آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم
آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

  



چودھویں تراویح

سورۃ لقمان:31 ویں سورت

سورہ لقمان مکی سورت ہے، 34آیات اور 4 رکوع ہیں۔یہ اکیسویں پارہ کے دسویں رکوع سے شروع ہو کر تیرھویں رکوع تک ہے۔ترتیب نزول کے لحاظ سے نمبر 57 ہے۔

سورت کے دوسرے رکوع میں وہ نصیحتیں درج ہیں جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کی تھیں،اسی وجہ سے اس کا نام ’’لقمان‘‘ ہے۔یہ سورت اس دور میں نازل ہوئی جب اسلام کو دبانے کیلئے مکہ میں ظلم و جبر کا آغاز ہو چکا تھا۔ اس میں شرک کی لغویت و نامعقولیت اور توحید کی صداقت و معقولیت سمجھائی گئی ہے۔

ارشاد ہے‘‘قرآن ان لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے جو نماز اور زکواۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔وہی فلاح پانے والے ہیں ۔بیشک ہم نے لقمان کو حکمت سکھائی کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرے تو جو شخص شکر ادا کرتا ہے

وہ اپنے بھلے کو کرتا ہے اور اگر کوئی کفر اختیار کرتا ہے تو اللہ بے پروا ہے اور حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو توحید کا سبق دیا تھا اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔

اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا، کمزوری جھیلی اور دو برس تک دودھ پلایا۔ان دونوں کی اطاعت ضروری ہے سوائے شرک کے اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو برائی سے بچنے کے لئے فرمایا کہ وہ برائی خواہ رائی کے برابر ہو اس سے بھی بچو، نماز قائم کرو، اچھی بات کا حکم کرو اور بری بات سے رکو، اور اگر کوئی افتاد تم پر پڑے تو اس پر صبر کرو۔

کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسار کج نہ کرو، زمین پر اکڑ کر مت چلو، میانہ چال چلو، آواز پست کرو کہ سب سے کرخت آواز گدھے کی ہوتی ہے۔ اللہ ہی نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی پھر بھی وہ اللہ کو نہیں مانتے۔

اگر زمین کے سب درخت قلم بن جائیں اور سمندر سیاہی بن جائیں پھر بھی اللہ کے کلمات پورے نہیں لکھے جا سکتے۔بیشک اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب ہوگی، مینہ کب برسے گا، ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے، کوئی کل کیا حاصل کریگا اور کون کہاں مریگا، بیشک اللہ جاننے والا خبروالا ہے۔

سورۃ السجدہ:32 ویں سورت

سورہ سجدہ مکی ہے، 30 آیات اور 3 رکوع ہیں، ترتیب نزول کے لحاظ سے نمبر 75 ہے۔اکیسویں پارہ کے چودھویں رکوع سے شروع ہو کر سولہویں رکوع تک ہے آیت 15 میں سجدہ کے مضمون کی مناسبت سے ہی نام قرار دیاگیا۔

یہ قیام مکہ کے متوسط دور میں نازل ہوئی جب ابھی ظلم و جبر میں شدت پیدا نہیں ہوئی تھی۔سورت کا موضوع، توحید، آخرت اور رسالت کے متعلق شبہات کو رفع کرنا اور تینوں حقیقتوں کی دعوت دینا ہے۔

منکرین سبق حاصل نہیں کرتے کہ ان سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کر دی گئیں اور وہ ان لوگوں کے گھروں میں چل پھر رہے ہیں۔اللہ ہی بارش کرتا ہے۔

کھیتی کو سیراب کر کے تیار کرتا ہے ،تو اے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرما دیں کہ اس دن نہ تو تمہارا عقیدہ کام دیگا اور نہ تمہیں کوئی مہلت ملے گی۔آپ ایسے لوگوں سے منہ پھیرلیں۔انہیں پتہ چل جائیگا کہ عذاب کب آتا ہے‘‘۔

