پاور سیکٹر کا بدترین بحران قرضوں کی واپسی کیلئے مزید قرضے لینے کی کوشش بینکوں کا صاف انکار

پاور سیکٹر کا بدترین بحران قرضوں کی واپسی کیلئے مزید قرضے لینے کی کوشش ...

  



ملتان (سٹاف رپورٹر) پاور سیکٹر کو بدترین بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ قرضوں کی واپسی کیلئے مزید قرضے لینے کی کوشش ناکام ہو گئی ۔ بینکو ں نے صاف انکار کر دیا۔ملک کے حالات کے باعث بڑے کمرشل بینکوں کے سنڈیکیٹ نے پاور سیکٹر کو مزید قرضوں کی فراہمی سے انکارکردیا ہے۔ ذرائع کیمطابق سینڈیکیٹ نے پاور سیکٹر کو "غیر مستحکم" اور ناقابل اعتبار قرار دے دیا ہے۔ بینکوں کا موقف ہے کہ پاور سیکٹر کی جانب سے پہلے سے لیے گئے قرضوں کی(بقیہ نمبر27صفحہ7پر )

ادائیگی اور کلیئرنس نہیں ہو سکی ہے اور ان میں سے بعض بڑے قرضوں پر سود کی رقم کی ادائیگی بھی نہیں ہو سکی ہے۔ حکومت نے فوری طور پر بینکوں سے 40 ارب روپے کے قرضوں کی فراہمی کی درخواست کی تھی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 7 مارچ 2018ء کو پاور سیکٹر کے لئے مز ید قرضے کے حصول کی منظوری دی تھی جبکہ پہلے سے حاصل کردہ قرضوں کی رقم میں سے 26.666 ارب روپے واپسی کی بھی منظوری دی تھی۔ قرضہ واپس کرنے کے لئے مزید قرضہ حاصل کرنیکی اس کوشش کو بینکوں نے ناکام بنا دیا ہے اور حکومت ، پاور سیکٹر کی کسی گارنٹی کو بھی ماننے سے انکارکردیاہے۔ پاور سیکٹر نے کچھ عرصہ قبل لئے گئے 80 ارب روپے کے قرضے میں سے 26.666 ارب روپے کی ادائیگی کرکے بقایا 53.333 ارب روپے سنٹرل پاور پرچیز ایجنسی ( سی پی پی اے ) کو منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم اس پر بھی عملدرآمد ممکن ہو سکا ہے۔

Back

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...