آزادانہ اور منصفانہ انتخابات، آئینی و قانونی تقاضا

آزادانہ اور منصفانہ انتخابات، آئینی و قانونی تقاضا
آزادانہ اور منصفانہ انتخابات، آئینی و قانونی تقاضا

  



ملک میں عام انتخابات کا انعقاد، آئینی مدت یعنی عرصہ پانچ سال کے بعد 25 جولائی کو ہو جائے گا۔ الیکشن کمیشن اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے ضروری اقدامات کر رہا ہے۔

نگران وزیراعظم کا اعلان ہوچکااور نگران وزرائے اعلیٰ کی تقرری کے اعلانات بھی آج کل ہی ہو سکتے ہیں۔ جو وفاقی اور صوبائی سطحوں پر عبوری دور میں، ملکی نظم و نسق سنبھالنے اور چلانے کے ذمہ دار ہوں گے۔

وہ چونکہ غیر جانبدار حکمران ہوں گے اس لئے کوئی سیاسی جماعت یا اتحاد یہ دعویٰ کرنے کا مجاز نہیں ہوگا کہ عبوری دور حکومت کا کوئی وزیر اور بڑا حاکم، ان کی حمایت یا طرفداری کر کے آئین و قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے اور ان کی خواہشات پر عمل درآمد کرتے ہوئے انتخابی عمل میں کسی ایک یا زیادہ امیدواروں کو کامیاب یا ناکام کرنے میں کوئی موثر کردار ادا کرے گا۔ بلکہ اس مختصر عبوری دور میں امید ہے کہ نگران حکمران طبقے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں، حلف کے تحت خلوص نیت اور دیانتداری سے نبھانے کی بھرپور سعی کریں گے۔

اس لئے سب انتخابی امیدواروں اور کارکنوں کو بھی یہ ٹھوس اصول ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ وہ کسی نشست کے انتخاب کے لئے بھی کوئی غیر قانونی حرکت اور قانون شکنی کر کے اپنے امیدوار کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے کے مقاصد حاصل نہیں کر سکیں گے، بلکہ ہر امیدوار اور اس کے حامی کارکنوں کو جمہوری اقدار اور نظام حکومت کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لئے اپنی حتی المقدور بہترین صلاحیتوں اور کاوشوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔ انہیں یاد ہوگا کہ وطن عزیز کو قائم ہوئے 70 سال کا طویل عرصہ گزر گیا ہے لیکن یہاں بعض غیر جمہوری عناصر کی غیر آئینی اور غیر قانونی مداخلت کی بنا پر جمہوریت کا پودا، آزادانہ فضا کے ماحول میں، صحیح طور پر جوان ہو کر پھل دینے کے درجہ تک، پروان نہیں چڑھ سکا، بلکہ بدقسمتی سے آج تک بعض مفاد پرست عناصر، اسے نقصان سے دو چار کرنے کے حربے مسلسل اختیار کرتے رہتے ہیں، جن کے نتیجے میں ان کی من مانی اور پسند کے افراد کو، عوام کے مطلوبہ ووٹوں کی حمایت کے بغیر ہی، منتخب نمائندوں کی نشستوں پر، سراسر دھونس، دھاندلی، بد نیتی اور بددیانتی کی کارروائیوں سے مسلط کرنے کے اعلانات کرانے کی فراڈ بازی کی جاتی ہے اس مذموم ڈرامہ کاری کو کامیاب کرنے کے لئے، بعض مفاد پرست لوگ اپنی خیانت کاری اور لوٹ مار کی دولت بھی بگڑے نوابوں اور روایتی لٹیروں کی طرح کھلے دل سے استعمال کرتے ہیں۔

جیسا کہ ابھی چند ماہ قبل، عوام و خواص کی کثیر تعداد نے دیکھا اور سنا کہ سینٹ کے مارچ 2018ء میں منعقدہ، کئی نشستوں کے انتخاب میں صوبائی اسمبلی کے اراکین سے، ووٹ حاصل کرنے کی خاطر، بعض امیدوار حضرات نے، کروڑوں روپے خرچ کر کے، ان ووٹوں کو خریدا۔

