عاصمہ حامد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تعینات ہو نے والی پہلی خاتون بن گئی

عاصمہ حامد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تعینات ہو نے والی پہلی خاتون بن گئی

  



لاہور ( خصو صی رپورٹ )عاصمہ حامد ایڈوو کیٹ جنرل پنجاب تعینات ہو نے والی صوبہ کی پہلی خاتون بن گئی ہیں ۔ عاصمہ حامد نے امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی سے ’آئین قانون ‘ میں ماسٹر ز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور اپنی قابلیت کے با عث وہ جنوری 2014 میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بھی تعینات رہ چکی ہیں جبکہ وہ دو مرتبہ قائم مقام ایڈوو کیٹ جنرل کے عہدے پر بھی فرائض انجام دے چکی ہیں۔عاصمہ حامد سپریم کورٹ کی وکیل ہیں اور وہ صوبہ پنجاب کی جانب سے سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں ہز ا روں کیسز کی کامیاب بحث بھی کر چکی ہیں۔عاصمہ حامد اب تک سرکاری اراضی کو محفوظ بنانے کیلئے کئی کیسز میں صوبے کیلئے اپنی خدمات فر ا ہم کر چکی ہیں۔ ان سب میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل کیس جو صوبہ پنجاب اور سید غضنفر علی شاہ کے درمیان سپریم کورٹ میں چل رہا تھا جس میں عاصمہ حامد نے اپنی قابلیت کی بنا پر جیت لیا تھا اور 117 ایکڑ جنگل کی اراضی کو غیر قانونی قبضے سے چھڑوا کر انہوں نے صوبے کے حق میں محفوظ کر لیا تھا بھی شامل ہے۔عاصمہ حامد سپریم کورٹ میں کئی مقدمات میں اپنی معاونت بھی فراہم کر چکی ہیں جن میں سب سے مقبول مقدمہ قصور میں زینب قتل کیس بھی تھا۔اس کے علاوہ وزیراعلیٰ اور حکومت پنجاب کو کئی دیگر اہم ترین معاملات میں بھی اپنی خدمات فراہم کر چکی ہیں جن میں انرجی ، پراپرٹی،ماحولیات ، میڈیا ،ٹیکس سمیت کئی اور اہم امور شامل ہیں۔2017ء میں انکی سیمنٹ انڈسٹری کو ریگولیٹ کرنے کی کوششیں رنگ لائیں اور حکومت پنجاب نے کابینہ کمیٹی کی اجازت کے بغیر مزید صنعتیں لگانے اور ان میں توسیع پر پابندی لگا دی، اسی کیس میں سیمنٹ فیکٹریز کو چکوال میں زیر زمین پانی استعمال کرنے سے روک دیا گیا تاکہ کٹاس راج مندر کے تالاب میں پانی کی سطح قائم رہے۔

عاصمہ حامد

مزید : صفحہ آخر


loading...