سورۃ الاحزاب : 33 ویں سورت

سورہ احزاب مدنی ہے، 73، آیات اور 9 رکوع ہیں۔نزول کے لحاظ سے نمبر 90 ہے،اکیسویں پارہ کے سترھویں رکوع سے شروع ہو کر بائیسویں پارہ کے چھٹے رکوع تک ہے۔سورت کا نام آیت 20 کے فقرہ ’’یحسبون الاحزاب لم یذھبوا‘‘ سے لیا گیا ہے۔سورت میں تین اہم واقعات پر بحث کی گئی ہے۔1 غزوہ احزاب جوشوال 5ھ کو ہوا۔ 2 غزوہ بنی قریظہ، جو ذی قعدہ 5ھ کو ہوا۔ 3 حضرت زینبؓ سے نبی پاکؐ کا نکاح، جو اسی سال ذی قعدہ میں ہوا۔

یہ سورت متعدد احکامات اور فرامین پر مشتمل ہے۔اس سورت میں رسول پاکﷺ کے حوالے سے اسلامی معاشرت، خاندانی معاملات پردہ اور منہ بولے بیٹے کے احکامات بیان فرمائے گئے ہیں۔اس سورت میں ختم نبوت کے حوالہ سے بھی بحث ہے اور افواہ سازی کی ممانعت بھی۔بہرحال معاشرتی اصلاح کے زریں اصول بیان کئے گئے ہیں۔

حضورؐ مسلمانوں کیلئے ان کی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں اور حضورﷺ کی ازواج ان کی مائیں ہیں اور ماؤں کی طرح محرمات میں سے ہیں۔اب جنگ احزاب یعنی جنگ خندق کا ذکر ہے جب مکہ کے کافر اور مدینہ سے نکالے ہوئے یہود اور ان کے حمایتوں نے مسلمانوں پر حملہ کیا تھا تو اللہ نے ان لوگوں پر آندھی بھیجی اور ایسے لشکر بھی بھیجے جو تمہیں نظر نہیں آئے۔

مسلمانوں کو اپنے رسولﷺ کی اطاعت اور پیروی کرنی چاہئے۔دشمنوں کے محاذ کو دیکھ کر سچے مسلمان جو جہاد کا ارمان رکھتے تھے بولے کہ یہ وہ وقت ہے جس کا اللہ اور اس کے رسولﷺ نے وعدہ فرمایا تھا یعنی مسلمانوں کے ایمان تازہ ہو گئے ۔ اب حضور انورﷺ کی ازواج مطہرات کو تسلی بھی دی گئی ہے کہ دنیا کی آرائش سے کہیں زیادہ اجر عظیم ان کو آخرت میں ملے گا اور ان کا درجہ چونکہ بہت بڑا ہے اس لئے گناہ کرنے کا عذاب بھی دوسروں کے مقابلے میں دوگنا ہوگا، اسی طرح اچھے کام کا اجر بھی دوسروں کے مقابلے میں ان کو دوگنا ملے گا۔ ان ازواج مطہرات کو یہ بھی نصیحت ہے کہ اگر انہیں غیر مرد سے بات کرنے کی ضرورت درپیش ہو تو وہ اپنے لہجے میں نرمی نہ رکھیں، انہیں اپنے گھروں میں رہنا چاہئے، بے پردہ نہ ہوں، نماز اور زکواۃ کو ادا کریں، اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کریں۔اور اللہ ان اہل بیت کو (جن میں ازواج مطہرات اور اولاد شامل ہیں) گناہوں کی نجاست سے پاک کر دیتا ہے اور جب کسی امر کیلئے اللہ اور اس کے رسولﷺ فرمائیں تو فوراً سرتسلیم خم کر دینا چاہئے اور حکم عدولی کرنے والے کے لئے سخت گناہ ہے۔اب حضرت زید کا واقعہ ہے جو حضور انورﷺ کے متبنیٰ (منہ بولے بیٹے) تھے کہ ان کے ساتھ حضورﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح کر دیا تھا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روکنے کے باوجود انہوں نے طلاق دیدی تو حضورﷺ نے اللہ کے حکم سے جاہلیت کی رسم توڑی کہ متبنّٰی کی طلاق شدہ بیوی سے خود نکاح کر لیا، اللہ کے رسول سوائے اللہ کے، کسی سے خوف نہیں کھاتے اور محمد صلی اللہﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، وہ تو اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں آخری ہیں۔

