لارڈز میں ریکارڈ کامیابی، مبارک!

لارڈز میں ریکارڈ کامیابی، مبارک!

  



نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل پاکستان کرکٹ ٹیم کو تجربہ کار برطانوی کرکٹ ٹیم کے خلاف اس کے گھر میں شاندار کامیابی ملی ہے اور شاہینوں نے انگلینڈ ٹیم کو پہلا ٹیسٹ نو وکٹ ہرادیا ہے، یہ فتح کرکٹ کے آبائی گھر لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں حاصل ہوئی، جسے ریکارڈ کے مطابق پانچویں قرار دیا گیا ہے، بلاشبہ ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے اور اسے شاباش بھی ملنا چاہئے کہ نوجوانوں کا حوصلہ بلند ہو اور وہ مستقبل میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں۔

پہلے ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد سے ملک میں داد کے ڈونگرے برسانے کا سلسلہ شروع ہے اور جوسینئر کھلاڑی کل تک ناقد تھے آج تعریفیں کرتے نہیں تھک رہے اگرچہ یہ رجحان برا نہیں تاہم اسے بہت اچھا کہنا بھی مناسب نہیں، ہونا یہ چاہئے کہ کھیل پر کھیل کے معیار کے حوالے سے مثبت بات کی جائے، تنقید کی ضرورت ہو تو جیتنے کے بعد بھی ہوسکتی ہے اور اگر تعریف کے قابل کارکردگی ہو تو اس پر شکست کے بعد بھی تعریف کرنے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہئے۔

انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی ٹیم دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے گئی ہے، جو یونس خان اور مصباح الحق جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کی خدمات سے محروم ہے کہ وہ دونوں ریٹائرمنٹ لے چکے ہوئے ہیں، قیادت سرفراز احمد کے سپرد ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک خاص طبقے نے ٹیم سے زیادہ کپتان سرفراز احمد کی تعریفیں شروع کررکھی ہیں جو بلاشبہ خاص مقصد کے تحت ہیں، حالانکہ وہ ٹیم کے قائد ہونے کی وجہ سے تحسین کے قابل یقیناً ہیں لیکن ان کو عمران خان بنادینا بھی درست نہیں، ہم ان ماہرین کرکٹ سے متفق ہیں جن کے خیال میں قدرت مہربان اور باؤلروں کی محنت سے میچ پر ٹیم کی گرفت اتنی مضبوط ہوگئی تھی کہ اس میچ میں اننگزکی فتح ملنا چاہئے تھی لیکن انگلینڈ کے چھ کھلاڑی آؤٹ کرنے کے بعد ٹیم اپنی گرفت مضبوط نہ رکھ سکی اور ضرورت کے مطابق جس دباؤ کی ضرورت تھی وہ برقرار نہ رہا کہ یہ ذمہ داری کپتان کی تھی کہ اس مرحلہ پر باؤلروں کی بہتر تبدیلی مزید اچھے نتائج دے سکتی تھی۔

بہر حال فتح سے زیادہ خوش کن کچھ اور نہیں، بابر اعظم، اظہر علی، اسد شفیق اور حارث نے بھی بہترمستقبل کی نشان دہی کردی ہے، ٹیم کو شاداب خان اور فہیم اشرف کی شکل میں دو اچھے آل راؤنڈر بھی مل گئے ہیں جو ایک روزہ اور ٹی۔20 میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے، حسن علی کے بعد عباس کا فاسٹ باؤلروں کی لائن میں اضافہ خوش کن ہے اور اسی طرح دوسری اننگز میں زیادہ بہتر سپیل کی وجہ سے محمد عامر سے وابستہ توقعات بھی پوری ہوتی نظر آرہی ہیں، پہلی اننگز میں اچھے سپیل کے باوجود اسے صرف ایک وکٹ ملی لیکن دوسری اننگز میں وہ چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کرلینے میں کامیاب رہے، اس اننگز میں چند اوور اچھے بھی نہیں رہے تاہم گیند گھومتی ضرور نظر آئی، اگر وہ توجہ دیں تو امکانی طور پر اپنے کیریرکے آغاز والی باؤلنگ کرا سکیں گے۔

تجزیہ اور تنقید ہوتی رہے گی، کامیابی مبارک ہو، توقع ہے کہ یہی جذبہ برقرار رہے گا اور اگلے ٹیسٹ میں فتح ہی لے کر آئے گا۔

مزید : رائے /اداریہ