شہید حکم خان بم ڈسپوزل یونٹ کا قیمتی اثاثہ اور فورس کے جوانوں کے لیے رول ماڈل تھے

شہید حکم خان بم ڈسپوزل یونٹ کا قیمتی اثاثہ اور فورس کے جوانوں کے لیے رول ماڈل ...

  



شہید انسپکٹر حکم خان 14اپریل 1958 ء کو ضلع پشاور کے گاؤں متنی پاسنی میں مشال خان کے گھر پیدا ہوئے۔ غربت کی وجہ سے سرکاری سکول میں آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ انسپکٹر حکم خان کے 8بھائی اور 4بہنیں تھیں اور زیادہ غربت کی وجہ سے ایک ہی مکان میں رہائش پذیر تھے ،جبکہ حکم خان کے سات بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ حکم خان کے والد بھی محکمہ پولیس میں بطور کانسٹیبل تعینات تھے۔ حکم خان کے گھرانے کے تین پشتیں محکمہ پولیس میں اپنے خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ 23 سال کی عمر میں 14 اپریل 1981ء کو محکمہ پولیس ضلع پشاور میں بطور کانسٹیبل بھرتی ہوئے۔ ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد حکم خان نے اپنا تبادلہ بم ڈسپوزل سکواڈ(BDS ( میں کرایا۔ غلام حسین AIG بم ڈسپوزل سکواڈ نے بموں کے متعلق ٹریننگ اورناکارہ کرنے کا گُر سکھایا۔ حکم خان کواپنے بے انتہا ٹیلنٹ اور دلچسپی کی بناء پر BDS سکواڈ کا انچارج لگایا گیا۔ شہیدانسپکٹر حکم خان نے اپنے مہارت اور تجربے سے ہزاروں بموں کو ناکارہ بنایا۔ اُن دنوں خیبر پختونخوا میں صرف ایک ہی بم سکواڈ تھا۔ جوکہ پورے صوبے میں اپنے خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ 1990ء کی دہائی میں ضلع لکی مروت گمبیلا پولیس اسٹیشن کی حدود میں 14 عدداینٹی پرسنل مائین نصب تھے، جن میں حکم خان نے 13 کو ناکارہ بنادیا، جبکہ آخری بم ناکارہ بناتے وقت حکم خان کے ہاتھ میں پھٹ گیا، جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوکربائیں ہاتھ کے دو انگلیوں سے بھی محروم ہوگیا۔ساتھیوں نے اُن کو ایک ہاتھ سے بموں کو ناکارہ بنانے سے منع کرنا چاہا، لیکن انہوں نے کہا کہ اسوقت عوام کو ان کے تجربے سے بھر پور استفادہ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اسی طرح انہوں نے فیلڈ میں سخت خطرات کے باوجود اپنی جہاد کو جاری رکھا ۔ اُن کی قائدانہ صلاحیتوں نے بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکاروں کو مضبوط اور متحد رکھا اور اُن کی حوصلہ افزائی سے یونٹ کے جوانوں نے اُن کے شانہ بشانہ بموں کو ناکارہ بنانے کے عمل کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔ اسی دوران ان کو رعشے کی بیماری لاحق ہوئی اور اس کے باوجود وہ بموں کو ناکارہ بنانے کے حساس پیشے سے عمر بھر وابستہ رہا جو انتہائی دل گردے کا کام ہے۔ حکم خان بڑھتی عمرکے باوجود اس پیشے سے پیار اور بے گناہ افراد کی زندگیوں کو بچانا اپنا فرض اولین سمجھتے تھے۔ ویسے تو پولیسنگ ایک بہت بڑا چیلنجنگ پیشہ ہے اور بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار جو ہر وقت بموں کو ناکارہ بنانے میں مصروف ہوتے ہیں کی ڈیوٹی انتہائی جان جو کھوں کاسخت کام ہے۔ وہ 31سال تک بم ڈسپوزل یونٹ سے وابستہ رہا اور اس دوران انہوں نے 2 ہزار سے زائد مواقع پر اپنی جان پر کھیل کرعوام کی جانوں کو بچایا اور 2ہزار بموں کو ناکارہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دراصل شہید حکم خان کا شمار 10سالہ افغانستان جنگ کے دوران بموں کو ناکارہ بنانے والے چند افسروں میں ہوتا ہے، وہ اُس وقت پشاور میں بم ڈسپوزل یونٹ کے سب سے منجھے ہوئے آفیسر تھے، انہوں نے 80کی دہائی میں اسوقت بموں کو ناکارہ بنانا شروع کیا جب پشاور کو بم دھماکوں کے ذریعے دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ عوام اسوقت بموں کے بارے میں بہت کم جانتے تھے۔ 2008-09ء میں جب دہشت گردی اپنی انتہا کو پہنچی اور بم دھماکے روزانہ کے معمول بن گئے تو شہید حکم خان نے اپنے عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا اور اپنی گراں قدر خدمات کو مزید موثر طریقے سے جاری رکھتے ہوئے زیادہ تعداد میں بموں کو ناکارہ بنایا۔ اور اسی طرح ان کے نتیجے میں ہونے والی ہولناک تباہیوں اور قیمتی جانوں کو محفوظ بناکرملک و قوم پر عظیم احسان کیا۔ 2012ء میں صرف ضلع پشاور میں 250 بم ناکارہ بنادیئے گئے۔ جن میں 200 بم اکیلے حکم خان نے ڈیفیوز کئے۔ ویسے تو ان کی کریڈٹ پر بہت سے بموں کو ناکارہ بنانا شامل ہیں، لیکن ڈیوٹی کے دوران کابلی پولیس اسٹیشن کی حدود میں خٹک پلازہ میں ٹین کے ڈبے میں رکھے گئے بم ،ٹاؤن پولیس اسٹیشن کی حدود میں عربی مسجد میں منبر کے نیچے نصب بم، کوہاٹی چوک اور اسمبلی ہال کے سامنے رکھے گئے بموں کو ناکارہ بنانا بہت زیادہ مشہور ہیں۔ شہید حکم خان بم ڈسپوزل یونٹ کا قیمتی اثاثہ اور فورس کے جوانوں کے لیے رول ماڈل تھے اور جوان ان کے تجربے اور دلیری کو اپنے لئے مشعل راہ سمجھ کر ان سے استفادہ کرتے تھے۔ دوبیٹے پشاور پولیس میں کانسٹیبل بھرتی ہوئے۔ بڑا بیٹا اکرم خان نے سرکاری سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ اور 2003 ء میں محکمہ پولیس میں بطور کانسٹیبل بھرتی ہوا۔ ٹریننگ کرنے کے بعد اکرم خان بھی اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بم ڈسپوزل یونٹ میں اپنے فرائض سرانجام دینے لگا۔ دونوں باپ بیٹے اکٹھے بموں کو ناکارہ بنانے کی خطرناک ڈیوٹی دینے میں دن رات لگن سے کام کرنے لگے، جبکہ علاقہ غیر میں پاک فوج کیساتھ بھی آپریشن میں حصہ لیا۔ اور بارود سے بھری ہوئی گاڑیوں کو بھی ناکارہ بنایا ہے۔ 2007ء میں حکم خان کا دوسرا بیٹا آدم خان بھی BDU میں بھرتی ہوا۔ انسپکٹر حکم خان شہید پر اس سے پہلے بھی چھوٹے بڑے نوعیت کے دھماکے ہوئے تھے۔ اور دوران ملازمت کالعدم تنظیموں کی طرف سے دھمکی آمیز تحریری خطوط بھی موصول ہوئے تھے، لیکن وہ بہادری اور ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا۔ اور اپنے بال بچوں اور پنی جان کی پرواکئے بغیر دہشت گردی کا مقابلہ کرتا رہا۔اکرم خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر میں موجود تھا کہ 28 ستمبر2012 کو ان کے والد صاحب نے انہیں فون کیا اور کہا کہ بیٹا جاگ گئے ہو۔ میں نے کہا جی ابا ،تو انہوں نے کہا کہ کچھ سودا سلف بھیج رہا ہوں، گاڑی والے سے وصول کرنا اور میں بڈھ بیر شیخان میں بم ناکارہ کرنے کے لئے جاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ کسی اور کو بھیج دو آج تو جمعہ ہے جواب میں انہوں کہا کہ ایس پی رورل خورشید خان نے کہا کہ تم خود جاؤ۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا۔ تقریباً دن کے 10/11 بجے اسکا بھیجا ہوا سامان گھر پہنچ گیا۔ اور اس دوران زور دار دھماکے کی گونج سنائی دی۔ میں گھرپر موجود تھا۔دوستوں نے میرے ساتھ رابطے کئے، لیکن ہر کوئی یہ بتا رہا تھا کہ شیخان بڈھ بیرمیں دھماکہ ہوا ہے۔ اپنے والد صاحب سے رابطہ کریں اس دوران میرے ایک دوست نے بیرونی ملک سے فون کرکے بتایا کہ ٹی وی پر بریکنگ نیوز چل رہی ہے کہ خیبر پختونخوا میں بموں کو ناکارہ بنانے والا ہیرو انسپکٹر حکم خان شہید ہواہے۔ میرے والد صاحب کی شہادت کی خبر بذریعہ وائرلیس سیٹ اور ٹی وی پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی، اسی وقت میں گھر سے روانہ ہوا اور معلوم نہیں کہ اہسپتال کیسے پہنچ گیا۔ہسپتال پہنچ کر میں نے اپنے والد محترم کو وطن کی محبت اور فرائض کی انجام دہی اور ملک و قوم پر خود کو قربان کرتے ہوئے دار فانی سے رحلت کرتے ہوئے شہادت نوش حالت میں پایا۔ انسپکٹر حکم خان میں خاص بات یہ تھی کہ وہ بم ناکارہ کرتے وقت پہلے خود جاتے تھے اور اکیلا جاتا تھا شہادت کے دوران بھی ٹیم کے دیگر ممبران موجود تھے، لیکن وہ خود آگے چلا گیا۔ 31سالہ ملازمت میں ہزاروں بموں کو ناکارہ بنانے کا اعزاز حاصل تھا اور بموں کو ناکارہ بنانے میں پوری دنیا میں ماہر سمجھا جاتا تھا ۔ انسپکٹر حکم خان شہید پورے علاقے اور محکمہ پولیس میں ریڈھ کی ہڈی جیسا حیثیت رکھتا تھا۔انتہائی شریف اور ملنسار آدمی تھا۔ 5وقت کی نماز اور تلاوت قرآن پاک حسب معمول ہوتا تھا۔ کئی بار علاقے کے مشران نے نصیحت کی تھی کہ یہ کام چھوڑ دو خود بھی کرتے ہو اور اپنے بچوں سے بھی کرواتے ہو،لیکن یہی بات اسکی زبان پر تھی کہ اس میں شہادت ہے۔ اس نے کبھی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی، اگر کس کے ساتھ سخت لہجے میں بات ہوتی تو شام کو اسکے گھر جا کر اس سے معافی مانگتا تھا۔ چاہے غلطی کسی کی بھی ہو گھر میں بھی عاجزانہ رویہ استعمال کرتا تھا۔ 54سالہ حکم خان، جوبم ڈسپوزل سکواڈ کے انسپکٹر رینک کے سنیئر پولیس آفیسر تھے، نے 28 ستمبر2012ء کو بمقام بڈھ بیر فرنٹیئر روڈ نزد پیٹرول پمپ میں نصب ایک بم کو ناکارہ بنایا جبکہ دوسرے کو ناکارہ بناتے ہوئے بم کے پھٹنے سے شہید ہوئے ( انااللہ و اناالیہ راجعون) ۔شہید نے بیوہ کے علاوہ 7 بیٹے اور تین بیٹیاں سوگواران چھوڑے ہیں۔ان تمام خطرات کے باوجود شہید حکم خان کے دو بیٹوں اکرم خان اور آدم خان نے پولیس میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد اپنے شہید باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بم ڈسپوزل یونٹ میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہید باپ کے ادھورے مشن کو آگے بڑھاکر ملک و قوم کی حفاظت پر اپنی جانیں نچھاور کرنا چاہتے ہیں، جس قوم کے بچے ایسا جذبہ رکھتے ہیں وہ کبھی بھی شکست نہیں کھاتے، بلکہ ہر موڑ پر فتح ان کا مقدر بن جاتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...