’’غیر ہوئے اپنے‘‘

’’غیر ہوئے اپنے‘‘
’’غیر ہوئے اپنے‘‘

  



عمران خان دو سال بعد پارلیمینٹ میں تشریف لائے تو ان کی آمد کو نمایاں خبر کے طور پر اچھالا گیا۔۔۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا۔

’’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘‘

کسی رکن اسمبلی کا اسمبلی میں آنا کوئی خبر نہیں۔ بلکہ اس کا اسمبلی میں بلا جواز نہ آنا۔۔۔ خبر ہے۔ عمران خان تو ایک عرصے سے قومی اسمبلی کے نام پیغام بھیج رہیتھے کہ

ان کے پاؤں میں مہندی لگی ہے

آنے جانے کے قابل نہیں ہیں

عمران خان کا قومی اسمبلی کے ساتھ رویہ ہمیشہ سے ہی توہین آمیز رہا ہے۔ انہوں نے اسی اسمبلی کے بارے میں کہا کہ وہ لعنت بھیجتے ہیں۔۔۔ یہی الفاظ شیخ رشید نے بھی ادا کئے تھے۔

عمران خان نے تو اپنی جماعت سمیت استعفیٰ بھی دے دیا تھا شیخ رشید نے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔۔۔ مگر دونوں اپنے عہد پر قائم نہ رہ سکے ایاز صادق جو ہمیشہ عمران خان کی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔۔۔ اور عمران خان نے ان کے خلاف دھاندلی کا الزام لگایا۔۔۔ اور پھر عدالت نے ایاز صادق کا الیکشن کالعدم قرار دے دیا۔ ضمنی الیکشن میں علیم خان امیدوار تھے انہوں نے بہت زور ہی نہیں بہت مال بھی لگایا مگر نا کام ہوئے۔ ایاز صادق دوبارہ کامیاب ہوئے اور اپنے خلاف فیصلہ سنانے والوں اور طوفان اٹھانے والے دونوں کو شرمندہ کیا۔۔۔ اور دوبارہ قومی اسمبلی کے سپیکر بن گئے۔۔۔ حیرت انگیز طور پر اسی ایاز صادق نے پوری کوشش کی کہ تحریک انصاف کے اراکین پارلیمینٹ دوبارہ سے پارلیمینٹ میں آ جائیں اور اپنے استعفے واپس لے لیں۔۔۔اس حوالے سے قانون دانوں نے ایاز صادق پر تنقید بھی کی کہ جب کوئی رکن استعفیٰ دے دیتا ہے تو پھر اسے پارلیمینٹ سے فارغ سمجھا جاتا ہے اور ضمنی الیکشن ضروری ہو جاتا ہے۔۔۔ مگر ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کے ساتھ مل کے تحریک انصاف کو اسمبلی سے آؤٹ ہونے سے بچایا اور اپنے اوپر الزام بھی لگوایا۔۔۔ اب بھی ایسے قانون دان موجود ہیں۔۔۔ جو اصرار کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی ایاز صادق کی مہربانی سے واپس آئے۔

آئین اور قانون میں ان کی گنجائش نہیں تھی بہر حال عمران خان اسمبلی میں آئے۔ وہ آئے، تو ان کے چہرے اور گفتگو سے اندازہ ہوتا تھا کہ با امر مجبوری انہوں نے ’’ کوڑا گھٹ ‘‘ بھرا ہے۔۔۔ عمران خان کو اسمبلی میں لانے کا کریڈٹ مسلم لیگ (ن) کو دیا جانا چاہئے۔۔۔ جو بہت پہلے فاٹا کے کے پی کے میں انضمام کے حوالے سے میاں نوازشریف کے وقت سے فیصلہ کر چکی تھی گزشتہ دو اڑھائی سال سے اس پر کام ہو رہا تھا۔۔۔ بہت سی آئینی اور قانونی رکاوٹوں کو دور کیا جا رہا تھا۔۔۔ بعض سیاسی رکاوٹیں بھی تھیں جنہیں دور کرنے کے لئے کوششیں برابر جاری تھیں وزیراعظم عباسی بتا رہے تھے کہ فاٹا کے نو ممبران گزشتہ رات تک انضمام کے حق میں تھے مگر پولنگ کے وقت ان کی تعداد کم ہو گئی فاٹا کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی کا ایک ہی موقف تھا۔۔۔ مگر اسمبلی میں موجود دیگر تمام پارلیمانی جماعتوں نے حکومت کا ساتھ دیا۔۔۔ اور یہ بل اکثریت سے منظور ہو گیا فاٹا جسے ’’علاقہ غیر‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے علاقہ غیر کو ’’اپنا علاقہ‘‘ منوانے کے لےء جو محنت کی اس پر وہ مبارک باد کی مستحق ہے۔

