پیر مکّی کی درگاہ پر چند گھڑیاں

پیر مکّی کی درگاہ پر چند گھڑیاں
پیر مکّی کی درگاہ پر چند گھڑیاں

  

لاہور کا شمار دنیا کے سب سے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ یہ شہر ثقافت کے ساتھ تاریخی حوالے سے بہت مشہور ہے ۔یہاں بزرگان دین کے بہت سے مزارات ہیں جہاں مخلوق خدا تسکین قلب کے لئے منتیں مانگنے آتی ہے اور زیارت کرکے فیض روحانیت حاصل کرتی ہے۔ روایت یہ ہے کہ شہر لاہور میں تقریباًچار سو کے قریب اولیاء اللہ محوِ اِسراحت ہیں۔ خاص کر میانی صاحب میں ان کی تعداد تین سو سے زیادہ ہے۔ اس شہرمیں حضرت سیدنا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ المشہور حضرت داتا گنج بخش ، حضرت سید ابو الفیض میراں حسین زنجانی ، حضرت میا ں میرؒ ، حضرت شاہ محمد غوثؒ ، حضرت میراں موج دریا بخاریؒ ، حضرت مادھو لال حسینؒ ، حضرت طاہر بندگیؒ ،حضرت ابو الفیض قلندر علی سہروردی ، حضرت شاہ جمال قادریؒ ، حضرت شاہ ابو المعالیؒ ، حضرت شاہ عنایت قادریؒ کے علاوہ بے شمار اولیاء اللہ مرجع خلائق برائے فیوض و برکات لاہور میں مدفن ہیں۔ان میں سے ایک روحانی آماجگاہ حضرت پیر مکّی کی بھی ہے جہاں زیارت کرنے اور اپنی امیدیں پوری کرنے کیلئے ہر روز لاکھوں لوگ آتے اور دعائیں مانگ کے چلے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ چار چار دن اسی جگہ پہ گزارتے ہیں۔

سید عزیز الدین پیر مکّی جنیدی لاہور کے قدیم اکابر اولیاء میں سے ایک ہیں۔ان کا اصل نام عزیز الدین تھا جبکہ ان کے والد کا نام سید عبد اللہ تھا۔آپؒ وطن بغداد سے نکل کر بارہ سال مکہ معظمہ میں رہے اور اس کے بعد لاہور آئے تو مقامی لوگوں نے اس لیے اسے پیر مکّی کا نام دے دیا اور آپؒ اسی نام سے لاہور میں اس وقت سے آج تک مشہور ہیں۔

جب میں دوستوں کے ساتھ پیر مکّی کے مزار میں داخل ہوا تو ہزاروں زائرین مجھ سے پہلے درگاہ کے اندر موجود تھے۔ سب لوگ دروازے پہ پانچ روپے پاپوش(جوتوں ) کے جمع کروا کے اندر داخل ہو رہے تھے تو ہم چار دوستوں نے مشورہ کیا کہ ان کو پانچ روپے دینے کے بجائے خود ٹافیاں خرید لیں تو اچھا ہے ۔سو ہم نے دو دو بندے درگاہ میں جانے کا عزم کر لیا۔ پہلے ہمارے دو دوست گئے پھر آدھے گھنٹے بعد واپس آئے تو ہم درگاہ میں داخل ہوئے تو پولیس والا یہ دیکھ کے حیران تھا کہ ہمارے پاپوش کہاں ہیں۔ وہ خراب خراب نظروں سے ہماری طرف دیکھ رہا تھا۔

ہم جیسے اندر داخل ہوئے تو بڑے سائیں دعا مانگ رہے تھے۔ ہم نے بڑے سائیں کی پکچر نکالی تو بڑے سائیں نے منہ تک اوپر نہ کیا، کیوں کہ وہ دعا میں مصروفتھے۔

وہاں موجود ایک چھوٹی لائبریری تھی جس نے ہمیں اپنی طرف کھینچ لیا مگر تالا ہمارے سامنے آ گیا۔ ہم نے پیچھے مڑ گئے اور وہاں موجود لوگوں سے پیر مکّی کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو کچھ معلومات ملیں ۔انکے بقول حضرت پیر مکّیؒ کو رسول کریم ﷺ نے ہندوستان جانے کا اشارہ غیبی طور پرفرمایا اورآپؒ 575ھ بمطابق 1179ء میں لاہور تشریف لائے۔ اس وقت لاہور کا حاکم خسرو ملک تاج الدولہ غزنوی تھا جو خاندان غزنویہ کا آخری حکمران تھا۔سلطان محمد غوری لاہور کا محاصرہ کر رہا تھا۔ حاکم لاہور خسرو ملک نے آپؒ سے دعا کی درخواست کی تو آپؒ نے فرمایا کہ ابھی چند سال تمہیں امان ہے۔ اس کے بعد حکومت غوریوں کی ہو جائے گی۔ چنانچہ اسی طرح ہوا۔ محمد غوری محاصرہ اٹھا کرسیالکوٹ کی طرف چلا گیا اور چھ سال بعد 580ھ میں لوٹا۔

جب میں زائرین سے حضرت پیر مکّی کے بارے میں معلومات لے رہا تھا کہ اسی لمحہ ایک فقیر نے میری ٹانگ پکڑی اور کہنے لگے

’’جھوٹ بول کر بھروسا توڑنے سے بہتر ہے کہ سچ بول کر رشتہ توڑ دیا جائے ۔رشتہ پھر جڑ جائے گا لیکن بھروسا کبھی نہیں جڑتا ‘‘

میرے بھائی دس روپے کے نوٹ کا سوال ہے ۔میں نے اسکو دس کے بجائے سو روپے کا نوٹ دیااور دل میں سوچا کہ یہ پڑھا لکھا فقیر ہے اور کہتا سچ ہے۔ اس وقت ایک اوربزرگ شخص سے بات چیت کی تو اس نے کہا کہ بقول لاہوریوں کے پیر مکّی نے چھتیس سال تک رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری رکھا اور ایک عالم آپؒ سے فیض یاب ہوا۔ بالآخر 612 ھ بمطابق 1215ء میں وفات پائی۔ وفات شمس الدین التتمش کے دور میں ہوئی ۔آپؒ کا مزار مبارک بھاٹی گیٹ سے آگے راوی روڈ پر ایک گلی میں واقع ہے۔جس پر گنبد بنا ہوا ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