کیا انتخابات مسائل کا حل ہیں ؟

کیا انتخابات مسائل کا حل ہیں ؟
کیا انتخابات مسائل کا حل ہیں ؟

  



خیر سے صدر مملکت جناب ممنون حسین نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔ 25 جولائی ووٹ ڈالنے کی تاریخ ہوگی۔ 1970 کے بعد سے پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے نمائندوں کے ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر یہ گیارویں انتخابات ہوں گے۔ انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد سے ملک بھر میں دھوم دھڑکے کا باضابطہ آغاز ہوجائے گا۔

ویسے بھی ملک میں گزشتہ دو سال سے انتخابی مہم ہی چلائی جارہی تھی۔ تمام سیاسی جماعتیں اس میں سرگرم تھیں جو اب زیادہ ہی سرگرم ہو جائیں گی۔ امیدوار نامزد ہوں گے۔ وہ اپنے اپنے حلقوں میں مہم جوئی کر رہے ہوں گے۔

اس انتخابی عمل پر بیس ار ب روپے کے خرچے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ جمہوریت کی بقا کے لئے انتخابات ایسا عمل ہوتے ہیں جن کے ذریعہ عوام اپنی پسند کے نمائندے یا سیاسی جماعت کے امیدواروں کو ووٹ دے کر منتخب کرتے ہیں تاکہ ان کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمائندے قائم ہونے والی نئی پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلیوں میں ان کی بھلائی کے کام کریں۔

بر سبیلِ تذکرہ پاکستان میں کس پارلیمنٹ نے عوام کی بھلائی کے لئے کام کیا ہے۔ یہاں تو پارلیمنٹ میں چہرے بھی تبدیل نہٰں ہوتے ہیں۔ سوچ کیا تبدیل ہوگی۔

ووٹ دینے والوں کو رہبر اور رہزن کی تمیز ہی نہیں ہے۔ سیاسی وفاداریاں لباس تبدیل کرنے جیسی بنا دی گئی ہیں۔ کوئی نظریہ کوئی اصول آڑے نہیں آتا۔ بس ایک ہی نطریہ ہے کہ سیاست کرنے والوں کی گرفت کمزور نہ ہو۔

ووٹر کیوں صفر جیسی کارکردگی رکھنے والے لوگوں کو ووٹ دیں جو دو مرتبہ سے زیادہ منتخب ہو چکے ہیں۔ کیا پارلیمنٹ نے ملک سے غربت کے خاتمے کے لئے کوئی با مقصد کام کبھی کیا ہے۔ کیا ملک کے عوام کی فلاح و بہبود کے پیش نظر اقدامات کئے گئے ہیں۔ کیا عوام کو فوری انصاف فراہم کرنے کے کسی عمل کا کبھی آغاز کیا گیا ہے۔

کیا عوام کے انفرادی اور اجتماعی تحفظ کے لئے کام کیا گیا ہے۔ لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی یقینی بنائی جائے اور اس کا تحفظ کیا جائے۔ کیا با مقصد انتخابی اصلاحات کے بارے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا ہے ۔

منتخب نمائندوں کو تو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ غربت کے خاتمے کے لئے کن بنیادی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ عوام کی فلاح و بہبود میں کیا ضرورتیں شامل ہوتی ہیں ۔ سر چھپانے کو مکان، پیٹ بھرنے کو باعزت روزگار کا موقع، اور باعزت زندگی گزارنے کے لئے اقدامات کیوں کر کئے جانے ضروری ہوتے ہیں۔

پاکستان میں تو حکومتوں نے کبھی ایسے اقدمات کئے ہی نہیں ہیں۔ فوری انصاف کی فراہمی کے کیا تقاضے ہوا کرتے ہیں۔ انفرادی تحفظ اور اجتماعی تحفظ کے لئے کن محکموں کو پابند کیا جاتا ہے اور ان محکموں کی نگرانی اور سر زنش کرنا کس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

پاکستان میں یہ تماشہ ہی ہے کہ یہاں کاغذوں میں سب کچھ موجود ہوتا ہے لیکن عملا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اگر عملاً کچھ بھی نہیں ہوتا ہے تو پھر اربوں روپے کے اخراجات کیوں کئے جاتے ہیں۔

کیا یہ سب کچھ صرف کسی تفریحی پروگرام کا حصہ ہوتا ہے یا کچھ اور۔ یقین جانئے کہ یہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ پاکستان میں سیاست سب سے بڑا کاروبار بن کر رہ گئی ہے۔