فاٹا اب فاٹا نہیں کہلائے گا۔۔۔ بلکہ مختلف اضلاع کے نام سے پکارا جائے گا۔۔۔ وہاں کی زندگی میں ایک تبدیلی آئے گی۔۔۔ اور سیاسی و سماجی شعور بھی بلند ہوگا۔۔۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان کا علاقہ ہونے کے باوجود فاٹا کے لوگ انگریز کے قانون کے تابع تھے ایک عام آدمی مقامی ملکوں کے حکم کا غلام تھا۔۔۔ اگر کوئی ان ملکوں کے خلاف آواز بلند کرتا۔۔۔ تو اسے خاندان سمیت نتیجہ بھگتنا پڑتا تھا۔۔۔ کسی گھر کا کوئی فرد اگر کسی بھی طرح کی غلطی کرتاتو سزا پورے قبیلے کو دی جاتی تھی۔۔۔ اور اس خاندان یا قبیلے پر باقاعدہ لشکر کشی کرتے ہوئے انہیں تباہ و برباد کر دیا جاتا تھا۔۔۔ ایک عام آدمی ان حالات کو بدلنے کی سوچ تو رکھتا تھا مگر بدل نہیں سکتا تھا۔۔۔ سو وہ اس ’’اندھیر نگری‘‘ میں خاموشی سے اپنے دن گزار رہا تھا۔۔۔ فاٹا کے لوگ زندگی کی بنیادی ضروریات سے ابھی تک محروم ہیں۔۔۔ پانی، بجلی، گیس، ہسپتال، تعلیم کا تو وہاں نام و نشان تک نہیں ہے۔ معاشی طور پر بھی عام لوگ بد حالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔ وہاں کے لوگ ہزاروں سال پہلے کی رویات کے ساتھ بندھ کے جی رہے تھے سو وہاں کے لوگوں کو قومی دھارے میں لانا اور انہیں زندگی کے روشن راستوں کی طرف گامزن کرنا یقینی طور پر حکومت کے فرائض میں شامل تھا۔۔۔ مگر کسی حکومت نے بھی وہاں تبدیلی لانے کی کوشش نہ کی۔۔۔ اور وہاں کے لوگ محروم رہے۔۔۔ نوازشریف ان علاقوں کی تقدیر بدلنے اور وہاں خوشی لانے کے لئے بہت سنجیدہ تھے۔۔۔ کہا جا سکتا ہے کہ فاٹا کے عوام کو قومی دھارے میں لانے کے لئے نوازشریف نے سنجیدگی کے ساتھ کوشش کی۔۔۔ اور ان کی جماعت نے اپنے قائد کی خواہش کو پورا کیا۔۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان نے جو سو دن کا پروگرام دیا ہے۔۔۔ اس میں ایک اہم نکتہ فاٹا کا انضمام اور جنوبی پنجاب صوبہ کا قیام بھی شامل ہے۔۔۔ مگر مسلم لیگ (ن) نے عمران خان کی یہ مشکل حل کر دی ہے اور فاٹا کو کے پی کے میں شامل کر دیا ہے عمران خان کو چاہئے کہ وہ اپنی حکومت کے آخری چند دنوں میں ہزارہ والوں کے مطالبے کو بھی اپنے ’’ سو دن‘‘ کے پروگرام میں شامل کریں۔۔۔ جس طرح انہوں نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے قیام کے مطالبے کو شامل کیا ہے۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلم لیگ (ن) والے یہ دونوں مطالبے بھی اپنے کھاتے میں ڈالتے ہوئے کریڈٹ لے جائیں۔۔۔ کریڈٹ سے مجھے یاد آیا کہ فاٹا کے انضمام کے حوالے سے حکومت نے جن مراعات کا اعلان کیا ہے۔

وہ قابل تعریف ہیں۔۔۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہاں کچھ کام شروع کر دیا جائے تاکہ وہاں کے لوگ تبدیلی کے آغاز کو دیکھتے ہوئے اپنے مستقبل کو سنوارنے کے لئے حکومت کے ساتھ شامل ہو جائیں۔

وہاں سب سے پہلے قانون و انصاف کا دائرہ بڑھانا ہوگا۔۔۔ ایک عام آدمی کو ملاں اور ملک کے پنجے سے آزاد کرنا ہوگا کیونکہ وہاں کے لوگوں کے لئے اب بھی اگر کوئی بڑی رکاوٹ ہے تو وہ یہی لوگ ہیں۔۔۔ اور جب تک ان لوگوں کی طاقت کو کمزور نہیں کیا جاتا۔۔۔ وہاں تبدیلی آ کے بھی تبدیلی نہیں آ سکتی، اس کے لئے وہاں عدالت کا کردار بہت نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ اور دوسرے نمبر پر تعلیم کے نظام کو رائج کرنا ہے اور وہاں کے لوگوں کو سکول کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے تاکہ ان کی آئندہ نسل تعلیمی شعور سے آگے بڑھے، محض انضمام سے فرق نہیں پڑتا۔۔۔ وہاں ذہن بدلنے کی ضرورت ہے۔ ایک عام آدمی کا جب تک ذہن نہیں بدلے گا۔۔۔ علاقہ غیر کے غیروں کو اپنا ہمسفر بنانے کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہاں کسی بھی حوالے سے کسی بھی قسم کی تاخیر نہ کی جائے اور بنیادی مسائل اور وسائل مہیا کرنے کی ابتدا ہو جانی چاہئے۔ سب سے پہلے ’ضلع بندی‘ ضروری ہے تاکہ لفظ فاٹا صفحہ ہستی سے مٹ جائے اور وہاں کے لوگ اپنے اپنے علاقے کے نئے ناموں کے ساتھ آگے بڑھیں۔

مزید : رائے /کالم