فاٹا انضمام کی مخالفت کیوں؟

فاٹا انضمام کی مخالفت کیوں؟
فاٹا انضمام کی مخالفت کیوں؟

  



عجیب بات ہے کہ جمعیت العلمائے اسلام فضل الرحمن گروپ نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں فاٹا بل کے خلاف صرف ایوان سے بائیکاٹ کیا، جو ان کا جمہوری حق تھا، لیکن جب یہی بل خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش ہوا تو گھیراؤ، جلاؤ کی صورت حال پیدا کر دی۔

جو بل ملک کے دو بڑے مقتدر ایوانوں سے پاس ہو چکا ہو کیا اسے خیبر پختونخوا اسمبلی میں روکا جا سکتا تھا؟ کوئی عقل کا اندھا ہی اثبات میں جواب دے گا، پھر مولانا فضل الرحمن نے یہ ڈرامہ کیوں کیا، کیوں مدرسوں کے طالب علموں اور معلمین کو اسمبلی کا گھیراؤ کرنے کے لئے بھیجا، جنہیں اس بات کا قطعاً علم نہیں ہوگا کہ فاٹا بل کیا ہے اور اس کے پاکستان کی سلامتی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ صاف لگ رہا ہے کہ ایسا صرف سیاسی فائدے کے لئے کیا گیا، تاکہ فاٹا کے ان لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کی جا سکیں، جو انضمام کے حق میں نہیں، حالانکہ صورت حال یہ ہے کہ انضمام بل پاس ہوا تو قبائلی علاقوں میں جشن منایا گیا، لوگوں نے خوشی سے دھمالیں ڈالیں، لیکن دوسری طرف جے یو آئی (ف) نے پشاور کی سڑکوں کو میدانِ کار زار بنا دیا۔

مولانا فضل الرحمن جو ہمیشہ پارلیمینٹ کی بالا دستی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں اور جنہوں نے عمران خان کو اسی لئے ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ اسمبلی کے اندر بات کرنے کی بجائے دھرنے دیتے ہیں، جو غیر جمہوری عمل ہے، اب وہ خود اس راہ پر چل نکلے ہیں اور پُر تشدد راستہ اختیار کر کے انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کی سیاست بھی مفادات کے گرد گھومتی ہے، وگرنہ وہ اپنے کارکنوں کو یہ حکم نہ دیتے کہ اسمبلی کا گھیراؤ کر لو، ارکان اسمبلی کو اندر نہ جانے دو، فاٹا انضمام بل کو پاس کرنے کی کوشش ناکام بنا دو۔ ایسا شاید ہی پہلے کبھی ہوا ہو کہ ارکانِ اسمبلی کو اندر جانے سے روکنے کی اس طرح کوئی کوشش کی گئی ہو اور وہ بھی صرف اس لئے کہ وہ ملک کے دو بڑے پارلیمانی ایوانوں سے منظور شدہ بل کی منظوری نہ دے، لیکن یہ تو سراسر ایک احمقانہ فعل نظر آتا ہے، جس کی تائید کوئی بھی جمہوریت پسند آدمی نہیں کر سکتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان میں بھی فاٹا انضمام بل کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ انہیں بھلا کیا تکلیف ہے اور کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر ہونے والے فیصلوں پر احتجاج کریں، لیکن ان سے یہ سوال پوچھنے سے پہلے ہمیں فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی سے یہ سوال پوچھنا چاہئے کہ وہ پوری قوم کی منشاء کے خلاف اس انضمام بل کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں۔

افغانستان کی تو سمجھ آتی ہے کہ وہ فاٹا کے صوبے کی حدود میں آنے کے بعد اس طرح سے در اندازی نہیں کر سکے گا، جیسے قبائلی نظام کے ہوتے ہوئے کرتا آیا ہے۔

