ثناء کا مقدمہ قتل ،گجرات پولیس نے حل کردیا

ثناء کا مقدمہ قتل ،گجرات پولیس نے حل کردیا

  



والدین سے پسند کی شادی کی خواہش پاکستانی نژدا اٹالین لڑکی ثنا چیمہ کو سرخ لباس اور ہاتھوں پر مہندی لگانے کی بجائے سفید کفن اور منوں مٹی تلے دفنا دیا گیاوالدین نے نہ صرف اپنی بیٹی کی خواہشات کیساتھ اسکا گلا گھونٹ کر اسے بھی موت کی نیند سلا دیاگجرات کے علاقے منگوال میں پراسرار طور پر ہلاک ہونیوالی اطالوی نژاد پاکستانی خاتون ثنا چیمہ کی فرانزک لیب رپورٹ نے ہلاکت کا معمہ حل کر دیا فرانزک رپورٹ کی روشنی میں 26سالہ اٹالین نیشنل ثنا چیمہ کی موت گلہ دبانے سے ہوئی پولیس کی انتھک محنت 145 جدید ٹیکنالوجی کی مدد اور فرانزک رپورٹ کی بدولت ثنا چیمہ کی ہلاکت کو طبعی موت قرار دینے کا ڈرامہ بری طرح فلاپ ہونے پر مقتولہ کے والد اور بھائی کو حراست میں لیکر تحقیقات شرو ع کر دی گئیں جبکہ مقدمہ میں اسکی والدہ کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیااٹالین ذرائع ابلاغ نے اٹلی سے پاکستان میں اپنے والدین کے پاس پہنچنے والی ثنا چیمہ کی پراسرار ہلاکت کو روز اول سے ہی منصوبہ بندی کے تحت قتل قرار دیا تھا پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے اس واقعہ کو اجاگر کیا تو اٹالین سفارتخانے سمیت پاکستانی حکومت بھی ہوش میں آ گئی گجرات پویس نے ابتدائی طور پرثنا چیمہ کے والد غلام مصطفی چیمہ 145 چچا اور بھائی کو ملزم نامزد کرتے ہوئے انکے خلاف تھانہ کنجاہ میں مقدمہ درج کرلیا ثنا چیمہ قتل واقعہ نے ہائی پروفائل کیس کی شکل اختیار کی تو اس معاملے کے منطقی انجام تک پہنچنے کیلئے جہانزیب نذیر خان ڈی پی او گجرات کے حکم پر تحقیقات شروع ہوئیں تو کئی مشکوک عوامل سامنے آئے جس پر مقتولہ کی قبر کشائی کا فیصلہ کیا گیا علاقہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں تھانہ کنجاہ کے علاقے میں واقع قبرستان کوٹ فتح میں موجود ثنا چیمہ کی قبرکشائی کی گئی اسکے جسم سے لیے گئے اجزا کو لیبارٹری ٹیسٹ کیلئے لاہور بجھوا دیا گیا قبر کشائی کے موقع پر ڈاکٹروں کی ٹیم اور پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی پوسٹمارٹم کے موقع پر ڈاکٹروں کی چار رکنی ٹیم کی نمائندہ خاتون لیڈی ڈاکٹر کے مطابق خاتون کی نعش تقریبا8یوم تک قبر میں رہنے کے باعث اس قدر خراب ہو چکی تھی کہ اس پر کوئی ظاہری علامات دیکھنا ممکن نہیں تھا تاہم تجزیے کیلئے نمونے حاصل کر لیے گئے جن کی رپورٹس کی روشنی میں موت کی اصل وجہ کا تعین کرنے میں مدد حاصل ہوئی فرانزک رپورٹ نے جھوٹ کا پلندہ کھول دیااطالوی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے ثنا چیمہ کی ہلاکت پر دعوی کیا تھا کہ 26سالہ مقتولہ اٹلی میں اپنی پسند کی شادی کرنے کی خواہش رکھتی تھی مگر اسکے اہلخانہ اپنی مرضی اس پر مسلط کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہے تھے جس سے انکار پر اسے بہانے سے پاکستان بلا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ثنا چیمہ کے والدین نے پولیس کے سامنے ابتدائی بیان میں موقف اپنایا کہ ثنا چیمہ اکثر بیمار رہتی تھی اسے رات گئے معدے میں شدید درد ہوئی طبی امداد کیلئے ہسپتال لے جایا جا رہا تھا مگر وہ راستے میں دم توڑ گئی تاہم منگوال میں تین قبرستان ہونے کے باوجود کوٹ فتح قبرستان میں اسکی انتہائی عجلت میں تدفین نے خاتون کی موت کو مشکوک بنا دیا ثنا چیمہ تقریبا 10برس کی عمر میں 2002میں اپنے والدین کے پاس اٹلی منتقل ہو گئی اور وہیں کی ہو کر رہ گئی اپنے بہن بھائیوں میں وہ چوتھے نمبر پر تھی مقتولہ کے دو بھائی شادی شدہ اور جرمن میں مقیم جبکہ ایک شادی شدہ بہن پاکستان میں رہتی ہے ثنا چیمہ نے تعلیم اٹلی سے ہی حاصل کی مختلف علوم میں ڈپلومہ حاصل کرنے کے بعد اٹالین ڈرائیونگ سکول 145 اور اٹالین لینگویج سکول چلاتی تھی مقتولہ کا والد غلام مصطفی جسے مقدمہ میں مرکزی ملزم ٹھہرایا گیا ہے بلدیاتی انتخابات میں آزاد حیثیت سے کونسلر منتخب ہو چکا ہے 145 ڈی ایس پی عرفان الحق سلہریا کی نگرانی میں ایس ایچ او کنجاہ چوہدری وقار گجر اور ماہر تفتیشی آفیسر فرقان احمد نے اہم نوعیت کے مقدمے کی تفتیش کیلئے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور محنت