جاسوسی سرگزشت (1)

جاسوسی سرگزشت (1)
جاسوسی سرگزشت (1)

  



آج کل ہمارے میڈیا پر ایک کتاب کے بڑے چرچے ہو رہے ہیں۔ ایک تو یہ کتاب انگریزی زبان میں ہے، دوسرے اس کے مصنفین پاکستان اور انڈیا کی ٹاپ کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہ رہ چکے ہیں، تیسرے کتاب میں کئی ایسے موضوعات شامل ہیں جن کے متعلق آج کا ہر پاکستانی قاری اور ناظر / سامع جاننا چاہے گا۔اور جب یہ جانکاری بقول انگریزی محاورہ ’’گھوڑے کے منہ سے‘‘ کہی جا رہی ہو تو لوگوں کی دلچسپی کا سارا گرم مصالحہ اس میں موجود ہوگا۔

اور جب اس میں پاکستان کے حالیہ سیاسی طوفان کی ان لہروں کی طرف بھی اشارے موجود ہوں جنہوں نے سمندر کی تہہ سے بہت سے گہر ہائے آبدار اور خزف ریزے نکال کر ساحل پر پھنیک دیئے ہوں تو اس کتاب کے مندرجات اوراس کی ٹائمنگ واقعی اہم بن جاتی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ایک عام پاکستانی قاری کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس کتاب میں ایسی کون سی بات یا باتیں ہیں جن پر دن رات ہمارے ٹیلی ویژن چینلوں اور اخباروں میں لے دے ہو رہی ہے۔۔۔ یہ کالم اسی مقصد کو پیش نظر رکھ کر تحریر کیا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے کہ اس کے مندرجات پر کوئی تبصرہ کیا جائے مناسب ہوگا کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ کتاب کیا ہے، اس کا پلاٹ کیا ہے اور اس کے کردار کون ہیں:

1۔ سب سے پہلے تو یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ یہ کتاب معروف معنوں میں ایسی تحریر نہیں جو اس کو بطور ایک کتاب متعارف کرواتی ہو۔ یہ ان مباحث اور موضوعات پر مشتمل ایک مسلسل ڈائیلاگ ہے جو دو کرداروں کے گرد گھومتا اور ان کی زبان سے کئی راز اگلتا معلوم ہوتا ہے۔ یہ ’’راز‘‘ کا لفظ اس لئے استعمال کر رہا ہوں کہ یہ ڈائیلاگ چند اہم رازوں پر سے پردہ اٹھانے کے لئے ہی تو ترتیب و تشکیل دیا گیا ہے!۔۔۔ذرا ذہنی افق کو کھینچنے کی ضرورت ہے!!

2۔ اس کا حجم 255صفحات پر مشتمل ہے، اس میں کوئی نقشہ یا تصویر نہیں۔ البتہ لکھاریوں کے تین عدد پاسپورٹ سائز بلیک اینڈ وائٹ فوٹوگراف موجود ہیں۔

3۔اس کا عنوان یہ ہے:

Spy Chroricles

RAW, ISI and

Illusion of Peace

اس کا ترجمہ یہ کیا جا سکتا ہے:

جاسوسی سرگزشت

را اور آئی ایس آئی اور

امن کا سراب

4۔اس مجموعے کے مکالمہ گو حضرات کے نام اے ایس دلت اور اسد درانی ہیں۔ ایک تیسرا نام بھی سرورق پر دیا گیا ہے اور وہ ادیتا سنہا کا ہے۔ اے ایس دلت (A.S.Dulat) انڈیا کی ’’را‘‘ کے ایک برس (1999-2000ء) تک سیکرٹری رہے۔

اور اسد درانی بھی ایک سال (1990-91ء) تک پاکستان کی آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔ اسد درانی پاک فوج کے ریٹائرڈ تھری سٹار جنرل ہیں۔۔۔ تیسرا شخص ادیتا سنہا (Aditya Sinha) ایک معروف انڈین صحافی ہے۔ ایک سے زیادہ کتابیں تحریر کر چکا ہے اور آجکل دہلی میں قیام پذیر ہے۔

5۔کتاب کا سارا مواد ان ٹی وی ٹاک شوز کی طرح کی ایک تحریری دستاویز ہے جو روزانہ پاکستان میں منعقد کئے جاتے ہیں اور جنہیں سارا جگ بڑے شوق سے دیکھتا اور سنتا ہے۔

لیکن یہ ٹاک شوز نہ پاکستان میں منعقد کئے گئے نہ انڈیا میں بلکہ ترکی (استنبول)، تھائی لینڈ (بنکاک) اور نیپال کے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں کئے گئے۔ یہ سارے ٹاک شوز سال 2016ء میں منعقد ہوئے۔ شرکائے بحث جنرل اسد درانی اور اے ایس دلت تھے اور ادیتا سنہا بطور اینکر ان شوز کا میزبان تھا۔

