اچانک اتفاق رائے یا سوچی سمجھی سکیم ساری قیاس آرائیاں غلط ثابت ہو گئیں

اچانک اتفاق رائے یا سوچی سمجھی سکیم ساری قیاس آرائیاں غلط ثابت ہو گئیں
اچانک اتفاق رائے یا سوچی سمجھی سکیم ساری قیاس آرائیاں غلط ثابت ہو گئیں

  



تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

نگران وزیراعظم کے لئے جسٹس (ر) ناصر الملک کے نام پر اتفاق رائے ہونے سے وہ تمام پیش گوئیاں غلط ثابت ہو گئی ہیں جن میں بڑے وثوق سے کہا جا رہا تھا کہ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان کسی نام پر اتفاق نہیں ہو سکے گا، بلکہ بعض لوگ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں بھی طے نہیں پا سکے گا اور بالآخر الیکشن کمیشن کو ہی یہ خوشگوار فریضہ انجام دینا پڑے گا۔ ایسی پیش گوئیاں کرنے والوں میں بعض سیاست دانوں کے ساتھ کئی ایسے شوقیہ فنکار بھی شامل تھے جن کا کام ہی ایسے شوشے چھوڑنا ہے، وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اس مسئلے پر جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں، ان کے بعد یہی اعلان کیا گیا کہ اتفاق رائے نہیں ہو سکا، مزید ملاقاتیں ہوں گی۔ اگر تو رازداری قائم رکھنے کے لئے یہ طرزعمل اپنایا جا رہا تھا تو یہ اچھی حکمت عملی تھی کیونکہ ایسے معاملات میں قبل از وقت نام کا افشا غلط فہمیاں پیدا کر سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات میں اس حوالے سے بہت سے نام سامنے آنے لگے، ریٹائرڈ ججوں اور بیوروکریٹس کے ساتھ ساتھ ممتاز صنعتکاروں کا نام بھی لیا جانے لگا اور پھر اس کے ساتھ ہی یہ حاشیہ آرائی کہ نام فائنل ہوتے ہوتے اس لئے رہ گیا کہ وزیراعظم تو مانتے ہیں، نوازشریف اتفاق رائے نہیں ہونے دیتے۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹر رحمن ملک کا ایک بیان پیر کے اخبارات میں شائع ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ معاملے کو الیکشن کمیشن میں جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ اس سے پہلے خود قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کہہ چکے تھے کہ وہ پارلیمانی کمیٹی کے لئے سپیکر کو نام بھیج رہے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی کہا کہ وہ پارلیمانی کمیٹی کو دو نام بھیجیں گے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اخبارات میں کئی نام چھپ رہے ہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی چھپ رہے ہیں جس سے ان کی مراد غالباً یہ تھی کہ اخبارات میں ایسے لوگوں کے نام بھی بطور نگران وزیراعظم سامنے لائے جا رہے ہیں جو سرے سے زیر غور ہی نہیں۔ اس طرح کے بیانات قیاس آرائیوں کو ہوا دیتے رہے اور اندازے لگا کر بات آگے بڑھائی جاتی رہی۔ اس پس منظر میں جب قائد حزب اختلاف نے ایک پریس کانفرنس میں جسٹس (ر) ناصر الملک کا نام بطور متفقہ نگران وزیراعظم بیان کیا تو سننے والوں کو خوشگوار حیرت ہوئی کیونکہ وہ تو کسی متفقہ امیدوار کا نام سننے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ابھی خورشید شاہ بتائیں گے کہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجنے کے لئے چار نام تیار ہیں لیکن ناصر الملک کا نام سامنے آتے ہی یوں لگا جیسے کہانی میں یکایک کوئی ڈرامائی موڑ آ گیا ہو، اس سے پہلے بھی بہت سے نگران وزیراعظم آئے اور اپنی نگرانی میں انتخابات کرائے لیکن تقریباً تمام انتخابات پر دھاندلی کا الزام لگا۔ 96ء میں بے نظیر بھٹو کی حکومت صدر فاروق لغاری نے برطرف کی تو ملک معراج خالد کو نگران وزیراعظم بنایا گیا جو پنجاب کے وزیراعلیٰ اور قومی اسمبلی کے سپیکر رہ چکے تھے۔ بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک انہی کی سپیکرشپ میں پیش ہوئی تھی اور ناکام ہو گئی تھی۔ معراج خالد جب نگران وزیراعظم بنے تو اس وقت بھی بعض لوگ ’’انتخاب سے پہلے احتساب‘‘ کے نعرے کے ساتھ میدان میں اترے ہوئے تھے حتیٰ کہ نگران کابینہ میں شامل بعض وزیروں کی کوشش بھی یہ تھی کہ اقتدار کی یہ مدت کچھ دراز ہو جائے لیکن ملک معراج خالد اپنے اس عزم پر ڈٹے ہوئے تھے کہ وہ نوے دن میں الیکشن کرا کے اقتدار منتخب نمائندوں کے سپرد کر کے رخصت ہو جائیں گے، چنانچہ انہوں نے کسی ترغیب، تحریص یا دباؤ میں آئے بغیر وقت معینہ پر انتخابات کرا دیئے اور یوں بہت سے لوگوں کی توقعات پر پانی پھیر دیا۔ جسٹس (ر) ناصر الملک عدلیہ کے اعلیٰ منصب سے ریٹائر ہوئے ہیں اور انہیں خوب معلوم ہے کہ نگران وزیراعظم کے سامنے کون کون سے چیلنج ہوں گے، سب سے پہلے تو شفاف، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ انتخابات کرانا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہئے اور اس کے راستے میں جو بھی مشکل آئے اسے پوری قوت سے ہٹا دینا چاہئے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج تو ان کے تقرر پر شادمانی کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن جب عام انتخابات ہو جائیں گے اور ہار جیت واضح ہو جائے گی تو ہارنے والے سب کچھ بھول بھلا کر انتخابات میں دھاندلی کا پرانا الزام دھرانے لگیں گے۔ یہ ایسی بات ہے جو ماضی میں بار بار سامنے آ چکی، نگران حکومت کا تصور بھی اسی لئے سامنے آیا تھا تاکہ انتخابات صاف، شفاف ہو سکیں لیکن کوئی بھی حکومت دھاندلی کے الزام سے نہیں بچ سکی، اس لئے جسٹس (ر) ناصر الملک کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ انتخابات کا اعتبار قائم کرنے میں کیسے کامیاب ہوں گے۔ 2013ء کے الیکشن عدلیہ کی نگرانی میں ہوئے تھے، اس وقت چیف جسٹس افتخار چودھری تھے اور عمران خان ان پر الزام لگاتے رہے کہ انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کرائی، ایسے الزامات اب بھی لگ سکتے ہیں، اس لئے جسٹس (ر) ناصر الملک کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ اگر وہ اس بڑے چیلنج کو قبول کرکے کامیاب رہے تو انتخابات کی تاریخ میں ان کا نام درخشاں ہوگا۔

مزید : تجزیہ


loading...