ترقی کرتی دنیا اور پاکستانیوں کی لوٹ ٹیکنالوجی

ترقی کرتی دنیا اور پاکستانیوں کی لوٹ ٹیکنالوجی
ترقی کرتی دنیا اور پاکستانیوں کی لوٹ ٹیکنالوجی

  

ویسے تو بیسویں صدی کو دنیا میں تیز رفتار ترقی کی صدی کے نام سے یاد رکھا جائے گا، لیکن اکیسویں صدی شروع ہوتے ہی اس رفتار میں کئی گنا اضافہ ہو گیا، جب بیسویں صدی کا اختتام ہو رہا تھا۔ پوری دنیا کے لوگ فکر مند تھے کہ جب کمپیوٹر میں دو کا ہندسہ شامل کیا جائے گا یعنی 1999 سے 2000 کی طرف سفر شروع ہوگا تو پتا نہیں کیا ہو جائے گا، کہیں کمپیوٹر سے سارا ڈیٹا ہی محو نہ ہو جائے یا کمپیوٹر دو کے ہندسے کو ہی قبول نہ کرے، مجھے یاد ہے اس وقت ناروے کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اس پر گہرے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ ناروے میں جب یہ خبر ملی کہ جاپان والوں نے کامیابی سے دو کا ہندسہ کمپیوٹر میں فیڈ کر لیا ہے تو ناروے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ دن اور آج کا دن دنیا میں ایسی ایسی حیران کن تبدیلیاں آئیں اور ترقی کی منازل طے ہوئیں جنہوں نے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ اگر بیسویں صدی کو ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کی صدی کہا جاتا ہے تو اکیسویں صدی کے پہلے دو عشرے بلا شبہ حیران کن ٹیکنالوجیز اور تیز رفتار ترقی کی منازل بجلی کی سی رفتار سے طے کر رہے ہیں جسے دیکھتے ہوئے اکیسویں صدی کو برق رفتار ترقی کی صدی قرار دیا جا سکتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک کے سائنسدانوں نے اپنے سیارے زمین پر تحقیق و ترقی کے ساتھ دوسرے سیاروں پر بھی کمندیں ڈال رکھی ہیں اور بعید نہیں کہ آنے والے وقت میں انسان دوسرے سیاروں پر بسنے کا اہتمام کر لیں۔

ابھی حال ہی میں جاپان کی کاریں بنانے والی مشہور کمپنی ٹویوٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2020 میں ایسی الیکٹرک کار سڑک پر لا رہے ہیں جو ڈرائیور کے ساتھ خود کار ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہوگی اور ڈرائیور کی حرکات اور اس کے موڈ کو بھی سمجھ سکے گی اور اس کے مطابق حرکت کرے گی۔ یعنی اگر ڈرائیور تھک گیا ہے تو گاڑی خود بخود آہستہ ہو جائے گی، ڈرائیور کو نیند آگئی ہے تو گاڑی سڑک کے ایک سائیڈ پر رک جائے گی، ڈرائیور کا موڈ خراب ہے یا بوجوہ غصے میں ہے تو گاڑی خوبصورت میوزک بجانے لگ جائے گی۔

امریکہ کے اندر پہلے سے ہی بغیر ڈرائیور کے گاڑیاں سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں، دنیا کے بیشتر ممالک میں ایسی گاڑیاں چل رہی ہیں جن کے سامنے کوئی چیز آجائے اور ڈرائیور کا دھیان نہ ہو تو گاڑی کو خود بخود بریک لگ جاتی ہے۔

فضائی آلات میں جو ترقی ہوئی ہے اس کا منہ بولتا ثبوت ڈرون ہیں اور ابھی حال ہی میں امریکہ کے شہر کیلیفورنیا میں دنیا کے سب سے بڑے چھ انجن والے جہاز کو رن وے پر آزمایا گیا ہے جسے ستمبر تک فضا میں بھی اڑایا جائے گا، اس کے پیچھے اس کو بنانے والی کمپنی کا مالک اربوں ڈالر کا مالک پاول ایلن ہے جس نے بل گیٹس کے ساتھ مائیکرو سافٹ کی بنیاد رکھی تھی۔

جہاز کا کمال یہ ہے کہ یہ فضا کو چیرتا ہوا خلا تک راکٹ بھیجنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ میں چند ماہ پاکستان میں گزار کر واپس ناروے پہنچتا ہوں تو یہاں حیران کن تبدیلیاں آچکی ہوتی ہیں۔

ناروے دنیا کو آلودگی سے پاک کرنے کے لئے دنیا میں سب سے زیادہ کام کر رہا ہے جس کے لئے یہاں ڈیزل اور پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کو بہت محدود کیا جا رہا ہے۔

اور اگلے دس پندرہ سال میں ناروے کی سڑکوں پر صرف بجلی سے چارج ہونے والی گاڑیاں ہی نظر آ سکیں گی۔ اسی طرح کرنسی نوٹ بھی بہت محدود ہو چکے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے دس سال تک کرنسی کا بھی خاتمہ کر دیا جائے گا۔