کی بدولت ہائی پروفائل کیس کو حل کرنے میں مدد ملی ڈی ایس پی عرفان الحق سلہریا اور ایس ایچ او چوہدری وقار گجر کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ کی روشنی میں مقتولہ کی موت گلہ دبانے سے ہوئی اس کے قتل میں کون کون ملوث اور کس کا کتنا کردار ہے اسکا تعین کرنے کیلئے تحقیقات جاری ہیں کسی بیگناہ کیساتھ زیادتی ہوگی نہ کسی گنہگار کو معاف کیا جائیگا انصاف کے تقاضے ہر صورت پورے کیے جائیں گے ثنا چیمہ کے قتل میں ملوث مقتولہ کے والد اور بھائی سے عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد تحقیقات کی جا رہی ہیں اپنے گھر والوں کے ہاتھوں پسند کی شادی کا اظہار کرنے پر قتل ہونیوالی لڑکی کے فرانزک رپورٹ میں گلہ گھونٹ کر ہلاک کیے جانے کی تصدیق کے بعد مذکورہ ملزمان کو حراست میں لیا گیا تھا اس مقدمہ میں مقتولہ کے چچا اور والدہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے پولیس نے اب تک ہونیوالی تحقیقات اور میڈیکل رپورٹس وغیرہ پر مرتب ایک تفصیلی رپورٹ وزیر اعلی پنجاب 145 آئی جی اور اٹالین سفارتخانے کو بھی بجھوا دی ہے بین الاقوامی طور پر شہرت حاصل کرنیوالے اس مقدمہ قتل پر پنجاب پولیس کا امتحان شروع ہوا اور وہ منطقی انجام تک پہنچ گیا چند یوم قبل جہانزیب نذیر خان نے ملزمان کی گرفتاری کے بعد ایک بھر پور پریس کانفرنس کی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اٹالین میڈیا میں خبر وائرل ہوئی کی ثناء چیمہ کو گجرات میں قتل کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ مزید اس میں کوئی تفصیل نہ تھی ڈی پی او گجرات جہانزیب نذیر خان نے اس خبر کا انگلش میں ترجمہ کروایا جس میں ثناء چیمہ اور گجرا ت کے علاوہ کوئی تفصیل نہ تھی ڈی پی اوگجرات نے ڈی ایس پی صدر سرکل عرفان الحق سلہریا ایس ایچ اوکنجاہ وقار احمد ایس آئی 145 انچارج ہوموسائیڈ فرقان شہزاد ایس آئی کی ٹیم تشکیل دی جس نے ڈسٹرکٹ سے ٹریس کرتے ہوئے منگووال سے ثنا ء کی فیملی کو ٹریس کرلیاکہ ثنا ء چیمہ جو کہ 15/16سال سے اپنے والدین کے ساتھ اٹلی میں رہائش پذیر تھی اور وہاں پر ڈرائیونگ ٹریننگ سکول بنا رکھا تھا مورخہ 19.01.18کو پاکستان آئی اور 19اپریل کو واپس اٹلی جار ہی تھی جس کی مورخہ 18اپریل کوڈیتھ ہوئی جس کو 19اپریل کو کوٹ فتح دین میں دفن کر دیا گیا جو حالات و اقعات سے یہ بات سامنے آئی کہ ثنا ء چیمہ کی موت طبعی نہیں تھی جس پر مورخہ 23.04.18کو مقدمہ نمبر 251/18جرم 302/201ت پ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا 24اپریل کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو ثنا ء چیمہ کی قبر کشائی کیلئے درخواست دی گئی جو مورخہ 25اپریل کیلئے علاقہ مجسٹریٹ کنجاہ کو مامور کیا گیا مورخہ 25اپریل کو بعد از قبر کشائی پوسٹمارٹم ہوا اور 26اپریل کو پارسلز پی ایف ایس اے جمع کروائے گئے اور درخواست کی گئی کہ رپورٹ ترجیحی بنیادوں پر بجھوائی جائے جس کا رزلٹ آنے کے بعد آج مورخہ 09.05.18پوسٹمارٹم رپور ٹ میں ثنا ء چیمہ کی موت گلا دبانے سے قرار دی گئی ہے مقدمہ میں ملوث ملزمان عدنان چیمہ اور غلام مصطفی چیمہ جو کہ مقتولہ ثنا ء چیمہ کا حقیقی بھائی اور والد ہے کو گرفتار کرلیا گیا ہے چونکہ قتل غیر ت کے نام پر کیا گیا ہے لہذا مقدمہ میں جرم 311ت پ بھی ایزاد کیا گیا ہے ڈی پی او گجرات جہانزیب نذیر خان نے بہترین کارکردگی پر تفتیشی ٹیم کو تعریفی سرٹیفکیٹ اور نقد انعام سے نوازا ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ گجرات میں غیرت کے نام پر اپنی بیٹیوں کو قتل کرنے کے رجحان میں خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے گزشتہ برس بھی درجنوں خواتین اور لڑکیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اس سال بھی یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا پولیس اپنی استطاعت کے مطابق ملزمان کو گرفتار کرتی ہے کچھ عرصہ وہ جیل میں گزارنے کے بعد رہا ہو جاتے ہیں دعوے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابتک ہلاک ہونیوالی تمام لڑکیوں کے قاتل گرفتار کر لیے گئے اور ایک بھی مقدمہ ایسا نہیں جس کے کردار کو گرفتار نہ کیا گیا ہو ۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...