مہمند ایجنسی ، پر امن قبائلیوں پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں : قبائلی مشران

مہمند ایجنسی ، پر امن قبائلیوں پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں : قبائلی مشران

  



مہمند ایجنسی ( نمائندہ پاکستان) مہمند ایجنسی، جمہوریت کے دعویدار حکمرانوں کی جانب سے پر امن قبائلی مظاہرین پر ظالمانہ تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ پختونخوا پولیس نے مظاہرین اور قبائلی مشران پر تشدد کر کے قبائلی عوام کی توہین کی ہے۔ جبری انضمام قطعی نہیں مانیں گے۔25 جون کو گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان ۔ ان خیالات کا اظہار مہمند قبائلی مشران ملک صاحب داد، ملک آیاز ، ملک زیارت گل، ملک امیر نواز خان، ملک اورنگزیب، ملک نثار حلیمزئی،ملک سلیم سردار، ملک جہانزیب ، میر افضل مہمند، ملک نذیر خان، رائیس خان، ملک اجمل خان و دیگر نے مہمند پریس کلب میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب سیاسی جماعتیں احتجاج کرتے ہیں تو جمہوریت کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ اور جب قبائل اپنا موقف پیش کرنے کیلئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں تو اُس پر ظالمانہ تشدد کیا جاتا ہے۔ جنوبی پنجاب کو پسماندگی پر علیحدہ صوبہ بنانا چاہتے ہیں اور جب فاٹا کے حوالے سے مشران یہی موقف پیش کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ آچھا عمل نہیں ہے۔ مشران نے کہا کہ جبری انضمام کو بالکل تسلیم نہیں کریں گے۔ اور الگ صوبہ قبائلستان کیلئے بھر پور تحریک چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں عمران خان اور دوسری جماعتیں طویل دھرنے دیتے ہیں جب قبائل اپنے حق کیلئے نکلتا ہے تو ایک دن کیلئے حکمران برداشت نہیں کرتے ہیں۔ پر امن قبائلیوں اور مشران پر پختونخوا پولیس نہ تشدد کرتے اور نہ قبائلی عوام کی توہین ہوتی۔ قبائلی مشران نے 25 جون کو گرینڈ جرگہ بلایا ہے جس میں اہم فیصلے اور الگ صوبے کیلئے تحریک کا آغاز کیا جائیگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...