جیسا کہ ہم آئے روزٹی وی ٹاک شوز میں دیکھتے ہیں کہ ان کا اینکر بعض اوقات شرکائے مباحثہ سے بھی زیادہ بحث و تمحیص میں الجھتا ہے اور مکالمے کو آگے بڑھانے میں اس کا ایک مرکزی کردار ہوتا ہے اور موضوعِ زیرِ بحث کی اکثر تفصیلات کا علم بھی اسے ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے رول کی اہمیت کو کسی طرح بھی کم نہیں سمجھا جانا چاہئے۔

اور چونکہ یہ مجالس دو حریف ممالک کے چوٹی کے راز دانوں اور جاسوسوں کی نشستوں سے عبارت تھیں اس لئے اینکر کو بعض نکات کا زیادہ علم نہیں تھا۔ اس کتاب میں اسی لئے مسٹر سنہا بعض اوقات چپ چاپ بیٹھے دونوں حضرات کو سنتے رہتے ہیں اور بعض اوقات معلوم ہوتا ہے کہ ان کو شرکائے بحث سے بھی کچھ زیادہ خبروں تک رسائی ہے۔

ہمارے اپنے ہاں بھی بعض صحافی حضرات کے علم میں ایسی ایسی دھماکہ خیز خبریں ہوتی ہیں جن کا علم انٹیلی جنس اداروں کو بھی نہیں ہوتا۔(حال ہی میں ڈان کے سرل المیڈا کی دو عدد ’’ڈان لیکس‘‘ کا سیاق و سباق تو اب کوئی راز نہیں رہا اور عین ممکن ہے کہ ان دونوں ’’رازوں‘‘ سے آئی ایس آئی یا ایم آئی کے اربابِ اختیار ناوقف ہوں)

6۔ اس کتاب کے سات حصے ہیں اور ہر حصے میں کئی ابواب ہیں۔ میں ان حصوں اور ابواب کی تفصیل ذیل کی سطور میں دے رہا ہوں:

* حصہ اول [سٹیج سیٹ کی جاتی ہے]

(1)اگر ہم افسانہ یا ناول ہی لکھ رہے ہوں تو بھی ہم پر کوئی یقین نہیں کرتا۔

(2) ایک حادثاتی جاسوسِ اعظم

(3) پیٹی بھائی کی طرف سے ایک ریسکیو

* حصہ دوم [دنیا کا دوسرا قدیم ترین پیشہ]

(4)پاکستان کی ’’ریاست در ریاست‘‘

(5) ’’آئی ایس آئی‘‘ بمقابلہ ’’را‘‘

(6) سی آئی اے اور دوسری انٹیلی جنس ایجنسیاں

(7)انٹیلی جنس ڈائیلاگ

* حصہ سوم [کشمیر]

(8) سٹیٹس کو

(9) K سے شروع ہونے والا اہم لفظ

(10) امان اللہ گلگتی کا خوابِ آزادی

(11) کشمیر:مودی کے دور میں

(12) ناپسندیدہ اور غیر مقبول ڈاکٹر فاروق عبداللہ

(13) جو لے سکتے ہو، لے جاؤ

* حصہ چہارم [کابوکی]

(14) انڈیا اور پاکستان: دو دوست(تقریباً)

(15) اکیلا پرویز مشرف

(16) مودی کی حیرت انگیز چالیں

(17)ڈوول (Doval) ڈاکٹرین

(18) ضدی اور اکھڑ لوگ

(19) بی بی، میاں صاحب اور عباسی

(20) قابلِ تعریف ارتعاشات۔۔۔ انڈیا۔ پاکستان

* حصہ پنجم [فلیش پوائنٹس]

(21)حافظ سعید اور 26/11

(22)کلبھوشن یادیو

(23)باتیں بھی اور دہشت بھی

(24)سرجیکل سٹرائک

(25)جنگ کی سیاسیات

* حصہء ششم [نئی گریٹ گیم)

(26)اسامہ بن لادن کے لئے سودے بازی

(27)افغانستان میں خود غرضی اور خود غرضانہ مفادات

(28) ڈونالڈ ٹرمپ۔ ایک بڑا اشارے باز

(29) پاکستان کا یارجانی۔ پیوٹن

* حصہ ء ہفتم [آئندہ کیا ہونے والا ہے]

(30) سٹرکچر بنایا جائے یا برف توڑی جائے؟

(31) جاسوسوں کی کونسل

(32)اکھنڈ بھارت کانفڈریشن ڈاکٹرین

(33)دیوانگی ختم

مندرجہ بالا تفصیلات درج کرنے کا مدعا یہ ہے کہ قاری کو سمجھ آ سکے کہ کتاب کا مواد کن کن موضوعات سے عبارت ہے۔۔۔ کتاب کے شروع میں ایک دیباچہ لگایا گیا ہے جو مسٹر سنہا کی تحریر ہے۔

