نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

  

کرسی نام ہے اس بے پناہ طاقت کا جس کی تمام جہانوں پہ اجارہ داری ہے ۔ نظام آسمانوں کا ہو یا عام زمینوں کا ہر چیز پہ حاوی اس کی قدرت اپنے آپ کو منواتی ہے ۔ ہے کوئی جو اس کے حکم کے خلاف دم مار سکے ۔وہ کن کہے تو زمین کی ہستی پہ کچھ نہ ہو ناممکن ہے ۔وہ چاہے  تو زمین کے سینے پہ گل کھلا دے وہ چاہے تو وہ باد صموم چلادے یا تباہی و بربادی سب کا مقدر بنا دے ۔وہ کہاں جواب دہ ہے اور ہے کوئی جو اس کے حضور اس کی منشا پہ کوئی سوال اٹھا دے ۔ بس اس کی بندگی ہی میں زندگی ہے ۔ وہ بے نیاز واحد مالک ہے اپنی مرضی کا کہ تمام خدائی سر جھکائے اس کے حکم کی منتظر ہے ۔تپتے صحرا ہوں یا ان میں بسے نخلستان ۔ گل ہوں یا اجڑے گلستان سب اسی کی منظور ِنظر ہے ۔ وہ یکتا ہے وہ یزداں ہے ۔ نہ کوئی باپ ہے اس کا نہ کوئی بیٹا اور نہ اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند ۔ غرض اس کو ہر طرح کا اختیار، اقتدار اور استثنا حاصل ہے ۔

مالک ایزدی نے انسان کو عقل و دانش عطا کی اسے سوچنے سمجھنے طاقت دی اور اسے فائدہ و نقصان بتلایا ۔اسے حق اور باطل کا رستہ دکھلایا اور کرہ ارض پہ اپنا خلیفہ بنایا ۔ انسانی بھلائی ۔رفاقتوں کی سچائی اس کا نصب العین ٹھہرایا ۔حقوق العباد وضع کئے اور نجات کا طریقہ سکھلایا ۔غرض انسانی حقوق کی انجام دہی میں کسی کو استثنا نہ دے کر اس مقام پہ فائز فرمایا جو ایک صادق اور امین انسان کا اعزاز ہے اور اس کی نعمتوں کا فیضان بھی ہے ۔                                                                                      وطن عزیز میں پھر ہر روز صاحب ِ حکومت کے استثنا کی باتیں ہو رہی ہے ۔  کہیں پہ ریڈ زون ہے تو کہیں  صاحب ِ حیثیت کے تزک و احتشام کے چرچے- کہیں بنیادی حقوق کی بات ہو تو آنسو گیس کے شیل برسا دو تو  کہیں کسی کو ہر پوچھ گچھ سے ماوراء ٹھہرا دو-جب کرپشن کے الزام میں قید صاحب ضمانت پہ  جیل سے نکلیں تو انہیں  اپنی  سرکاری رہائش گاہ بلا لو اور قومی تعلیمی پالیسیاں  کو حاصلِ بحث ٹھہرا دو-بات کسی کے گریبان پہ پہنچے تو تار تار کردو لیکن جب اپنے گریبان  پہ ہاتھ پڑے تو استثنا  جتا دو- جی ہاں  یہاں تو ہر کوئی اپنا اپنا استثنا جتاتا اپنے اپنے عہدے پہ براجمان ہے ۔ حکومتی دفاتر میں ایک کلرک سے لے کر صاحب تک  کو حاصل استثنا ہی تو مسائل کے حل میں ایک رکاوٹ ہے ۔ اور یہی استثنا مختلف دفاتر میں ہر کام کے دام متعین کرتا ہے ۔ رتبے کے مطابق لگتی قیمت اور پیسوں پہ بکتے جائز عوامی حقوق کس کا رونا رو رہے اور حرف شکایت لب آتے ہی سائل کی بنی درگت پکار پکار کے کہتی ہے کہ صاحب عوامی اداروں میں سب کو استثنا حاصل ہے ۔ بس پیسے دو مراعات لو ۔ پھر معاملہ جھوٹ کا ہو یا لوٹ کھسوٹ کا ہر صاحب حیثیت قانون کی پہنچ سےباہر ہے ۔