اب وہ علاقہ غیر نہیں رہا، بلکہ پاکستان کے آئین کی حدود میں واقع ایک علاقہ بن گیا ہے، وہاں حکومت کا زیادہ بہتر کنٹرول ہو جائے گا، ترقی ہو گی، قبائلی عوام میں سیاسی شعور آئے گا اور وہ افغانستان میں کام کرنے والے گروپوں کے آلہ کار نہیں بنیں گے، لیکن پاکستان کے اندر اس کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟ مولانا فضل الرحمن اس سارے معاملے میں ایک شکست خوردہ شخص نظر آ رہے ہیں، جو سینٹ اور قومی اسمبلی میں تنہا رہ گئے اور بالآخر انہیں پُر تشدد راستہ اختیار کرنا پڑا، جو ان کے جمہوری دعوؤں کی یکسر نفی ہے۔

محمود خان اچکزئی کا بیانیہ تو ہمیشہ سے اینٹی پاکستان رہا ہے۔ وہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہ بولیں تو ان کی تسلی نہیں ہوتی، لیکن مولانا فضل الرحمن تو ایسے بیانیہ سے ہمیشہ دور رہے ہیں، پھر نجانے وہ کون سی مجبوری ہے جس کی وجہ سے وہ فاٹا انضمام بل کے معاملے پر اچکزئی کے حلیف بن گئے ہیں؟ ابھی تک ان دونوں نے کوئی ایسی ٹھوس وجہ بیان نہیں ،جسے اُن کی دلیل سمجھا جائے، بس مخالفت برائے مخالفت کے راستے پر چل رہے ہیں۔ اچکزئی تو ظاہر ہے، اس بیانیہ کے ساتھ ہوتے ہیں جو افغانستان یا بھارت کا ہوتا ہے، سو انہوں نے وہی کیا، لیکن مولانا فضل الرحمن کیوں اتنی انتہا پر چلے گئے ہیں؟ اس کی وجہ سمجھ نہیں آرہی۔

وہ دیگر سیاسی جماعتوں کو تو اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کار کہہ سکتے ہیں، مگر فاٹا انضمام بل کی سب سے زیادہ حمایت جماعت اسلامی نے کی ہے۔ سراج الحق سب سے بڑے حامی ہیں اور انہوں نے اس کے لئے کوششیں بھی بہت کی ہیں۔

جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف)متحدہ مجلس عمل میں حلیف ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ وہ اس مسئلے کو آپس میں حل نہیں کرسکیں۔ اب اس متضاد صورت حال کے ساتھ وہ الیکشن میں کیسے جائیں گی؟ جماعت اسلامی فاٹا انضمام کا کریڈٹ لے گی اور جمعیت اس کی مخالفت کرکے ووٹ مانگے گی۔

ایک ہی انتخابی اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں کی یہ دو عملی کیا ووٹروں کو پریشان نہیں کردے گی؟ مولانا فضل الرحمن کے اصل اتحادی تو سراج الحق ہیں، اُن کا ساتھ دینے کی بجائے انہوں نے محمود خان اچکزئی کا ساتھ کیوں دیا؟ مولانا فضل الرحمن ہمیشہ قومی دھارے کی سیاست کرتے رہے ہیں، لیکن فاٹا کے معاملے پر وہ مین سٹریم سے کٹ کر رہ گئے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے اُن کی کئی ملاقاتیں ناکامی پرمنتج ہوئیں۔۔۔ حالانکہ کہا یہ جارہا تھا کہ فاٹا انضمام کا بل نواز شریف کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہورہا ہے، مگر اب یہ بل مسلم لیگ (ن) ہی کی وجہ سے پاس ہوا ہے، کیونکہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں اس کی اکثریت ہے۔ تاثر یہ پھیلایا گیا تھا کہ نواز شریف، محمود خان اچکزئی کی وجہ سے اس بل کو موجودہ پارلیمنٹ سے منظور نہیں کرانا چاہتے۔

حیرت ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ اگر مسلم لیگ (ن) اس بل کو پاس کرنے پر رضا مند ہوگئی ہے تو اس کا مطلب ہے، اب اس کو پاس ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