پیسے والے لوگ سرمایہ کاری کرتے ہیں ۔ کالا دھن سفید کرنے کی دھن سوار رہتی ہے۔ سرمایہ کاری کرنے والے لوگ اپنے سرمایہ کو ترقی دینے کے لئے تمام اقدامات اور مواقع استعمال کرتے ہیں۔

اقتدار کی راہ داریوں میں داخل ہونے کے عمل کا نام ہی انتخابات ہیں۔صنعتی اداروں میں محنت کشوں کو کیا تحفظ حاصل ہیں۔ زرعی کھیت کے محنت کشوں کو کیا تحفظ حاصل ہیں۔ کسی کو دلچسپی نہیں ۔

انتخابات ہی اسی طرح ہوتے ہیں جیسے سال بدلنے پر لوگ کہتے ہیں کہ ایک سال بیت گیا۔ نیا سال آیا لیکن وہ بھی سال گزشتہ کی طرح کا ہوگا۔ پاکستان میں انتخابات کا حال کچھ اسی طرح کا ہوتا ہے۔ ایک ایسا عمل جسے کرنا ضروری ہے کہ جمہوریت کے مجنوں اسی کو جمہوریت کی بقا قرار دیتے ہیں۔

جمہوریت کی بقا کیا صرف انتخابات میں پائی جاتی ہے ، یا اس کے لئے جمہوری رویوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جمہوری رویے کیا ہوتے ہیں۔ ان کا اظہار کس طرح ہوتا ہے۔

ہم نے دیکھا کہ پاکستان کی عدالتوں نے گزشتہ سالوں میں اپنے فیصلوں سے قوم کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان میں جس طرح حکومت کی جاتی ہے اس میں جمہوریت کا شائبہ تک نہیں ہوتا ہے۔

یہ نعرہ ووٹ کو عزت دو تو اب اس لئے لگایا گیا ہے کہ جو بھی لوگ اپنے اثرات کی بناء پر منتخب ہوجائیں انہیں کچھ بھی نہ کہا جائے۔ ان سے کسی قسم کا سوال کوئی نہ کرے۔

بس انہیں بھر پور اختیارات کے ساتھ حکومت کرنے کی آزادی دی جائے تاکہ وہ اپنے پانچ سال من مانے طریقے سے مکمل کریں۔ پھر یہ ہی عناصر کہتے ہیں کہ ان کے مستقبل کا فیصلہ عوام کی عدالت کرے گی۔ کہا گیا ہے کہ ووٹ کو عزت دو ، یہ نہٰں کہا گیا ہے کہ ووٹر کو عزت دو، انتخابات گزرنے کے بعد اس کی بات بھی سنو۔

لوگوں کے جان ، مال اور عزت کے تحفط کی جہاں تک بات ہے تو ہم نے دیکھا کہ پاکستان میں مختلف اسباب کی بناء پر لوگوں کی گمشدگی یا لاپتہ ہوجانا ایک عام سی بات بنادی گئی ہے۔

حکومتوں کے ماتحت ادارے ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ عدالتیں بار بار کہتی ہیں کہ گمشدہ افراد کا پتہ یا ٹھکانہ بتایا جائے لیکن حکومتی ادارے ہر بار ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔ کیا پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں نے کوئی قدم اٹھایا ۔ ان گھرانوں کی خواتین نے کراچی ، حیدرآباد میں مظاہروں کا پروگرام بنایا جن کے کفیل یا بھائی اور بیٹے اچانک غائب کر دئے گئے۔ ایسے لوگ بھی ان میں شامل ہیں جنہیں گمشدہ ہوئے سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا ہے۔

خواتین نے پہاڑ سر پر نہیں اٹھایا بلکہ چلچلاتی دھوپ اور شدید گرمی میں سڑکوں پر بیٹھ کر خود کو سورج کی تپش سے جلایا اور عام و خواص کو احساس دلایا کہ ان کے والد، بھائی بھی انسان ہیں اور ان کے گھرانے بھی انسانوں پر مشتمل ہیں۔ انہیں بھی اپنے والد اور بھائی کے تحفظ کا خوف کھائے جاتا ہے۔ انہیں یہ حق تو آئین پاکستان دیتا ہے کہ انہیں تحفظ دیا جائے۔