ریاست مدینہ جس کا طرز حکومت اس ملک کی اساس تھا وہ کہیں کھو گیا ہے ۔یہ فضائیں وہی ہاتھ ڈھونڈتی ہیں کہ جو جواب دہی کے لیے گردن میں  کپڑا ڈال  کے کچھ ایسے کس دیں کہ  آنکھیں باہر آ جائیں- یا منبر پہ کھڑا ہونے سے پہلے حاصل مراعات کا سوال داغ دیں ۔ حضرت محمد ﷺکی کسی تجویز پہ ہوتی بحث ہو یا کسی جنگ کے لئے حکمت عملی کی تیاری ہر کسی کی بات سنی جائے ۔ پیٹ پہ پتھر باندھے خندق کھودتےمیرےنبیﷺ کب مانگ رہے ہیں اپنے نبی ہونے کا استثنا ۔تاریخ اٹھا کے دیکھیں اور سوچیں کہ میرے نبی کی بیٹی بھی اگر چوری کرے تو ہاتھ کٹ جانے کی سزا کا تذکرہ ہو یا عمر کے بیٹے کو کوڑوں کی سزا  -ہمیں صرف مساوات ہی لکھی دکھائی دے گی ۔ بیت المقدس کا سفر ہو یا محکوم علاقے میں داخلہ پیش نظر شان و شوکت یہ ہے کہ آقا لگام پکڑے اور خادم سوار ہو ۔ نہیں حاصل استثنا عمر کو یا عدالت میں سزا پاتے خلیفہ ءوقت علی کو ۔ ابو بکر صدیق خلیفہ  کے رتبہ پر متمکن ہوئے - ضمیر کی عدالت لگی نہیں مانگا استثنا چھٹ گیا کاروبار اور ایک عام مزدور کی مراعات شروع اور ایک عام شہری کے واجبات شروع ۔حضرت عثمان کو محبوب کی قربت کیا مل گئی دنیاوی دولت ڈال دی نبی کے قدموں میں نہیں مانگا دولت پہ استثنا ہو گئے شروع بہبود آبادی کے شغل اور کہلائے غنی ۔ عرب کی گلیاں کب بھولی تھیں وہ لباس اور خوشبوئیں -پر جب عمر بن عبدالعزیز خلافت پہ فائز ہوئے نہیں تقاضا ہوا کسی استثنا کا ۔قیمتی خوشبوؤں سے رچے لباس اتر گئے  اور  سج گئےجسم پہ فقر کے چیتھڑے ۔ تو پھر آج کس چیز کا استثنا لکھا جارہا ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں -یہ عام آدمی کی سمجھ سے بالااشرافیہ کے چونچلے ہی تو ہیں ۔ اشرافیہ کو حاصل یہ استثنا کیوں ایک غریب کی غربت کا مذاق اڑاتا ہے اور کیوں اسے اس کی اوقات یاد دلاتا ہے ۔ جیل کے عقوبت خانے کیوں اس کا مقدر ہیں ۔ مسرت ، شادمانی اور خوشحال زندگی کے حصول میں قصوروار استثنا کا متلاشی ایک شہری جب موت کو سینے لگاتا ہے تو وہ کب اپنے لئے رحم و کرم مانگتا ہے وہ تو مساوات کا بھکاری ہے اور عدالتوں سے انصاف کا متمنی ہے۔

 خدارا یہ استثنا کا ڈھونگ اور غرور کا بت گرا دیجئے ۔ جس نے ظلم کیا ہے اسے قانون کے دائر ہ کار میں لے آئیے اور  تشکیل دیجیےحق و صداقت  کا وہ معاشرے میں جہاں صرف بے گناہ استثنا پاتا ہے اور مجرم قرار واقعی سزا - یہی وہ راز ہے جو ریاست مدینہ کی عظمتوں میں  پنہاں  ہے۔                                                                                

 .

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