اس موقع پر بھی مرکزی دھارے میں شامل ہونے کی بجائے، مولانا نے الگ راستہ اختیار کیا اور بہت پیچھے رہ گئے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں اس بل کی منظوری کے وقت جو ہنگامہ کرایا، وہ اُن کی جھنجھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بہت آئیڈیل صورت حال تھی کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کردیا جائے، کیونکہ فوجی آپریشنو ں کے ذریعے فاٹا سے دہشت گردی کے خاتمے اور وہاں قانون کی عملداری کے بعد ضروری تھا کہ قبائلی عوام کو ایک ریاستی نظام کی چھتری تلے لایا جائے، اُن کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے کوئی باقاعدہ پلان ترتیب دے کر اس پر عمل کیا جائے۔

ماضی میں ہمیشہ ایسا ہوتا آیا ہے کہ فوج نے اپنے آپریشن کے ذریعے قبائلی علاقوں میں امن قائم کیا، لیکن ایسا سول نظام نہ دیا ، جو وہاں حکومتی رٹ قائم کرے، جس کے باعث آپریشنوں کے اثرات دیر پا ثابت نہ ہوسکے۔

اب فاٹا کے انضمام سے یہ مشکل حل ہوگئی ہے، اب وہاں باقاعدہ حکومتی رٹ قائم ہوگی، پولیس، انتظامیہ، عدلیہ اور دیگر شہری ادارے کام کریں گے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، صنعتیں لگیں گی، ترقی ہوگی، سیاحت کو فروغ ملے گا، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ امن و امان مستقل بنیادوں پر قائم ہو جائے گا۔

حکومت نے آنے والے برسوں میں یہاں ایک کھرب روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کی فاٹا انضمام بل میں بھی یقین دہانی کرا دی گئی ہے۔ جب فاٹا کے عوام براہ راست اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے اور سیاسی جماعتیں وہاں اپنا انتظامی ڈھانچہ قائم کریں گی تو اس خطے کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہے گا ۔۔۔پھر کون سا ایسا ملک ہے، جو اپنے ہی کسی حصے کی ملکیت قبول نہ کرے اور اسے ملکی قانون اور آئین کے دائرے سے باہر رکھے۔

فاٹا اس لئے سماج دشمنوں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا رہا کہ وہاں قانون کی عملداری ہی موجود نہیں تھی۔ حکومت اپنا ایک پولٹیکل ایجنٹ بٹھا کر کام چلاتی تھی، جو ایک کمزور سا انتظامی نظام تھا۔اب باقاعدہ صوبے کا حصہ بن جانے کے بعد فاٹا بھی اسی طرح حکومتی نظام کے دائرے میں آ گیا ہے، جیسے پورا ملک چل رہا ہے۔

یہ بڑی خوشی اور اطمینان کی بات ہے اور پورے پاکستان میں اس پر مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاست وہی ہے، جو حالات کی نزاکتوں کو بھانپ لے، وہ سیاست ہی کیا جو صرف اپنی ضد اور انا کی تسکین کے لئے کی جائے۔

فاٹا بل کی مخالفت کرنے والوں نے ایک تاریخی موقع پر قومی رائے کا ساتھ دینے کی بجائے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کھڑی کی اور تنہا رہ گئے، پھر اگر مخالفت کی تھی تو اسے جمہوری انداز تک محدود رکھنا چاہئے تھا، رائے شماری میں مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی نے حصہ نہیں لیا اور بائیکاٹ کیا۔

یہ ان کا صوابدیدی اختیار تھا، لیکن سڑکوں پر اپنے حامی بھیج کر اسمبلی کی کارروائی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنا کسی بھی طرح جمہوری رویہ قرر نہیں دیا جا سکتا، 70 سال بعد اگر ہم بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں تو اسے خوش قسمتی سمجھنا چاہئے، اگر دشمنوں کو ہمارے اقدامات سے تکلیف ہو رہی ہے تو یہ اس امر کی گواہی ہے کہ ہم درست فیصلے کر رہے ہیں۔

ہمیں ملک کے کونے کونے کو محفوظ بنانا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنا کوئی علاقہ بھی نو مین لینڈ نہ رہنے دیں۔ فاٹا ایک ایسا ہی علاقہ تھا، جو اب پاکستان کے آئین کی عملداری میں آ گیا ہے، جو عام انتخابات سے پہلے ایک بڑی کامیابی اور بہت اچھی خبر ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...