ضلع کچہری میں فائرنگ ، رکن اسمبلی سیف الملوک کھوکھر کے بھتیجے کا قاتل ہلاک ، ملزم گرفتار

ضلع کچہری میں فائرنگ ، رکن اسمبلی سیف الملوک کھوکھر کے بھتیجے کا قاتل ہلاک ، ...

  



لاہور(نامہ نگار،کرائم رپورٹر، خبرنگار)ضلع کچہری میں قتل کے الزام میں پیشی پر آیا ملزم مخالفین کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا،پیشی پر آئے ملزمان ،وکلاء اور سائلین نے چھپ کر اور زمین پر لیٹ کر اپنی جانیں بچائیں،عدالتی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔تفصیلات کے مطابق ضلع کچہری میں گزشتہ روز ایم این اے سیف الملوک کھوکھر کے بھتیجے کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم اسلم عرف اچھو کو ساتھی سمیت جوڈیشل مجسٹریٹ عاطف خان کی عدالت میں پیش کیا گیا۔کیس کی سماعت کے بعد ملزمان کو بخشی خانے کی طرف لی جایا جا رہا تھا کہ راستے میں گھات لگائے ملزم رضا خان نے فائرنگ کردی جس سے اسلم عرف اچھا موقع پر دم توڑ گیاجبکہ اس کا ساتھی معجزانہ طور پر محفوظ رہا، فائرنگ کی آوز سنتے ہی عدالتی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے اور جائے وقوعہ سے ضروری شواہد اکٹھے کرنے کے بعد لاش کو پوسٹمارٹم کیلئے مردہ خانے منتقل کر دیا۔ دوسری طرف مقتول کے ورثاء نے عدالت میں شدید احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ ڈی ایس پی لو ئر مال سر کل محمد وسیم ڈار نے اس حو الے سے بتا یا کہ ملز م اسلم عر ف اچھا کو سخت سکیورٹی میں پیش کیا جا تا تھا تاہم ملزما ن نے عد الت پیشی پر مو قع کا فا ئد ہ اٹھا کر اند ھا دھند فا ئر نگ کر دی، ایک گو لی ملز م کو دما غ پر لگی اور وہ مو قع پر ہلا ک ہو گیا۔واقعہ کے بعد ایس پی سی آئی اے، ایس پی سٹی اور ایس پی کینٹ پر مشتمل اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم نے ضلع کچہری میں ڈیوٹی پر موجود پولیس افسروں اور اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کر کے ابتدائی رپورٹ آئی جی پنجاب کو پیش کردی۔ جس میں قتل کا واقعہ اجرتی قاتل کے ہاتھوں پیش آنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضلع کچہری کے اندر پیشی کے موقع پر ملزم اسلم عرف اچھا کو ایک منصوبہ بندی کے تحت قتل کیاگیا ہے اور قاتل کی مقتول اسلم عرف اچھا کے ساتھ کسی قسم کی دشمنی یا رنجش نہیں پائی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دو ایس پیز کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں قاتل رضا خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ایک کرائے کا قاتل ہے اور اس کی مقتول اسلم عرف اچھا کے ساتھ کسی قسم کی دشمنی نہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قاتل کو ضلع کچہری تک ایک گاڑی میں لایا گیا جس کی کلوز سرکٹ کیمروں میں بھی نشاندہی پائی گئی ہے اور اس گاڑی میں قاتل کے ساتھ پانچ افراد اور بھی موجود تھے جن میں سے دو افراد قاتل کے آگے پیچھے ضلع کچہری میں موجود رہے جبکہ تین افراد ضلع کچہری کے قریب کھڑی گاڑی کے اندر بیٹھے رابطہ میں رہے۔ پولیس کو کلوز سرکٹ کے کیمرے کی مدد سے گاڑی کا نمبر اور ملزمان کی شناخت تک رسائی حاصل کرنے میں کافی حد تک مدد ملی ہے تاہم رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سخت سکیورٹی کے باوجود کچہری کے اندر اسلحہ جانے اور اہلکاروں کی موجودگی میں فائرنگ ہونا ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی نااہلی پائی گئی ہے جس پر سٹی ڈویژن اور جوڈیشل پولیس کو ذمہ دار قراردیا گیا ہے جبکہ ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو قتل کے مقدمہ میں شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔یادرہے کہ مجموعی طور پر لاہور میں بھی 2011ء سے اب تک 10افراد کو عدالتوں میں فائرنگ کرکے قتل کیا جاچکا ہے ۔رواں سال 31جنوری کو سیشن کورٹ لاہور میں کانسٹیبل آصف فائرنگ سے شہید اور زیر حراست ملزم ملک امجد قتل ہوا تھا، 20فروری کو 2 وکلاء کو کمرہ عدالت کے باہر قتل کر دیا گیاتھا ، اسی طرح دیگر واقعات میں بھی اب تک متعدد افراد عدالتوں میں ناقص سکیورٹی کے باعث قتل ہو چکے ہیں،وکلاء مدثر چودھری ، مرزاحسیب اسامہ اور مجتبیٰ چودھری سمیت عدالتوں میں آنے والے سائلین نے کہا کہ پولیس کی جانب سے اضافی نفری تعینات کرنے کے دعوے تو کئے جاتے ہیں مگر صورتحال جوں کی توں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں میں فائرنگ کے واقعات روکنے کیلئے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سکیورٹی کا نظام موثر کرنے کی ضرورت ہے ،وہیں وکلا ء اور عوام کا تعاون بھی ضروری ہے۔

ضلع کچہری/فائرنگ

Back

مزید : صفحہ اول


loading...