ایٹمی دھماکوں کے جواب سے بھارت سمجھ گیا وہ میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا : احسن اقبال

ایٹمی دھماکوں کے جواب سے بھارت سمجھ گیا وہ میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا : احسن ...

  



نارووال(نامہ نگار )وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ20واں یوم تکبیر کے حوالہ سے آج کا دن اہمیت کا حامل ہے سرحد پار دشمن ملک نے 5ایٹمی دھماکے کر کے للکارا تھاجس کے بدلہ میں پاکستان نے6ایٹمی دھماکے کئے تو بھارت کو اندازہ ہو گیا وہ پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہماری امداد بند کی گئی حکومت نے نہایت کامیابی سے پابندیوں کا مقابلہ کیاآج پوری دنیا کو پتہ چل چکا ہے کہ پاکستانی قوم کا عزم اور ولولہ دنیا کی کسی قوم سے کم نہیں ہے اور پوری قوم ایٹمی صلاحیت کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے 934ملین کی خطیر رقم سے100ایکٹر پر بننے والی یونیورسٹی آف نارووال اور 200ایکٹر پر 5بلین سے زائد رقم پر زیر تعمیر یو ای ٹی یونیورسٹی کے افتتاح کے موقع پر کیا ۔ اس موقع پر صوبائی پارلیمانی سیکریٹری پنجاب خواجہ وسیم بٹ،ایم پی اے سردار رمیش سنگھ اروڑا،ضلعی چیئرمین احمد اقبال،چیئرمین بلدیہ پیر سید اظہر گیلانی،ڈائریکٹر یونیورسٹی آف نارووال ڈاکٹر اشفاق بھی موجود تھے،وزیر داخلہ نے کہا کہ اب امن اس خطہ میں قائم ہو چکا ہے ہم پر امن اور با عزت قوم ہیں پاکستان کو نا قابل تسخیر بنانے میں سائنسدان ہیں جس دور میں ہم داخل ہو رہے ہیں وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے جس قوم میں جدید سائنس و ٹیکنالو جی کی صلاحیت ہو وہ کبھی پیچھے نہیں رہ سکتی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا4سالوں میں ڈھائی ہزار سالانہ میگا واٹ بجلی پیدا کی گئی،دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے ابھی معاشرہ سے نفرت کو ختم کرنا ہے میں بھی آج نئی زندگی لیکر کھڑا ہوں اس کے پیچھے بھی نفرت کا زہر ہے ختم نبوت کے نام پر زہر کا بیج بویا گیاکلمہ گو انسان پروپیگنڈا نہیں کر سکتا اسی پرو پیگنڈا کے تحت میرے اوپر گولی چلائی گئی نواحی علاقہ کے عاشق رسولﷺ کی وجہ سے مجھے زندگی ملی اسی کی کال سننے سے گولی کہنی پر لگی جو ڈھال بن گئی اور وہ گولی پیٹ کے اندر بیٹھ گئی ہے وہ گولی اب جسم کے اندر رہے گی اور یاد دلاتی رہے گی کہ ہم نے ابھی نفرت کے خاتمہ کے لئے کام کرنا ہے میں نے اپنے حلقہ کوپہلے جوانی اور پسینہ دیا ہے اب میں کہ سکتا ہوں علاقے کی ترقی کے لئے اپنا لہو دیا ہے اور یہ قربانی ضرور رنگ لائے گی۔

احسن اقبال

مزید : صفحہ آخر


loading...