نگران وزیر اعظم پر اتفاق ، سیاسی و جمہوعی استحکام بروقت الیکشن پر مہر ثبت ہو گئی

نگران وزیر اعظم پر اتفاق ، سیاسی و جمہوعی استحکام بروقت الیکشن پر مہر ثبت ہو ...
نگران وزیر اعظم پر اتفاق ، سیاسی و جمہوعی استحکام بروقت الیکشن پر مہر ثبت ہو گئی

  

اسلام آباد سے سہیل چوہدری

دیر آئے درست آئے کے مصداق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے ہمراہ 7ویں ملاقات میں بالآخر سابق چیف جسٹس ناصر الملک پر اتفاق رائے کرکے پارلیمانی جمہوری روایات کے حوالے سے ایک قابل قدر مثال قائم کی ہے ،دارالحکومت میں اس اعلیٰ ترین نامزدگی کے حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں جاری تھیں بعض حلقوں کا خیال تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق نہیں ہوگا اور یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی بلکہ اس سے بھی آگے الیکشن کمیشن میں جائے گا ، جبکہ ایسے وقت میں جب اس موضوع پر طرح طرح کی قیاس آرائیوں کے گھوڑے دوڑائے جا رہے تھے تو اس وقت راقم نے اپنے ایک تجزیئے میں واضح طورپر معلومات دی تھیں کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن رہنماء خورشید شاہ کے قریبی حلقوں کے مطابق دونوں رہنماؤں میں نگران وزیراعظم کے ایشو پر اختلافات ایک خاص سطح سے آگے نہیں بڑھیں گے اور دونوں رہنماؤں میں اس مسئلے پر انڈر سٹینڈنگ موجود ہے ، جبکہ یہ انڈر سٹینڈنگ دونوں رہنماؤں کی باڈی لینگویج اور لب و لہجہ سے بھی عیاں تھی ، بالآخر اسی انڈر سٹینڈنگ کے نتیجہ میں پاکستان کی سیاسی و جمہوری تاریخ میں انتقال اقتدار کے حوالے سے ایک نیا باب رقم ہوا ، اس فیصلے سے جہاں ایک عمدہ روایات قائم ہوئی ہے وہاں نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق سے سیاسی و جمہوری نظام کے استحکام کو بھی دوام حاصل ہوا ہے ، جبکہ نگران حکومت کے دور کی ممکنہ غیر ضروری طوالت کے حوالے سے جنم لینے والی چہ مگوئیاں بھی دم توڑ گئی ہیں ، بہت سے حلقوں کا خیال تھاکہ نگران حکومت اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرکے غیر ضروری طوالت اختیار کرسکتی ہے جس کی نتیجے میں عام انتخابات کے التواء کی افواہیں قبل از وقت ہی سرگرم تھیں ، اس فیصلے سے عام انتخابات کے بروقت ہونے پرمہر ثبت ہوگئی ہے ، تاہم بیشتر حلقوں کا خیال ہے کہ یہ نام پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے آیا ہے جس پر پاکستان پیپلزپارٹی نے سر تسلیم خم کرلیا ، اس پیش رفت سے پاکستان مسلم لیگ ن کے حمایتی حلقوں کا مورال بلند ہواہے ، کیونکہ عام تاثر یہی تھا کہ سیاست میں اس وقت ہر فیصلہ یا اقدام مسلم لیگ ن کے خلاف ہی جائے گا،اورانتخابی سیاست میں ن لیگ کے حق میں سیاسی فضانہیں بن پائے گی ، اس تاثر کی یکسر نفی ہوگئی ہے ، جبکہ حکومت اور اپوزیشن میں اس اہم ایشو پر اتفاق رائے نظام کے استحکام کے حوالے سے ایک عمدہ جمہوری پیش رفت ہے تو دوسری جانب سابق چیف جسٹس ناصرالملک کی اپنی شخصیت بھی ایسی ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اس اہم ترین انتقال اقتدار کے مرحلے میں کسی طرح کی بھی مداخلت کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں ، کیونکہ سابق چیف جسٹس ناصرالملک کی شخصیت ایسی ہے کہ پورے پاکستان میں کوئی ان پر انگلی نہیں اٹھا سکتا، چونکہ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے مطالبہ پر انتخابی دھاندلی کے حوالے سے بننے والے کمیشن کی سربراہی کی اس بناء پران کے بارے میں بخوبی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ اس کمیشن کی سربراہی کرکے پاکستان کے معروضی انتخابی سیاست کی جزئیات سے کلی آشنا ہیں اس تجزیہ کی بناپر یہ کہا جاسکتا ہیکہ انہیں ائندہ الیکشن کابروقت ، آزادانہ اورمنصفانہ طورپر انعقاد ممکن ہوپائے گا، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابق چیف جسٹس قدرے خاموش طبع اور دھیمے لہجہ کی حامل شخصیت ہیں اور انہیں کیمروں کی چکا چوند اور کوریج سے کوئی خاص شغف کبھی نہیں رہا ، اس حوالے سے نگران دور کے دو ماہ میں میڈیا کو وزیراعظم ہاؤس سے کوئی خاص چورن نہیں ملے گا، سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ وزیراعظم کا عہدہ بے شک وہ نگران ہی ہوگا اس کا مرتبہ باقی اداروں کے تقابل میں نمایاں نظر آئے گا ، وزیراعظم پر چڑھ دوڑنے کی عادت کے حامل کم ازکم دو ماہ توقف سے کام لیں گے ، جبکہ سابق چیف جسٹس ہر کام انتہائی رسمی لکھے پڑھے اور دستاویزی انداز میں کرنے کی شہرت رکھتے ہیں ، اس لئے ان تمام ملکی معاملات پر اشتراک کام کرنے والوں کو قدرے احتیاط سے کام لینا ہوگا، دارلحکومت میں پارلیمانی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین اختلاف کی خلیج وسیع نہ ہونے اور بالآخر ’’انڈر سٹینڈنگ‘‘پیدا ہونے میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا نام پیش پیش رہا ، جبکہ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ سابق وزریراعظم نوازشریف کے قریبی عزیز اہم کاروباری شخصیت نے بھی حکومت اور اپوزیشن کو نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے پیداکرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔

مزید : تجزیہ