بلوچستان میں پاک فوج کاکامیاب آپریشن

بلوچستان میں پاک فوج کاکامیاب آپریشن

  



سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے کلی الماس میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا جس کے نتیجے میں 8خودکش بمباروں سمیت 3دہشت گرد ہلاک ہوئے ،جن میں ہزارہ کمیونٹی کے 100افراد کے قتل میں ملوث کالعدم لشکر جھنگوی کا امیر سلمان بادینی بھی شامل ہے۔ دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں ملٹری انٹیلی جنس کے کرنل سہیل عابد شہید ہو گئے ہیں۔ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے آپریشن ردالفساد بڑی کامیابی سے جاری ہے جس میں ملک بھر سے دہشت گردوں، تخریب کاروں ، سہولت کاروں اوران کے فنانسرز کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔2009ء سے 2013ء کے دوران ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر تھی جس میں بڑے بڑے جید علماء کرام ،سیاسی رہنماؤں، سکولز و کالجزاور یونیورسٹیوں پرپے درپے حملے کر کے بے گناہوں کو قتل کیا گیا۔آئے روز کسی نہ کسی جگہ پر کوئی حملہ ہوتا تھا۔کہیں پاک فوج کے جوانوں کے سبز ہلالی پرچم میں لپٹے تابو ت ہوتے تھے تو کسی جگہ عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا تھالیکن پاک فوج نے بھر پور طاقت سے آپریشن کر کے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا۔ دہشت گرد محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے بعد ملک بھر میں پھیل گئے۔ انہوں نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے درو دیوار ہلا کر رکھ دیے۔ معصوم اور نہتے بچوں کو شہید کیا‘ اقلیتوں کو نشانہ بنایا‘ مزارات پر خودکش حملے کیے اورمساجد کی بے حرمتی کی گئی۔ایک ایسا طوفان کھڑا ہوا جس کے تھمنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔2008ء میں ہزارہ برادری کا قتل عام شروع ہوا۔ ایک ایک گھر سے کئی کئی جنازے اٹھے نوبت با ایں جا رسید کہ جنازے اٹھانے کے لیے اکثر گھروں میں مرد ہی موجود نہیں تھے۔ بالآخر ہزار برادری نے تنگ آ کر ملک بھر میں جنازوں کے ساتھ دھرنا دیا۔ تب پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کی اپنے صوبے سے زیادہ سیرو سیاحت پر توجہ تھی۔ جس بنا پر صوبائی امن و امان کی حالت بگڑتی گئی۔ وفاقی حکومت بھی اس قتل عام کو کنٹرول نہ کر سکی بالآخر ہزارہ برادری کے افراد کے طویل دھرنے کے بعد صوبے میں گورنر راج کا نفاذ کر دیا گیا لیکن دہشت گرد باز نہ آئے اور انہوں نے اپنے ٹھکانے اور اہداف تبدیل کر لیے لیکن امن و امان غارت کرنے کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھیں۔ کچھ عرصے سے ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ رکا ہوا تھا لیکن اچانک اپریل 2018ء میں دہشت گردوں نے ایک بار پھر ہزارہ برادری کو نشانے پر رکھ لیایکے بعد دیگرے کئی افراد کو قتل کر دیا گیا۔پھر مجبوراً ہزارہ برادری دھرنے پہ بیٹھ گئی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کوئٹہ جا کران سے مذاکرات کیے لیکن وہ آرمی چیف کی یقین دہانی کے بغیر دھرنا ختم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔حالات کی نزاکت کے پیش نظر جنرل قمر جاوید باجوہ نے دھرنے پر بیٹھے افراد سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے پاک فوج نے بلوچستان سے ملنے والی افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا۔ آرمی چیف نے وعدے کے مطابق باڑ لگانے کے کام کا خود افتتاح کیا۔اس باڑ سے افغانستان کی سرحد سے آنے والے دہشت گردوں کا راستہ بند ہو گا اور صوبے میں حالات ساز گار ہو نگے۔