فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 104

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 104
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 104

  

جن دنوں لقمان صاحب نے پنجابی فلم ’’پتن‘‘ کی ہدایت کاری کا آغاز کیا تو سب نے بہت ناک بھوں چڑھائی کہ جو شخص ڈھنگ سے پنجابی زبان بول بھی نہیں سکتا۔ وہ بھلا پنجابی فلم کیسے بنائے گا۔ لقمان صاحب کا کہنا تھا کہ فلم کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ پنجابی، اردو، بنگالی سے کیا ہوتا ہے۔ ہماری اس زمانے میں لقمان صاحب سے بہت گاڑھی چھنتی تھی۔وہ عمر، تجربے اور مرتبے میں ہم سے بہت بڑے تھے۔ ابھی ہم نے قرینے سے فلم دیکھنی بھی شروع نہیں کی تھی جب وہ سہراب مودی اور شوکت حسین رضوی جیسے ہدایت کاروں کے معاون تھے۔ خودساز آدمی تھے۔ گھر سے فلم کے شوق میں بھاگ کر بمبئی پہنچے تھے اور اس زمانے کے کئی لوگوں کی طرح اپنی قابلیت اور محنت کے بل بوتے پر ہدایت کاروں کی صف میں شامل ہوگئے تھے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 103 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہ سچ ہے کہ انہیں پنجابی بولنی نہیں آتی تھی۔ جب ایک دن کسی صحافی نے ان سے یہ بات کہی تو وہ کہنے لگے ’’یار سننی تو آتی ہے نا‘‘۔

’’مگر آپ مکالمے کیسے سمجھیں گے؟‘‘

کہنے لگے ’’مجھے سمجھانے والے لوگ جو ہوں گے۔ وہ مجھے ترجمہ کرکے بتائیں گے‘‘۔

’’مگر آپ پنجابی تاثرات کیسے بتائیں گے؟‘‘

’’وہ تو خود ہی دیکھ لینا۔ یہ راز کی باتیں ہیںِ میں اس طرح نہیں بتاسکتا‘‘۔

ایک روز ہم نے بھی بڑی سنجیدگی سے ان سے کہا لقمان صاحب، آپ پنجابی فلم بنانے کھرے ہوگئے ہیں۔ سب کی نگاہیں آپ کی طرف لگی ہوئی ہیں‘‘۔

کہنے لگے ’’فکر نہ کرو، اللہ مالک ہے‘‘۔

اللہ پر لقمان صاحب کا یقین بہت پختہ تھا۔ ہم نے ایک بار لکھا تھا کہ ان میں اور ہدایت کار محبوب خاں میں بہت سی باتیں مشترک تھیں۔ دونوں نچلے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ محبوب صاحب ان پڑھ تھے جب کہ لقمان صاحب صرف اردو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ مگر مطالعہ تھا اور وہ بھی ادب اور شاعری کا۔ دونوں گھر سے بھاگ کر بمبئی پہنچے تھے۔ دونوں رنگین مزاج تھے۔ دونوں کا اللہ پر پختہ یقین تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کا صلہ بھی عطا فرمایا تھا۔

’’پتن‘‘۵۵۔۱۹۵۴ء کی فلم ہے۔ سنتوش کمار اور صبیحہ خانم کی جوڑی بن چکی تھی اور دونوں ہی محبوب فنکار تھے۔ اس وقت تک پنجابی فلموں میں قتل و غارت اور گنڈاسے کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا۔ رومانی اور ہلکے پھلکے موضوعات فلمائے جاتے تھے۔ اس لیے سنتوش کمار اور صبیحہ خانم کو اس فلم کے مرکزی کرداروں کیلئے چنا گیا تھا۔ صبیحہ خانم اپنی مصروفیات کی بنا پر مطلوبہ تاریخیں نہ دے سکیں تو ایک مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ شوٹنگ سر پر آگئی تھی اور ہیروئن کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔

ایک دن فلم ساز شیخ طلیف نے بتایا کہ انہوں نے ایک نئی لڑکی دریافت کی ہے۔

شیخ صاحب بہت ٹھنڈے مزاج ک�آدمی تھے، کہنے لگے ’’آپ اس کو دیکھ تو لیں اور مناسب سمجھیں تو اس کا ٹیسٹ بھی لے لیں۔ فیصلہ بعد میں کیجئے گا‘‘۔

