سندھ اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں آئینی مدت مکمل ہونے پر تحلیل

سندھ اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں آئینی مدت مکمل ہونے پر تحلیل

  



کراچی/پشاور/کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)سندھ اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں اپنی 5 سال کی مدت مکمل کرکے تحلیل ہو گئیں،بلوچستان اسمبلی کا الوداعی سیشن شروع ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق سندھ اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں گزشتہ رات12بجے اپنی آئینی مدت پوری کر کے تحلیل ہوگئیں جبکہ بلوچستان اسمبلی کا گزشتہ روز شروع ہونے والا الوداعی سیشن3 روز تک جاری رہیگا پھر بلوچستان اسمبلی 31 مئی کو اپنی آئینی مدت پوری کریگی۔سندھ اسمبلی کے الوداعی اجلاس میں پارلیمانی لیڈرز نے اسمبلی کی کارکردگی اورجمہوریت کے استحکام کیلئے پارلیمنٹرینزکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا ۔سپیکرسندھ اسمبلی کی جانب سے ارکان سندھ اسمبلی میں کارکردگی سرٹیفکیٹ تقسیم کیے گئے ۔ اپوزیشن ارکان سندھ اسمبلی نے کہاکہ اکثریت کوجمہوریت سمجھ لیا گیا ہے ،شراکتی جمہوریت ہونی چاہئے،اپوزیشن ارکان اسمبلی نے حکومت کی جانب سے فنڈزجاری نہ کرنے کوجمہوری روایات کے منافی قراردیا ۔سپیکرآغاسراج درانی کی زیرصدارت ہونے والے سندھ اسمبلی کے الوادعی اجلاس میں تمام جماعتوں کے پارلیمانی ارکان نے اپنے خیالات کا اظہارکیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈرسید سرداراحمد نے کہاکہ بدقسمتی سے اکثریت کوجمہوریت مان لیا گیا لیکن جمہوریت شراکتی ہوتو ادارے زیادہ مضبوط اور جمہوریت مستحکم ہوتی ہے۔ڈپٹی سپیکرشہلارضا نے الوداعی تقریرمیں کہاکہ کافی لوگوں کو مجھ سے شکایت ہوئی اسکے لیے معافی چاہتی ہوں۔ پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈرنثارکھوڑو نے کہاکہ سپیکراور ایوان کو مبارکبادیتاہوں ،آصف زرداری نے اس لئے اختیارات پارلیمینٹ کو دیئے کہ وہ مضبوط ہو۔فنکشنل لیگ کی ڈپٹی پارلیمانی لیڈرمہتاب اکبرراشدی نے کہاکہ حکومت پر تنقید کو تنقید برائے اصلاح سمجھنا چاہیے۔ مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر حاجی شفیع جاموٹ نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے اپوزیشن کو کچھ نہیں دیا ۔ تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈرخرم شیرزمان نے کہا کہ اللہ پاک نے دوبارہ موقع دیا تو عوام کی خدمت کریں گے۔تھریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومتکے پانچ برسوں میں قومی وطن پارٹی دو بار حکومت میں شامل ہوئی اور الزامات لگنے پر حکومت سے الگ ہوئی۔ 2013سے حکومت کا حصہ رہنے والی جماعت اسلامی نے بھی آخری دنوں میں تحریک انصاف سے راستے جدا کیے۔ شوکت یوسفزئی سمیت کئی اراکین پر کرپشن کے الزامات لگے جبکہ تحریک انصاف کے متعدد اراکین اسمبلی کو سینیٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے پر شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے۔ تحریک انصاف نے 150 سے زیادہ نئے قوانین پاس کیے۔پولیس ریفارمز کو حکومت کا بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔

اسمبلیاں تحلیل

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...