی شدہ نو مسلم بیٹی اغوا کرلی گئی لیکن نشتر کالونی پولیس  ایف آئی آر میں نامزد ہونے کے  باوجود عطائی ڈاکٹر کو گرفتار کرنے سے  گریزاں ہے جبکہلڑکی  کی والدہ غم سے نڈھال ہیں۔ تفصیل کے مطابق خادم اعلیٰ کے اپنے حلقہ انتخاب خالق نگر دولو کلاں کے رہائشی محنت کش محمد دین کے خاندان نے کچھ عرصہ قبل ہی اسلام کیا ہے۔ اس کی 24 سالہ نو مسلم شادی شدہ بیٹی مریم 18 اپریل کو شام پانچ بجے دوائی لینے کیلئے قریبی کلینک پر عطائی ڈاکٹر شہباز خان کے پاس گئی لیکن گھر واپس نہ آئی، اس دن سے ڈاکٹر شہباز بھی کلینک کو تالہ لگا کر غائب ہے۔

مریم کے شوہر اور والدین نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ڈاکٹر شہباز نے زیادتی کیلئے مریم کو غوا کر لیا ہے۔ سوسائٹی ہیومن رائٹس کے احتجاج پر پولیس تھانہ نشتر کالونی نے 23 اپریل کو مقدمہ درج کیا لیکن ڈاکٹر شہباز کا موبائل کھلا ہونے کے باوجود اسے گرفتار کرنے سے گریزاں ہے بچی کی بوڑھی والدہ بیٹی کے غم کی وجہ سے نڈھال ہو کر زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ ضیا شاہد کی سرپرستی میں قائم سوسائٹی فارہیومن رائٹس لاہور سرکل کے صدر محمد رشید اور باقی ممبران سے بات کرتے ہوئے مریم کے والد محمد دین کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے بچی کو ڈاکٹر کے چنگل سے آزادنہ کروایا تو میں اپنے سارے نومسلم خاندان سمیت خادم اعلیٰ ہاﺅس کے سامنے خودسوزی کر لیں گے۔

سوسائٹی فارہیومن رائٹس نے مریم کے اغوا کے بارے میں جاننے کیلئے تھانہ نشتر کالونی کے تفتیشی اے ایس آئی محسن شہزاد سے جب رابطہ کیا تو روایتی سا جواب ملا کہ ہم اس کیس پر کام کر رہے ہیں جلد مریم کو برآمد کر کے ملزم کو گرفتار کر لیں گے۔

مزید : لاہور