دراصل شیخ لطیف اس لڑکی کو انور کمال پاشا کی فلم ’’قاتل‘‘ کیلئے بھی تجویز کرچکے تھے۔ وہ اس فلم کے بھی سرمایہ کار تھے۔ اس کی شوٹنگ بھی پہلے ہوئی تھی مگر ’’پتن‘‘ پہلے ریلیز ہوئی اور مسرت نذیر کی پہچان بن گئی۔ قاتل میں وہ سائڈ رول میں تھیں اس لیے فلم ہٹ ہوجانے کے باوجود قاتل کے حوالے سے انہیں زیادہ شہرت اور پذیرائی نہیں ملی۔

بات دراصل یہ تھی کہ شیخ لطیف گڑھی شاہو میں رہتے تھے۔ وہیں خواجہ نذیر صاحب رہتے تھے جو مسرت نذیر کے والد تھے۔ ان کی لکڑیوں کی ٹال تھی۔ بہت معقول اور شریف آدمی تھے۔ مسرت نذیر نے ریڈیو میں گانا شروع کیا تو شیخ لطیف کو بھی ان کی سن گن مل گئی۔ مسرت نذیر کا اداکارہ بننے کا ارادہ نہیں تھا او رنہ ہی انہیں شوق تھا مگر شیخ لطیف کے اصرار پر خواجہ نذیر مان گئے۔ اس طرح مسرت نذیر کو قاتل اور پھر پتن میں کاسٹ کرلیا گیا۔

مسرت نذیر کو دیکھا تو عین مین بنی بنائی پنجاب کی جٹی نظر آئیں۔دراز قد، متناسب لیکن دیہاتی سخت جان لڑکیوں جیسا جسم، خوب صورت چہرہ، دلکش آواز، ہنستی تھیں تو اور بھی اچھی لگتی تھیں۔ لقمان صاحب نے انہیں ٹیسٹ لیے بغیر ہی پاس کردیا۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ وہ شرماتی بہت تھیں۔ اداکاری کا بھی کوئی تجربہ نہیں تھا۔ چنانچہ فلم کے مصنف بابا عالم سیاہ پوش کو انہیں مکالموں کی ادائیگی سکھانے پر مامور کیا گیا۔ مسرت نذیر نے بابا عالم سیاہ پوش سے بہت جلد کام کی باتیں سیکھ لیں۔ بابا عالم سیاہ پوش کی عمر تو اس وقت زیادہ نہیں تھی مگر ان کی عادت تھی کہ ہر ایک کو بیٹا یا بیٹی کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کا ایک پاکیزہ اور قابلِ اعتبار امیج بن جاتا تھا۔

’’پتن‘‘ کی پہلی شوٹنگ کیلئے لقمان صاحب نے ایک رومانی منظر کا انتخاب کیا۔ مسرت نذیر کو سنتوش کمار کے ساتھ یہ رومانی منظر فلم بند کرانا تھا مگر انہیں اتنی شرم آئی کہ وہ ہاتھوں سے منہ چھپا کر بیٹھ گئیں اور صاف کہہ دیا کہ میں یہ سین نہیں کروں گی۔ جب لقمان صاحب نے زیادہ زور دیا تو وہ رونے لگیں۔ سیٹ پر ہنگامہ برپا ہوگیا۔ ظاہر ہے اگر ہیروئن سیٹ سے غائب ہوجائے اور کہے کہ مجھے رومانی سین کرتے ہوئے شرم آ رہی ہے تو پریشانی کی بات تو ہے۔ لقمان صاحب نے مسرت نذیر کو بہت سمجھایا۔ سنتوش کمار نے بھی سمجھایا کہ یہ سب تو مصنوعی ہے۔ جھوٹ موٹ کی باتیں ہیں۔ ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ مگر مسرت نہ مانیں۔ بابا عالم سیاہ پوش کی سبھی بہت عزت کرتے تھے۔ انہوں نے خاص طور پر مسرت نذیر کو ایک لیکچر دیا۔ مسرت گھبرائی گھبرائی سیٹ پر آ تو گئیں مگر توقع نہیں تھی کہ وہ صحیح طریقے پر ایکٹنگ کرلیں گی۔ کچھ سنتوش کمار نے تعاون کیا کچھ ہدایت کار نے اور اس منظر کی فلم بندی کا آغاز ہونے لگا۔ مسرت نزیر نے بڑی مشکل سے رومانٹک مکالمے ادا کیے اور پھر خاموش ہوگئیں۔

’’بھی اب کیا ہوا؟‘‘ لقمان صاحب نے پوچھا۔

’’مجھے شرم آ رہی ہے۔ آپ ان سب لوگوں کو سیٹ پر سے باہر بھیج دیں‘‘۔

لقمان صاحب ہنسنے لگے ’’یہ لوگ نہیں ہیں، یونٹ کے ارکان ہیں۔ ان کے بغیر تو شوٹنگ ہو ہی نہیں سکتی‘‘۔