اس میں انہوں نے کوئی نئی بات نہیں لکھی اور کسی پرانے راز سے بھی پردہ نہیں اٹھایا۔ را کے بارے میں بھی اور آئی ایس آئی کے بارے میں بھی مغربی ممالک میں وہ ساری باتیں پڑھنے اور دیکھنے سننے کو مل جاتی ہیں جو اس کتاب میں درج ہیں۔

تاہم جیسا کہ میں نے قبل ازیں عرض کیا یہ سارے راز دہانِ اسپ (Horses Mouth) سے نکلے ہیں اس لئے ان پر یقینِ کامل نہیں تو کم از کم یقینِ نیم کامل تو کیا ہی جا سکتا ہے۔

یہ بات میں اس لئے بھی لکھ رہا ہوں کہ خود میں نے بھی کچھ برس آئی ایس آئی میں کام کیا ہے۔ ویسے تو ایک نو عمر کپتان کو کیا خبر ہوتی ہے کہ انٹیلی جنس کس چڑیا کا نام ہے لیکن مجھے جنون کی حد تک شوق تھا کہ دیکھوں کہ یہ ادارہ کیوں اتنا مشہور (یا بدنام) ہے۔

اس دوران وہاں کے بہت سے افسروں سے میری دوستی رہی جن میں بحریہ، فضائیہ اور آرمی کے افسران شامل تھے۔ میں اکثر ان کے ہاں چلا جایا کرتا تھا اور چپ بیٹھاان کی باتیں بغور سنتا رہتا تھا۔

یہ باتیں میرے لئے بالکل نئی اور حیرت انگیز تھیں۔ اور یہی جذبۂ تجسس تھا جو مجھے قیامِ اسلام آباد کے برسوں میں ’’دربدر‘‘ پھراتا رہا:

چہ خوش است از دو یکدل سرِحرف باز کردن

حرفِ ناگفتہ گفتن، گلہ را دراز کردن

مسٹر سنہا کے دیباچے کے بعد مسٹردلت کا تعارف ہے جو تین صفحات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی دو اڑھائی صفحات پر مشتمل جنرل درانی کا پیش لفظ بھی ہے جس پر مارچ 2018ء کی تاریخ درج ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سارا ملبہ، ملغوبہ یا سرمایۂ معلومات و خرافات، دو تین ماہ پہلے اکٹھا کیا گیا ہے۔

میں نے کل شب اگرچہ نصف سے زیادہ یہ کتاب پڑھ لی لیکن یقین کیجئے اس میں بڑی معلوماتی اور دلچسپ باتیں ایسی بھی ہیں جن کو پڑھتے ہوئے قاری ہرگز بور نہیں ہوتا۔ کتاب کی ایک اور خوبی مکالمہ جات کا اختصار ہے۔

جس جس جگہ اینکر لقمہ دیتا (یا لیتا) ہے وہ بھی دلچسپ ہے۔ تاہم میرے ذہن میں اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے اور کئی سوال ابھرے، جن کا جواب نہ مل سکا ۔۔۔اوروہ یہ ہیں:

1۔کتاب لکھنے کا یہ آئیڈیا کس نے مارکیٹ کیا؟۔۔۔ اُس کا مقصد کیا تھا؟۔۔۔ بیرون ملک جا کر جو انٹرویو کئے گئے ان کا انتظام و انصرام کس نے کیا؟

2۔ کیا آئی ایس آئی اور را کے چیفس نے یہ مالی بوجھ اپنی جیبوں سے برداشت کیا یا کسی ’مخیر دردِ دل رکھنے والے‘ صاحبِ دماغ نے برداشت کیا۔ اس ’’صاحبِ دماغ‘‘ کا مفاد اس کتاب کی اشاعت میں کیا تھا؟

3۔ ویسے ماسوائے ایک دو واقعات کے باقی سارے واقعات وہی ہیں جو دونوں ممالک کے میڈیا اور اس کے توسط سے پبلک کو بھی معلوم ہیں۔تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ بات تھی تو اس کی اتنی پبلسٹی کیوں کی گئی؟

4۔ جنرل درانی تو 25 برس پہلے ریٹائر ہوچکے تھے۔ لیکن اس کے باوجود جب وہ حالیہ واقعات پر تبصرہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے جیسے وہ آج بھی ڈی جی آئی ایس آئی ہوں۔ کیا یہ حافظے کی کرامت ہے یا کوئی ایسا سبب ہے جو بادی النظر میں کسی قاری کو نظر نہیں آتا۔

5۔ بعض واقعات کی تفصیلات پاکستان کے نقطۂ نظر سے برسرعام نہیں آنی چاہئے تھیں اور اگر آگئی ہیں تو ہمیں انتظار کرنا ہوگا کہ 28مئی کو جنرل صاحب کی جو پیشی جی ایچ کیو میں ہوئی اس کا نتیجہ (Outcome) کیا نکلتاہے۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم


loading...