جس سے بدعنوانی اور ٹیکس چوری کو ناممکن بنا دیا جائے گا۔ دنیا میں اب ایک چیز پر کام ہو رہا ہے کہ کرنسی اور کارڈ کے بغیر بھی لین دین ہو سکے گا اس میں کرنسی خی ویلیو کا جھنجھٹ بھی نہیں رہے گا۔

یورپ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک اللہ تعالی کی نعمتوں سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر بندہ صبح اٹھ کر گڑگڑا کر اللہ سے روزی کی دعا مانگتے کی بجائے اللہ کے بنائے ہوئے قانون پر عمل کرتے ہوئے اپنی روزی کا خود بندوبست کرنے نکلتا ہے اور خوشحالی کی زندگی بسر کرتا ہے

لیکن اپنا پیارا پاکستان دنیا میں وکھری ہی ٹائپ کا ملک ہے، لوگ صبح اٹھ کر عبادات گزارتے ہیں اپنے اور اپنوں کے لئے دعائیں مانگتے ہیں۔ سارا دن محنت مشقت بھی کرتے ہیں، بہت رحم دل بھی ہیں، جہاں کسی مانگنے والے کو دیکھتے ہیں اس کے ہاتھ پر بھی ضرور کچھ نہ کچھ رکھتے ہیں، لیکن ہمارے حالات ہیں کہ آئے روز خراب ہی ہوتے جا رہے ہیں۔

آج کل کے نوجوان مسجد جانے، وضو کرنے یا عملی عبادات کے بجائے لیٹے لیٹے موبائل فون کے ذریعے ہی ہزاروں لوگوں کو دعائیں دیتے اور لاکھوں لوگوں سے دعائیں وصول بھی کر لیتے ہیں، لیکن کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ، جس موبائل اور جس ایپلیکیشن کے ذریعے سے ہم دعائیں دے اور لے رہے ہیں، یہ ہم نے نہیں، بلکہ ان غیر مسلموں نے ایجاد کی ہیں جن کو ہم نیست و نابود کرنے کا سوچتے رہتے ہیں۔ میں بعض دفعہ اتنا حیران ہوتا ہوں کہ ہمارے پڑھے لکھے نوجوانوں کو کوئی پوسٹ لگاتے یا سوشل میڈیا پر کچھ بھیجتے ہوئے یہ بھی یاد نہیں ہوتا ک کچھ دیر پہلے وہ اسی پوسٹ کے بالکل متضاد پوسٹ بھی شیئر کر چکے ہیں۔آج کل سب سے زیادہ جو سوشل میڈیا پر اشتراک ہو رہا ہے وہ یہ کہ ہم ایک زنجیر بنا رہے ہیں آیت کریمہ کی ، کلمہ یا درود شریف کی۔

یا مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے مختلف آیات یا کلمات بتائے جاتے ہیں۔ یا پھر ہمارے سوشل میڈیا پر اندھا دھند سیاسی مخالفین پر لعن طعن اور گالیوں کی پوچھاڑ اور اپنے لیڈران کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں، اور ان میں بھی حقائق کا کسی کو پتا نہیں ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ ہر وقت یورپ اور امریکہ کی برائیاں کی جاتی ہیں اور موقع ملتے ہیں ہر حال میں ( اپنی ساری جائیداد بیچ کر بھی اور اپنی جان کا رسک لے کر بھی سمندروں کے غیر قانونی سفر سے گزر کر بھی) یورپ یا امریکہ پہنچنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟

ہماری ترقی کرتی ٹیکنالوجی میں موٹر سائیکل پر چنگ چی رکشہ اور ٹرالیاں ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کے نئے نئے طریقے ہیں۔ گاڑی کی سکرین پر انڈا پھینک کر ڈرائیور کو رکنے پر لوٹنے کی ٹیکنالوجی اب کچھ پرانی ہو گئی ہے۔

اب جدید طریقہ یہ ہے کہ کسی پیٹرول پمپ پر یا کسی چوراہے پر خود کو رنگ ساز یا گھر کا کوئی کام کرنے والا ظاہر کر کے سستا کام کرنے کی پیشکش کرتے ہیں اور جب کوئی نہیں مانتا تو اس کو اپنا کارڈ تھما دیتے ہیں کہ بوقت ضرورت ہماری خدمات لے لینا، جیسے ہی کوئی وہ کارڈ لے کر آگے بڑھتا ہے اس پر نشہ سا طاری ہو جاتا ہے جو اس کارڈ کے ساتھ لگائی گئی کسی نشہ آور شے سے ہوتا ہے اس طرح اس کا پیچھا کرکے اسے لوٹا جاتا ہے۔ پاکستان کی ایک اور ٹرکنالوجی( ٹرک نالج) کا بہت چرچا ہے کہ انسانوں کو اغوا کر کے ان کا ایک گردہ نکالا جاتا ہے پھر گردوں کا کاروبار کیا جاتا ہے۔ اب کونسی دنیا ہمارا مقابلہ کر سکتی ہے؟

مزید : رائے /کالم