گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کا نفاذ

گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کا نفاذ

  



وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کے نفاذ کے بعد گلگت بلتستان کو بھی دوسرے صوبوں کے برابر حقوق حاصل ہوں گے، گلگت بلتستان کی اپنی سول سروس تو ہو گی مگر اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سول سروس میں بھی اس کا کوٹہ ہوگا، اپنے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار اسمبلی کو دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختیارات کی منتقلی پر ہمیں اپنی جماعت کے اندر سب سے زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ گلگت بلتستان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گورنر، جج اور چیف جسٹس گلگت بلتستان کے ہی ہوں گے، تمام اختیارات گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری کے پاس ہوں گے جو پہلے نہیں ہوتے تھے جبکہ فنڈز خرچ کرنے کے اختیارات بھی مقامی قیادت کو حاصل ہوں گے، سی پیک کی بنیاد گلگت بلتستان ہے اور اس کا فائدہ بھی اسے ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مَیں اپوزیشن کے رویئے پر حیران ہوں، ہمارے اقدامات کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے اور کون کر رہا ہے، ہم نے عشروں سے بند سرکاری سکیمیں مکمل کیں، جو کام کئے سب کے سامنے ہیں، ہمیں اپنے ترقیاتی کاموں پر فخر ہے۔ اسمبلی سے وزیراعظم کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا اور اس کے خلاف نکالی جانے والی ریلی میں شامل ہو گئے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی نام نہاد پیکیج مسترد کر دیا ہے۔

گلگت بلتستان آرڈر 2018ء پر بھارت نے بھی احتجاج کیا ہے جو پاکستان نے بجا طور پر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کا یہ اقدام عوام کو مزید بااختیار بنانے کے لئے ہے، بھارت نے گزشتہ روز نئی دہلی میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے اس پر احتجاج کیا تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ علاقے میں تو ریاستی ظلم و ستم جاری رکھے ہوئے ہے اور پاکستان اگر اپنے علاقے میں عوام کی بہتری کے لئے کوئی اقدام کر رہا ہے تو اس پر خواہ مخواہ جلا بھنا بیٹھا ہے اور احتجاج کر کے بے وقت کی راگنی چھیڑ دی ہے۔ جموں و کشمیر متنازعہ خطہ ہے اور عالمی ادارے سمیت دنیا اسے متنازعہ خطہ ہی تصور کرتی ہے، جہاں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا وسیع سلسلہ جاری ہے۔

وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں جمہوری رویئے کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن کا اختلاف رائے کا حق تسلیم کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ حکومت مزید مطالبات بھی ماننے کے لئے تیار ہے، اِس لئے اپوزیشن کو دوسروں کا موقف بھی تسلیم کرنا چاہئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ آج سے مَیں بطور وزیر اعظم اور برجیس طاہر بطور وفاقی وزیر امورِ کشمیر گلگت بلتستان کے معاملے میں بالکل بے اختیار ہوگئے ہیں۔ تمام اختیارات عوام کو دے دیئے گئے ہیں اور ہم نے عوام کو جو اختیارات دیئے ہیں وہ کوئی بھی ختم نہیں کرسکتا۔ اپوزیشن نے آرڈر مسترد کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے اگر فی الحال گلگت بلتستان کو آئینی طور پر صوبے کا درجہ نہیں دیا جاسکتا تو اسے آزاد کشمیر کی طرح خود مختار حیثیت دی جائے۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کے پاس کشمیر کی شہریت بھی ہے اور وہ بطور کشمیری تمام بنیادی حقوق کا استحقاق رکھتے ہیں۔ اس کا بہترین حل تو یہ ہے کہ اپوزیشن اور حکومت بیٹھ کر اختلافات پر بات کرلیں اور ان کا حل نکال لیں، واک آؤٹ اور مظاہروں کے بعد بھی سارے معاملے کو گفت و شنید کے ذریعے ہی حل کرنا ہوگا۔

گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے تو ایک انٹرویو میں یہ تسلیم کیا ہے کہ اس وقت تین چھوٹے صوبے (سندھ، کے پی کے، بلوچستان) سارے گلگت بلتستان کا استحصال کر رہے ہیں جبکہ پنجاب نے کھلے دِل سے ہمارے مطالبات تسلیم کئے ہیں اور سات فی صد تک فنڈز دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس وقت گورنر گلگت بلتستان کو وہی اختیارات حاصل ہیں جو آزاد جموں و کشمیر کے صدر کے پاس ہیں، اس لئے جو لوگ احتجاج کرکے اپنے مطالبات کر رہے ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ پہلے معاملات پر ٹھنڈے دل سے غور کر لیں اور اگر اختیارات کے ضمن میں کوئی ابہام ہے تو دور کر لیں۔ عام طور پر بڑے صوبے سے چھوٹے صوبوں کو شکایت ہوتی ہے لیکن گلگت بلتستان کے معاملے میں چھوٹے صوبے شکایات کا باعث بن رہے ہیں اور وزیراعلیٰ صاف گوئی سے یہ بات کہہ رہے ہیں۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا اس معاملے پر محض سیاست کی جا رہی ہے یا واقعی حقوق کے لئے جدوجہد، کیونکہ اگر گلگت بلتستان کے گورنر کو آزاد کشمیر کے صدر کے مساوی اختیارات حاصل ہیں تو پھر مزید کن حقوق کی بات کی جاتی ہے اور اگر حکومت مزید بات چیت کے لئے بھی تیار ہے تو اس سے انکار کیوں؟ ایک زمانے میں آزاد کشمیر کو بھی یہ شکایت رہی ہے کہ ریاست کے امور وزارت کا ایک جائنٹ سیکرٹری نمٹاتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ شکایت بڑی حد تک رفع ہو چکی ہے اور گلگت بلتستان کے امور کی بہتری کی امید بھی نئے آرڈر کے نفاذ کے بعد کی جا سکتی ہے۔ اس آرڈر کو محض سیاسی دشمنی کی بنیاد پر سرسری انداز سے مسترد کر دینا مناسب نہیں ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہ آرڈر ایک ایسے وقت میں نافذ ہوا ہے جب فاٹا کے قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنانے کے لئے تمام تر قانون سازی ہو چکی ہے اور پارلیمینٹ کے بعد کے پی کے اسمبلی نے بھی ترمیم کی حمایت کر دی ہے اور اب صدر کے دستخطوں سے یہ آئینی ترمیم آئین کا باقاعدہ حصہ بن جائے گی اور اس پر عملدرآمد بھی شروع ہو جائے گا تاہم بعض سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں اور گزشتہ روز اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تو پشاور میں پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے، کوئی بھی اقدام عوام کی سو فیصد حمایت تو نہیں رکھتا، اس میں صرف اکثریت کی حمایت ہی مطلوب ہوتی ہے اور فیصلے اس کی روشنی میں ہوتے ہیں، اس لئے گلگت بلتستان کی اپوزیشن بھی یہ بات پیش نظر رکھے اور آرڈر میں جو کمی رہ گئی ہے، اسے دور کرنے کے لئے مذاکرات کرے، یہی جمہوری راستہ ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...