انہیں بتایا جائے کہ ان کے والد یا بھائی کیوں گم شدہ ہوئے ہیں۔ اس طرح سیاسی مخالفین کی گمشدگی ایران میں ساواک کے ہاتھوں عام تھی۔ ساواک شہنشاہ ایران کی حکومت کے دور میں خفیہ ادارہ تھا جو لوگوں کو گم کردیا کرتا تھا اور وہ لوگ کبھی واپس نہیں آیا کرتے تھے۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس طرح کی کارروائیاں عام تھیں جن سے ان ممالک کی حکومتوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ پاکستان میں بھی مختلف ادوار میں لوگوں کو جبری غائب کرنے کا رواج ہے۔ یہ رواج اب عام ہو گیا ہے۔

اتنا عام ہوا کہ اس رواج کے خلاف آواز اٹھانا بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ آواز اٹھانے والوں کی آواز کو دبانا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ خواتین کے مظاہروں کا ذرائع ابلاغ کی اکثریت نے بلیک آوٹ کیا۔ اسی طرح جیسے خیبر پختون خوا کے منظور پشتین نامی شخص کی عوامی رابطوں کی سرگرمیوں کو چھاپنے کی بجائے چھپایا گیا۔

نشر کرنے کی بجائے نظر انداز کیا گیا۔ یہ کوشش بے نتیجہ اس لئے رہی کہ سوشل میڈیا اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے اس کی تشہیر کی۔ سوشل میڈیا تو اس قدر طاقت ور ہو گیا ہے کہ موبائل فون رکھنے والا ہر شخص معلومات کا بارودی دھماکہ ساتھ لئے گھومتا ہے۔ اس کی وضاحت کون کرے گا کہ سیاسی مخالفت کیا ہوتی ہے یا قومی مفادات کے خلاف کام کرنا کیا ہوتا ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ ریاست کے نظام کو کمیونزم کے ماتحت چلانے کے لئے کام کرنے والے ریاست مخالف قرار دئے جاتے تھے۔ لاہور کے شاہی قلعہ کی دیواریں گواہ ہیں کہ لوگوں نے اپنے نظریہ کی تشہیر کرنے کی سزا کس کس اذیت ناک طریقوں سے برداشت کی۔

حسن ناصر کی چیخیں آج بھی رات کے کسی پہر شاہی قلعہ میں گونجتی ہوں گی۔ ’’ چل اڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانا ‘‘ کا گانا گا کر نظیر عباسی نے ان پر کئے جانے والے انتہائی تشدد کا اظہار اس وقت کیا جب انہیں شیشوں کی کرچیوں پر گھسیٹا جا رہا تھا۔

لوگوں کو اغواء کرنا، پھر ان کی تشدد زدہ لاشوں کا ملنا یہ یقین دلاتا ہے کہ پاکستان میں پارلیمنٹ موجود ہی نہیں ہے۔ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے گرفتار کرتے وقت اس کا جرم بتایا جائے۔

ریاستی ادارے ممکن ہے کہ یہ بات درست کہتے ہوں کہ لوگ ریاست مخالفت میں چار قدم آگے چلے گئے ہیں۔ ان کا یہ جرم قابل معافی نہٰں ہے لیکن انہیں آئینی عدالتوں کے رو برو پیش کرنا یا کرانا ہی تو حکومت اور پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔

عدالتیں انہٰں ملک دشمن قرار دیں اور انہیں بر سر عام سزا دے دی جائے لیکن ان کے گھر والوں کو اس اذیت سے نجات دلانا کسی کی تو ذمہ داری ہے اور وہ ذمہ داری پارلیمنٹ ہی کو پوری کرنا ہوتی ہے۔

اس پارلیمنٹ میں اکثریت رکھنے والی جماعت جو حکومت بناتی ہے اسے پوری کرنا ہوتی ہے۔ اسی ذمہ داری کو نبھانے کے لئے عام انتخابات کے ذریعہ پارلیمنٹ کو منتخب کیا جاتا ہے۔ اس تماش گاہ میں اگر پارلیمنٹ پاکستان میں عوام کی بھلائی کے لئے کام کرے ۔

، غربت کے خاتمے کے لئے کوئی با مقصد کام کرے ، عوام کی فلاح و بہبود کے پیش نظر اقدامات کرے ، عوام کو فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائے ، عوام کے انفرادی اور اجتماعی تحفظ کے لئے اقدامات کرے ، لوگوں کے اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنائے تو انتخابات ضرور ہونا چا ہیٗں ۔ ختم شد

مزید : رائے /کالم


loading...