انڈس واٹر کمشنر،منسٹری آف واٹر اینڈ پاور کے حکام کاا حتساب کیا جائے،انجینئر ممتاز

انڈس واٹر کمشنر،منسٹری آف واٹر اینڈ پاور کے حکام کاا حتساب کیا جائے،انجینئر ...

  



ملتان(سپیشل رپورٹر)کالاباغ ڈیم کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر اور سندھ طاس واٹر کونسل کے سابق ممبر انجینئر ممتاز احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشن گنگا ہائیڈرو پاور(بقیہ نمبر10صفحہ12پر )

پرجیکٹ پر عالمی بینک کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی کی بنیاد وجہ انڈس واٹر کمشنر اور منسٹری آف وائر اینڈ پاور میں متعلقہ حکام کی صریح غفلت اور نااہلی ہے۔ سندھ طاس معاہدہ کی رو سے پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر کی یہ بنیادی ذمہ داری تھی کہ وہ دریائے نیلم پر کشن گنگا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر سے پہلے اس کے ڈیزائن پر جائز اعتراضات سے انڈیا کے انڈس واٹر کمشنر کو آگاہ کرتا اور اعتراضات دور نہ ہونے کی صورت میں حکومت پاکستان کو آگاہ کرتا تاکہ معاملہ کو ورلڈ بینک جو کہ سندھ طاس معاہدہ کا گارنٹر ہے کے ذریعے انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن میں بروقت اٹھایا جاتا۔ یہ نہایت دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ جبکہ انڈیا نے کشن گنگا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر 2007ء میں شروع کر دی تھی تین سال کے لئے ایک سٹے آرڈر کے ذریعے روک دی۔ اس دوران انڈس واٹر کمشنر اور دوسرے متعلقہ حکام کی ذمہ داری تھی کہ وہ عدالت کو اس پراجیکٹ سے مستقبل میں پاکستان کے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو پہنچنے والے نقصان سے آگاہ کرتے لیکن صد افسوس کہ ایسا نہ ہوا اور دسمبر 2013ء میں عدالت نے انڈیا کو دریائے نیلم کے پانی کا رخ موڑنے کی اجازت دے دی اور صرف 9 مکعب میٹر فی سیکنڈ پانی دریائے نیلم میں چھوڑنے کا فیصلہ دے دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ انڈیا نے اپنا پراجیکٹ پہلے شروع کر دیا تھا جبکہ اس وقت پاکستان نے اپنے نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کو حتمی شکل نہ دی تھی اس لئے انڈیا کا حق پہلے بنتا ہے۔ عدالت کے اس فیصلہ کے بعد انڈیا نے پراجیکٹ پر دوبارہ کام شروع کردیا جس کے بعد اگست 2016ء میں ہمارے متعلقہ حکام جاگے اور حکومت پاکستان نے دوبارہ ورلڈ بینک کو درخواست دی کہ انڈیا معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس پر کیس دوبارہ انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن کو بھیجا جائے لیکن اس درخواست پر ورلڈ بینک نے Pause دے دیا اور یہ کہا کہ اس دوران انڈیا اور پاکستان باہمی طور پر مسئلے کو حل کریں حتیٰ کہ بھارت نے تعمیر جاری رکھی اور پراجیکٹ کو مکمل کر دیا۔ اب جبکہ مکمل ہونے کے بعد اس پراجیکٹ کا افتتاح بھی ہو چکا تھا تو حکومت پاکستان نے ایک وفد عالمی بینک سے مذاکرات کے لئے بھیجا جس کا نتیجہ صفر برآمد ہوا ہے۔ متعلقہ حکام کی نااہلیت بلکہ مجرمانہ غفلت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثابت ہو گا کہ پراجیکٹ کے مکمل ہونے اور افتتاح کے بعد ہم نے عالمی بینک کا دروازہ کھٹکھٹایا جس کا نیجہ اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں نکلنا تھا جو کہ نکلا۔ اس فیصلہ کے بعد نیلم جہلم پراجیکٹ کھی بھی اپنے ڈیزائن اہلیت کے مطابق پاور جنریشن نہیں کر سکے گا چنانچہ حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ انڈس واٹر کمشنر اور منسٹری آف واٹر اینڈ پاور میں متعلقہ حکام کا کڑا احتساب کیا جائے۔ قبل ازیں بگلیہار ڈیم کیس میں ہماری صریح ناکامی اور اب کشن گنگا پراجیکٹ میں بھی ناکامی سے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ انڈس واٹر کمیشن اور منسٹری آف واٹر اینڈ پاور میں اہم مناصب پر جو لوگ تعینات ہیں۔ کہیں وہ انڈیا کی پے لسٹ پر تو نہیں؟ یہ نہایت ہی سنگین معاملہ ہے جس کا پاکستان کے آبی وسائل اور پاور جنریشن سے براہ راست تعلق ہے۔ حکومت پاکستان اور قوم اگر اب بھی نہیں جاگتے تو پھر یہ یقینی امر ہے کہ بھارت کی آبی جارحیت سے قوم کی نہ صرف معیشت بلکہ بقاء تک کو سنگین خطرات لاحق رہیں گے۔

انجینئر ممتاز

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...