پاکستان کی محبت میں سرشار ایوا کُرنیاتی انڈونیشیا کی ایک فعال بزنس وومن سے ملاقات

پاکستان کی محبت میں سرشار ایوا کُرنیاتی انڈونیشیا کی ایک فعال بزنس وومن سے ...

  



چند روز ہوئے اسلام آباد کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں انٹرنیشنل روٹری کلب پاکستان کا بین الاقوامی اجتماع تھا۔ بہت سے اہم تنظیمی امور پر غور وفکر کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ گورنر 3272 کے انتخاب برائے 2020-2021ء کا انعقاد بھی ہونا تھا۔ غیر ملکی متدوبین اور پاکستانی اراکین کے چہروں پر خوشی دیدنی تھی۔ اجتماع میں تعارف کے بعد گفتگو اور پھر باہمی فہمیدگی کے مراحل طے پارہے تھے۔ لوگوں کو اس بات کا احساس تھا کہ وہ ایک ایسی تنظیم سے وابستہ ہیں جو بلاکسی غرض کے انسانی فلاح و بہبود کے لئے پوری دنیا میں سنجیدگی اور یکسوئی کے ساتھ کام کررہی ہے۔ تقریب میں دکھ درد بانٹنے کی انفرادی مثالیں جابجا موجود تھیں۔ لوگ ایک دوسرے سے ملتے تو انس اور خلوص کے در کھل جاتے۔ اس کانفرنس میں میری ملاقات ایک جاذب نظر شخصیت ایوا کُرنیاتی سے ہوئی۔ ایوا کا تعلق انڈونیشیا سے ہے۔ کانفرنس میں اس کی شرکت بطور اسسٹنٹ روٹری کو آرڈینیٹر فار انڈونیشیا تھی۔ وہ ڈسٹرکٹ 3410 کی گورنر برائے 2013-2014ء رہ چکی تھی۔ ایوا کی عمر ساٹھ برس سے اوپر تھی لیکن باطن کی روشنی نے اس کے چہرے پر ایک عجیب طرح کی کشش پیدا کررکھی تھی۔ ایوا کُرنیاتی کانفرنس کے دوران انتہائی فعال رہی۔ کانفرنس کے امور میں اُس کی بھرپور شرکت اُس کے خلوص کی آئینہ دار تھی۔ ایوا کُرنیاتی نے اس وقت میرا دل جیت لیا جب اس نے اپنے خطاب کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو کی سلائیڈ دکھاتے ہوئے محترمہ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ایوا نے بے نظیر کو کرشماتی شخصیت قرار دیا۔ محترمہ کے بارے میں اپنے گہرے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بے نظیر نے ہمیشہ پاکستان کی نمائندگی بھرپور اور جامع انداز میں کی۔ وہ دنیا بھر کی خواتین کا آئیڈیل تھیں اور انہوں نے عورتوں کو ہمت، جرات اور حالات کا پامردی سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیا تھا۔ ایوا کُرنیاتی نے اس دوران پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کرکے کانفرنس کے شرکاء میں ایک نیا جوش وولولہ بھردیا۔ ایوا کی ہر جنبش سے اس کا قلبی اطمینان اور دِلی خوشی ہویدا تھی۔ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر کہتی ہے۔

ایواکُرنیاتی کا ملک انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا مجمع الجزائر ہے۔ یہ 18,108جزائر پر مشتمل ہے جن کا رقبہ پانچ ہزار کلو میٹر (3100میل) ہے اور جو بحرہند سے نیو گنی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ انڈونیشیا میں روٹری کلب کا آغاز اگرچہ 1927ء میں ہوا لیکن صحیح معنوں میں یہ تنظیم 1970ء میں فعال ہوئی تھی۔ اس کے کلب آج ملک بھر میں سماجی و بہبود و بہتری کے کاموں میں کوشاں ہیں۔

ایواکُرنیاتی سے ملاقات کے دوران میں نے اس کی شخصیت کو سراہا اور اس کے جذبے اور سماجی بہبود کے حوالے سے اس کے خیالات کی تعریف کی۔

ایوا نے بتایا کہ وہ اپنے والد سے بے حد متاثر ہے جو ہر لمحہ سماجی بھلائی کے کاموں کے لئے متعد رہتے تھے۔ ’’انہوں نے مجھے ایک اچھا روٹیرین بننے کے لئے تیار کیا تھا‘‘۔ ایوا ایک بزنس وومن ہے تاہم کاروبار پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ انسانی فلاح کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔ ایوا نے بتایا کہ اسے پاکستان سے بے حد محبت ہے۔ اسے پاکستانی کھانے بہت پسند ہیں اس کے باوجود کہ اُن میں مرچ مصالحہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ایوا کو پاکستانی دال چاول بہت مرغوب ہیں۔ وہ پاکستانی خواتین سے متاثر ہے اور اسے پاکستانی لباس بہت اچھا لگتا ہے۔

ایواکُرنیاتی اس بات پر بہت خوش تھی کہ پاکستان میں روٹری کی ڈسٹرکٹ گورنر ایک خاتون ہے۔ اس نے فائزہ قمر کی بہت تعریف کی جو بطور روٹری گورنر ڈسٹرکٹ 3272 اپنے فرائض بہ احسن و خوبی سرانجام دے رہی ہے۔

ایوا نے بتایا ’’ انڈونیشیا میں بھی خواتین ان ہی مسائل سے گزر رہی ہیں جن مسائل سے ترقی پذیر ممالک دوچار ہیں۔ تاہم دنیا میں رونما ہوتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کے روپ میں تبدیلی آرہی ہے۔ تعلیم میں بہتری، دنیا کا گاؤں میں تبدیل ہونا اور ٹیکنالوجی میں ترقی نے خواتین کو خاصا متاثر کیا ہے۔ اب عورتیں قومی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں اور گھر کا نظم و نسق بھی چلا رہی ہیں‘‘۔ایوا کُرنیاتی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ 

’’ناصرہ! میں تمہیں پتے کی ایک بات بتاتی ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ جو کچھ ہمیں عطا ہوا ہے اس میں سے ہم جتنا بھی دوسروں پر صرف کرتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ خوشیاں ہمیں نصیب ہوتی ہیں‘‘۔

مزید : ایڈیشن 1