اس امر کا چرچا پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں اب تک نشر اور شائع ہو رہا ہے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خاں نے معاملہ پر کافی ناراضگی اور احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے اپنی سیاسی جماعت کے کئی اراکین کو وضاحت کرنے کی خاطر نوٹس بھی جاری کئے ہیں۔

یہ درست کارروائی عملی طور پر تادم تحریر جاری ہے کیونکہ ایسی بد دیانتی سے نہ صرف ملک کی بدنامی ہوتی ہے بلکہ ہمارے بعض قومی مفادات کو بھی کافی زک پہنچتا ہے۔

لہٰذا حب الوطنی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم سب لوگ، بلا کسی امتیاز و تفریق محکمہ منصب، پیشہ، صوبہ ، علاقہ، فرقہ، مذہب اور ذات پات اپنی مروجہ غلط کاریاں اور بدمعاشیاں جس قدر جلد ممکن ہو اب ان کو ہمیشہ کے لئے ترک کر دیں۔ یہ ایک کڑوا گھونٹ ضرور ہے لیکن ملکی صحت کی بہتری اور شفایابی کے لئے دوائی کی اس خوراک کو حلق سے اتارنے کی تلخی اب برداشت کرنے کا حوصلہ کر ہی لیا جائے تو بہتر ہے یاد رہے کہ دنیا بھر کے اصلاح کار حضرات بلا کسی ذاتی مفاد و لالچ اپنی صلاحیتیں توانائیاں اور وسائل بروئے کار لانے کی کوششیں اور کاوشیں عوام کی زندگی کو سہل بنانے کے لئے کسی ستائش و تشہیر کے جذبات و خواہشات کے بغیر بھی تو کرتے ہی رہتے ہیں۔ ان کا صلہ متعلقہ حالات و نتائج کی بہتری اور کامیابی میں ہی مضمر ہے۔

انتخابی غلط کاریوں کے بارے میں عرض ہے کہ ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ انتخابات میں واقعی زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار حضرات اور خواتین، منتخب نمائندوں کی حیثیت سے سامنے آکر عوام کی قیادت کا مطلوبہ کردار ادا کریں۔

وہ لوگ بلا شبہ، مفاد پرست اور ابن الوقت لوگوں کی نسبت، بہت بہتر اندازسے، ملک و قوم کی قیادت کا فریضہ ادا کر سکتے ہیں۔ عوام کو بھی ایسی تبدیلی کے لئے، حائل مشکلات کا مقابلہ، جرأت و ہمت اور جواں مردی سے کرنا ہوگا۔

آج کل ذرائع ابلاغ میں، ایسی خبریں، منظر عام پر آ رہی ہیں کہ بعض سابق منتخب نمائندوں کو غیر جمہوری اندازسے، اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے پر راغب اور مجبور کیا جا رہا ہے۔ یوں جمہوری اقدار اور اصولوں کو دن دہاڑے پامال اور بے توقیر کیا جا رہا ہے۔

اس طرح بیشک، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد میں غیر قانونی اور نا جائز رکاوٹیں ڈالنے کی دخل اندازی کا احتجاج بھی بعض اوقات پڑھنے اور سننے میں آتا ہے لیکن یہ صورت حال یہاں مثبت سوچ و فکر کے حامل آزادانہ اور منصفانہ لحاظ سے یا ان طبقوں اور حلقوں کے لئے بلا شبہ بہت افسوس ناک اور تشویش ناک ہے۔

اگر عام انتخابات ایسے غیر قانونی دباؤ اور ترغیب و تحریص کے حالات میں کرانے کی کوششیں کی گئیں، تو پھر عوام کے غیر جانبدار نمائندوں کے انتخابات کے خواب اور خواہش، پورے ہونے کی بجائے، بدقسمتی سے، ادھورے ہی رہ سکتے ہیں۔

یوں ملکی مفاد کے اہداف یعنی ترقی اور خوشحالی کے منصوبے بھی عوام کی توقعات کے مطابق بروقت پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکیں گے ایسے منفی حالات پر ہمیں اتفاق و اتحاد سے غیر آئینی اور غیر قانونی مشکلات پر قابو پانے کے لئے آج کل مستعد کمر بستہ اور تیار رہنا ہوگا۔

مزید : رائے /کالم


loading...