رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی لاکھوں سعودیوں نے انٹرنیٹ پر کس ’غیر قانونی‘ چیز کی تلاش شروع کردی؟ جواب ایسا جو کوئی خوابوں میں بھی تصور نہیں کرسکتا

رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی لاکھوں سعودیوں نے انٹرنیٹ پر کس ’غیر قانونی‘ ...
رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی لاکھوں سعودیوں نے انٹرنیٹ پر کس ’غیر قانونی‘ چیز کی تلاش شروع کردی؟ جواب ایسا جو کوئی خوابوں میں بھی تصور نہیں کرسکتا

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب میں گھریلو ملازماﺅں کی ڈیمانڈ اگرچہ پہلے ہی بہت زیادہ ہے لیکن رمضان المبارک میں اس میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل سعودی عرب میں گوگل پر غیرقانونی گھریلوملازماﺅں کی تلاش اپنے عروج کو جا پہنچی جہاں سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق 4لاکھ 67ہزار لوگوں نے ”سعودی عرب میں گھریلوملازمہ کی تلاش‘ ‘ 2لاکھ 57ہزار لوگوں نے ”گھریلو ملازمہ کی سپانسرشپ کی منتقلی“ اور”ایک مہینے کے لیے گھریلو ملازمہ کی ضرورت“ جیسے فقرے لکھ کر تلاش کی۔

ماہ رمضان کی آمد سے قبل ہی ایجنٹ بہت متحرک ہو جاتے ہیں تاکہ لوگوں کی گھریلو ملازماﺅں کی ضرورت پوری کر سکیں لیکن اس کے باوجود انٹرنیٹ پر تلاش اس قدر بڑھ جانے سے اشارہ ملتا ہے کہ ملک میں گھریلوملازماﺅں کی ایک تیزی سے بڑھتی بلیک مارکیٹ بھی موجود ہے۔ملک میں گھریلوملازماﺅں کی سپانسرشپ کی منتقلی کی فیس بڑھ کر 15ہزارریال سے 35ہزار ریال تک جا پہنچی ہے، جو ملازماﺅں کی قومیت کے تناسب سے مختلف ہو سکتی ہے۔

’ میں گیارہویں جماعت میں پڑھتی تھی کہ اس لڑکی سے دوستی ہوئی ، پھر ایک دن اس نے مجھے ایک میموری کارڈ دیا، گھر جا کر جب اسے کھولا تو پوری زندگی ہی تبدیل ہو گئی کیونکہ اس میں۔۔۔ ‘ نوجوان لڑکی نے اپنی ایسی کہانی بتادی کہ جان کر تمام والدین شدید پریشان ہو جائیں گے

رمضان المبارک میں مانگ میں اضافہ ہونے کی وجہ سے ملازماﺅں کے معاوضے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اکثر ملازمائیں تنخواہ کی بجائے گھنٹوں کے حساب سے معاوضہ طلب کرتی ہیں۔ گھر کے سائز اور خاندان کے حجم کے لحاظ سے فی گھنٹہ ان کا معاوضہ 25سے40ریال تک ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک ملازمہ ماہ رمضان کے درمیان 8سے 9ہزار ریال کما لیتی ہے۔

مزید : عرب دنیا