اور اگر ازواج مطہرات سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے سے باہر مانگی جائے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے ہرگز نکاح نہیں کیا جا سکتا کہ وہ مسلمانوں کی مائیں ہیں۔

اور مسلمان عورتیں بھی اپنے باپ، بیٹے، بھائی، بھتیجے، بھانجے (چچا ماموں) دینی بہنوں اور کنیزوں کے سامنے آسکتی ہیں۔بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم پر، تو اے ایمان والو، تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

(اور) اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، آپ اپنی بیویوں، صاحب زادیوں اور مسلمان عورتوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں تاکہ وہ پہچانی جا سکیں کہ آزاد اور شریف عورتیں ہیں، اس طرح ان کو ایذا نہ ہوگی۔

پھر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ سلم کی نافرمانی کرنے والوں کو عذاب کی وعید ہے۔اب مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ وہ حضور انورﷺ کا ادب احترام بجالائیں اور ان لوگوں کی طرح نہ بنیں جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ستایا تھا۔ایمان والوں کو چاہئے کہ وہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی بات کریں تو پھر اللہ ان کے اعمال سنوار دیگا اور گناہ بخش دیگا۔

سورۃ سبا : 34 ویں سورت

سورۃ سبا مکی ہے، 54 آیات اور 6 رکوع ہیں، نزول کے لحاظ سے نمبر 58 ہے، بائیسویں پارہ کے ساتویں رکوع سے بارہویں تک ہے، سورت کا نام آیت 15 کے فقرہ ، لقدکان لسبا فی مکسنھم‘‘ سے لیا گیا ہے یعنی وہ سورت جس میں سبا کا ذکر آیا ہے۔

یہ قیام مکہ کے اس دور میں نازل ہوئی جب ابھی ظلم وجبر شروع نہ ہوا تھا بلکہ تضحیک اور استہزاء سے کام لیا جا رہا تھا یا جھوٹے الزامات اور وسوسوں سے اسلام کو دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

اس سورت میں توحید، آخرت اور رسالت پر بیہودہ الزامات کا جواب دیا گیا ہے۔ نیز طاقت وسلطنت کے باوجود شکر الٰہی کا راستہ اپنانے کا سبق ہے۔ حضرت داؤد، سلیمان اور ملکہ سبا کے قصے اسی ضمن میں ہیں۔

ہم نے داؤد علیہ السلام پر بڑا فضل کیا۔ وہ تسبیح کرتے تو پہاڑوں سے بھی تسبیح سنائی دیتی اور پرندے جھک آتے اور ان کے لئے لوہا نرم کردیا گیا کہ وہ اس سے جو چاہتے بغیر آگ میں تپائے ہوئے بنا لیتے۔

سلیمان علیہ السلام کے بس میں ہوا کر دی گئی تھی اور ان کے لئے پگھلے ہوئے تابنے کا چشمہ بہادیا تھا۔ جنات بھی ان کے مطیع تھے۔ کیا کیا محل، تمثیل اور بڑے بڑے حوض، لنگر دار دیگیں سب بنا لیتے تھے۔

اور اے محبوب ﷺ ہم نے آپ کو تمام انسانوں کیلئے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنایا ہے لیکن اکثر لوگ واقف نہیں ہیں۔ قریش کو چاہئے کہ وہ ٹھنڈے دل سے اور تعصب سے خالی ہو کر سوچیں کے حضور انور ﷺ جیسا کوئی اور عاقل، ذہین اور صائب الرائے ہے بھی یا نہیں۔ یا صرف وہی ان اوصاف میں یکتا ہیں۔ اللہ ہی حق کا القا فرماتا ہے اور حق ہی آیا ہے اور باطل مٹ گیا آپ فرما دیں کہ مجھے راہ ہدایت اللہ کی وحی سے حاصل ہوئی ہے ۔*

مزید : رائے /کالم


loading...