’’تو پھر میں نہیں کروں گی شوٹنگ۔ مجھے تو سنتوش صاحب سے بھی شرم آ رہی ہے‘‘۔

سنتوش صاحب نے کہا ’’تم کوشش تو کرو۔ میں آنکھیں بند کرلوں گا۔ تمہیں دیکھوں گا ہی نہین۔اور یہ سب لوگ بھی آنکھیں موند لیں گے‘‘۔

یہ بات مسرت کی سمجھ میں آگئی۔ خدا خدا کرکے پہلا شاٹ مکمل ہوا تالیاں بجیں۔ مبارک بادیں دی گئیں اور اس طرح پاکستان کی فلمی صنعت کو ایک نئی ہیروئن مل گئی جو آنے والے زمانے میں پاکستان کی صف اول کی اداکارہ بن گئی۔ بعد میں سنتوش صاحب مذاق میں کہا کرتے تھے ’’دیکھا مسرت۔ تمہیں کیسا بیوقوف بنایا؟ آخری ہماری باتوں میں آگئیں نا؟‘‘

مسرت کہتی ’’بے وقوف تو میں نے سب کو بنایا تھا۔ مجھے شرم ورم کچھ نہیں آرہی تھی۔ بس ایسے ہی پریشان کر رہی تھی‘‘۔

حقیقت یہ تھی کہ مسرت نذیر میں بقول رضا میر صاحب وہ تمام اوصاف پائے جاتے تھے جو ایک اچھے مرد دوست میں ہونے چاہئیں۔ مثلاً وہ ہر کام میں دوسروں کے ساتھ پیش پیش رہا کرتی تھیں۔ لڑکیوں کی طرح بلاوجہ ناز نخرے بالکل نہیں کرتی تھیں خواتین کے مقابلے میں وہ مردوں کی محفل میں بیٹھنا اور گپ شپ لگانا زیادہ پسند کرتی تھیں۔ لطیفہ بازی اور ہوٹنگ کے معاملے میں کسی سے کم نہیں تھیں۔ دوسروں پر تو فقرے بازی کرتی ہی تھیں۔ مگر خود اپنے آپ پر بھی ہنس لیتی تھیں۔ تھوڑے ہی دن کے اندر مسرت نذیر سارے یونٹ کی پسندیدہ شخصیت بن گیں۔ کبھی ریکارڈنگ ٹرک میں ساؤنڈ ریکارڈسٹ افضل حسین صاحب وار رضا میر کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی ہیں تو کبھی ایڈیٹنگ روم میں بیٹھی ایڈیٹنگ کے رموز و اسرار کے بارے میں دریافت کر رہی ہیں۔ کیمرے کے پاس پہنچی ہیں تو عکاس رضا میر صاحب سے کیمرے اورفوٹو گرامی کے بارے میں سوال کر رہی ہیں۔ ہ شرارت میں وہ سب کے ساتھ اور شانہ بشانہ ہوتی تھیں۔ دراصل ان میں بے جا جھجک اور خواہ مخواہ کا نخرہ بالکل نہیں تھا۔ جن باتوں پر دوسری خواتین برامان کر بات چیت کرنا بند کرسکتی تھیں ان کو مسرت انجوائے کرتی تھیں۔ بلکہ جب کوئی ان کی بات پار ناراضگی کا اظہار کرتا تو وہ ہنس کر کہتی تھیں ’’آپ تو خواہ مخواہ عورتوں کی طرح برا مان گئے‘‘۔

پتن کی شوٹنگ شاہ نور اسٹوڈیو کے علاوہ مسلم ٹاؤن میں نہر کے سامنے والے اسٹوڈیو میں بھی ہوتی تھی۔ یہ اسٹوڈیو فرخ شاہ صاحب کی ملکیت تھا۔ اس زمانے میں یہاں خوب رونق رہا کرتی تھی۔ فلم سے متعلق زیادہ تر لوگ اس زمانے میں مسلم ٹاؤن اور گردو نواح میں ہی رہتے تھے اس لیے انہیں آمد و رفت میں آسانی تھی۔ اسٹوڈیو کے بالکل سامنے نہر بہہ رہی تھی۔ اس لیے دریا کے مناظر اور رومانی مناظر فلمانے کی بھی آسانی تھی۔ اگر جنگل کا سین فلمانا ہو تو اسی نہر پر ٹھوکر نیاز بیگ کی طرف تھوڑے آگے نکل جاؤ تو بالکل ویرانہ تھا۔ آس پاس کھیت اور درخت تھے۔ آدمی نہ آدم زاد، بڑے آرام سے فلم والے شوٹنگ کرنے میں مصروف رہتے تھے اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 105 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