بلوچستان میں بیرونی مداخلت سے ہی حالات خراب ہیں ،ہمسایہ ممالک کی بلوچستان میں دخل اندازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بلکہ ہر کوئی اس سے باخبر ہے کہ بلوچستان میں کون سی قوتیں بدامنی پھیلانے میں ملوث ہیں۔ بھارت پہلے اپنے جاسوسوں کی مدد سے ملک بھر میں تخریب کاریوں کے بیچ بوتا رہا، علیحدگی پسندوں سے مل کر بلوچستان میں حالات خراب کرتا رہا لیکن جیسے ہی کلبھوشن جادیو کی گرفتاری ہوئی تو عالمی برادری کو اس کے مذموم مقاصد سے آگاہی ہوئی تب بھارت دفاعی پوزیشن میں چلا گیا، ورنہ وہ چاہ بہار کے راستے دہشت گردوں کی مدد سے باز نہ آتا جس کا کلبھوشن جادیو نے بھی اقرار کیا ہے۔ کالعدم تنظیموں‘ علیحدگی پسند گروپوں اور ناراض بلوچوں کی مدد کر کے بھارت نے بلوچستان میں حالات خراب کیے۔ بدقسمتی سے جمہوری حکومت نے بلوچستان پیکیج کے نام پر بلوچستان کے کھربوں روپے کے فنڈز کی بندر بانٹ کی لیکن بلوچستان کے عوام ان پیکجز کے ثمرات سے محروم رہے۔ غربت میں کمی واقع ہوئی نہ ہی ان کی پسماندگی ختم ہوئی۔ سڑکیں کھنڈرات اور جنگ زدہ علاقوں کا منظر پیش کرتی نظر آتی ہیں۔ صاف پانی کی فراہمی اور ہسپتالوں کی حالت بھی نہ سنور سکی۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق جیسے جیسے فنڈز ملتے گئے بلوچستان کی حالت خراب ہوتی گئی۔ سیکرٹری خزانہ اور مشیر خزانہ کے گھروں سے اربوں روپے ملے۔ بلوچستان حکومت شہریوں کی سہولیات کے لیے شہر میں سیف سٹی پراجیکٹ بھی نہ لگا سکی۔ اب پاک فوج نے شہریوں کو محفوظ بنانے کے لیے کوئٹہ میں کیمروں کی تنصیب شروع کر دی ہے جس سے شہریوں کی جان و مال محفوظ ہو گی۔ پاک فوج نے وعدے کے مطابق بلوچستان میں آپریشن کر کے دہشت گردوں کے سرغنہ سمیت 8خود کش بمباروں کا خاتمہ کر دیا ہے، خدانخواستہ اگر یہ خودکش بمبار مقدس مہینے میں اپنے ٹارگٹ تک پہنچ جاتے تو بلوچستان میں کس قدر تباہی آنی تھی اس کا اندازہ کر کے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کالعدم لشکر جھنگوی کا امیر سلمان بادینی 100سے زائد افراد کے قتل میں ملوث تھا۔ یہ دہشت گرد پہلے کارروائیاں کر کے ملک سے فرار ہو جاتے تھے لیکن سرحد پر باڑ کی تنصیب سے اب ان کے فرار کے راستے بند ہو گئے ہیں۔ اب یہ ادھر ہی اپنی کمین گاہوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔ پاک فوج ردالفساد آپریشن کو بلوچستان کے پسماندہ علاقوں تک پھیلائے‘ پہاڑوں میں چھپے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے‘ ان کے سہولت کاروں اور مدد کرنے والوں کا محاسہ کیا جائے۔ جس وقت تک دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ نہیں ہو جاتا تب تک امن کا قیام ایک خواب رہے گا۔ پاک فوج نے قبائلی علاقہ جات میں امن قائم کرنے کے بعد بلوچستان کا رخ کیا ہے۔ امید ہے چند ہی دنوں میں بچے کھچے دہشت گردوں کا خاتمہ کر کے بلوچستان ہزارہ برادری کو امن و سکون کے ساتھ سکھ کا سانس لینے کا حق دیا جائے گا۔ پاک فوج نے بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمے پر بھی توجہ دی ہے۔ کم ترقی یافتہ علاقوں میں سہولیات اور امن کی فراہمی جو کبھی ایک خواب نظر آتا تھا اب حقیقت بننا شروع ہو چکا ہے۔ پاک فوج کے جوان اپنا تن من دھن ہمارے کل پر قربان کر رہے ہیں ہمیں ان کی قربانیوں کو سراہنا چاہیے گزشتہ روز کرنل سہیل عابد سمیت دو افراد شہید ہوئے ہیں۔ شہدا کے لہو سے ملک کی بنیادیں مستحکم اور مضبوط ہو رہی ہیں۔ پوری قوم کو فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ملکی دفاع میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے تاکہ پاک فوج کی حوصلہ افزائی ہو کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...