بحرینی شاہی خاندان کی اہم شخصیت نے کس کام کے بدلے بالی ووڈ فنکاروں کو 4 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا؟ عیاشی کی ایسی داستان جس کی دنیا میں کوئی مثال نہ ملے

بحرینی شاہی خاندان کی اہم شخصیت نے کس کام کے بدلے بالی ووڈ فنکاروں کو 4 ارب ...
بحرینی شاہی خاندان کی اہم شخصیت نے کس کام کے بدلے بالی ووڈ فنکاروں کو 4 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا؟ عیاشی کی ایسی داستان جس کی دنیا میں کوئی مثال نہ ملے

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)عرب شیوخ کی عیش پرستی کے قصے آپ نے بہت سنے ہوں گے لیکن بحرین کے ایک شیخ کے خلاف لندن میں دائر کیے گئے مقدمے میں ان کی شاہ خرچیوں کے ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں کہ دنیا کے امیر ترین افراد بھی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بحرینی شیخ حماد عیسیٰ علی الخلیفہ کے خلاف مصر کے ایک بزنس مین احمد عادل عبداللہ نے سوا چار کروڑ ڈالر (تقریباً سوا 4 ارب پاکستانی روپے ) ہر جانے کا دعویٰ کیا ہے ۔ لندن کی عدالت میں دائر کئے گئے مقدمے میں بزنس مین احمد عادل عبداللہ کا کہنا ہے کہ بحرینی شیخ نے 26 بالی ووڈ سٹارز کے ساتھ ملاقات کے عوض انہیں یہ رقم دینے کا معاہد ہ کیا تھا۔ ان میں سے چار چوٹی کے فلمسٹاروں سے شیخ ملاقات کرائی گئی، جن میں شاہ رخ خان بھی شامل تھے۔ درخواست گزار کے مطابق اس کے بعد بحرینی شیخ معاہدے سے پھر گئے اور باقی سٹارز سے ملاقات سے انکار کر کے انہیں لاکھوں ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ درخواست گزار کے مطابق ہر فلمسٹار سے شیخ کی 15 سے 25 منٹ کی ملاقات کے عوض اسے 15 لاکھ ڈالر (تقریباً 15 کروڑ پاکستانی روپے ) ملنے تھے، جبکہ ہر تیسری ملاقات پر اسے 5 لاکھ ڈالر ( تقریباً 5کروڑ پاکستانی روپے) کا بونس بھی دیاجانا تھا۔

”میں تمہیں طلاق دینا چاہتی ہوں کیونکہ اب مجھے تم پسند نہیں بلکہ تمہارے۔۔۔ “بیوی نے ایک دن فون کر کے شوہر سے ایسی شرمناک ترین بات کہہ دی کہ کبھی تصور نہ کر سکتے تھے، معاملہ عدالت پہنچا تو جج کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

مصری بزنس مین کا کہنا ہے کہ اس نے چار بالی وڈ سٹارز کے ساتھ بحرینی شیخ کی ملاقاتیں ممبئی اور دبئی میں کرائی تھیں، اور باقی سٹارز کے ساتھ ملاقاتوں کا بھی اہتمام کر لیا تھا لیکن بحرینی شیخ نے یہ سلسلہ جاری رکھنے سے انکار کر دیا ہے ۔ بزنس مین کے مطابق بالی ووڈ کے مہنگے ترین فلمسٹارز سے وقت لینے اور انہیں بحرینی شیخ کے ساتھ ملاقات پر تیار کرنے کیلئے اس کے بے پناہ اخراجات ہو چکے ہیں ۔

دوسری جانب بحرینی شیخ نے لندن میں دائر کیے جانے والے مقدمے کے خلاف حکم امتناع لینے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ ان کا مﺅقف تھا کہ ان کے خلاف بحرین میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے ، تاہم برطانوی عدالت کا کہنا تھاکہ لندں میں بھی مقدمہ چل سکتا ہے۔ مقدمے کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز جلد متوقع ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس