مٹہ ، گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کی من مانیاں ، انتظامیہ خاموش

مٹہ ، گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کی من مانیاں ، انتظامیہ خاموش

  



مٹہ(نمائندہ پاکستان) مٹہ بازار میں باقاعدہ یونین نہ ہونے کے وجہ سے بازار تباہی کے طرف گامزن،قصائی اپنے من مانی،سبزی فروش اپنی من مانی جبکہ دیگر اشیاء خورد نوش بھی دکاندار خودساختہ نرخ پر بیجھنے لگے،دکانداروں کا بازار کے تاحیات چیف ارگنائزر اور انتظامیہ سے بازار انتخابات کرانے کا مطالبہ تفصیلات کیمطابق گزشتہ ایک سال سے اتفاق ایسو سی ایش مٹہ بازار کو نگران صدر اور جنرل سیکرٹری اپنے مرضی سے چلا رہے ہے جس کے پاداش میں بازار دن بدن تباہی کے طرف گامزن ہے بازار میں تاحال ایک بھی واٹر پمپ موجود نہیں جہاں سے دکاندار اپنے استعمال کیلئے پانی لائے سب دکاندار مسجدوں کا پانی استعمال کر تے ہیں اسی طرح بازار کیلئے علیحدہ ایک ٹرانسفر مر لگا ہوا ہے جس پر لوڈ زیادہ ہونے کے وجہ سے ہائے روز خراب ہو جاتا ہے اور ان سب کیلئے اواز اٹھانے والا کوئی بھی نہیں کیونکہ عارضی یونین اپنے کاموں سے فارغ نہیں ،اسی عارضی نگران یونین کے نااہلی کے وجہ سے دکاندار دن بدن اپنے من مانی پر اتر ائے ہیں اور ہائے روز عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں،گوشت کے قیمت انتظامیہ کے جانب سے 320روپے مقرر ہے جبکہ قصائی حضرات خریداروں کو ان کے کپڑوں اور شخصیت کے بنیاد پر گوشت فروخت کر رہے ہیں مثلا اگر کسی نے اچھے کپڑے پہنے ہو او تعلیم یافتہ دیکھتا ہوتو اسے 350روپے کلو جبکہ جو سادہ سا عام ادمی دیکھتا ہوں تو اسے 400روپے سے کم نرخ پر گوشت نہیں مل سکتا ،اس معاملے میں انتظامیہ کے بے حسی کااندازہ لگانا مشکل ہے کہ با ربار نشاندہی کے باوجود انتظامیہ اس بات پر ایکشن کیوں نہیں لیتی جبکہ بازار کا نگران یونین تو اس لئے خاموش ہے کہ بازار کا نگران صدر ال قصاب ایسوسی ایشن مٹہ بازار کا بھی صدر ہے،جبکہ مٹہ بازار کے گرد نواح دیگر دیہاتوں میں 350اور400روپے سے گوشت کم نرخ پر ملنا خواب سا بن گیا ہے،اسی طرح سبزی فروش بھی شخصیت کے حساب اپنے اشیاء بیجھتے ہے اور جتنا ہوسکے سادہ لوح عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہیں،مٹہ بازار کم از کم سات ہزار دکانوں پر مشتمل ہے اور ایک دکان سے دو سو روپے ماہانہ چوکیداران اور بازار کے دیگر مسائل کیلئے لئے جاتے ہیں ،مگر حالت یہ ہے کہ مٹہ بازار میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں میں پانچ مکمل طور پر خراب جبکہ دیگر کیمرے بھی پرانے زمانے والے ہیں جسمیں ادمی کا چہرہ پہچاننا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوتاہے اور یہی وجہ ہے کہ بازار میں گزشتہ ماہ 26لاکھ کے چوری دن دیہاڑے ہوئی مگر ایک بھی سی سی ٹی وی کیمرے میں وہ چور نظر نہیں ائے اور ابھی تک وہ چور نہیں پکڑ ے جا چکے،یہاں پے ایک مزے کی بات اور بھی سنئے کہ بازار کا نگران جنرل سیکرٹری کا نہ تو مٹہ بازارمیں کو ئی دکان ہے اور نہ کسی دکان کا مالک پہلے جنرل سیکرٹری صاحب کا دکان بازار میں موجود تھا مگر اب چونکہ بازار کے جنرل سیکرٹری ہونے کہ وجہ اس کا جیب گرم ہے اس وجہ سے گزشتہ کئی سالوں سے انہوں نے اپنا دکان ختم کر دیا ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے وہ بازار کے جنرل سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہے،بازار کے دکانداروں اور مٹہ تحصیل کے عوام نے مٹہ انتظامیہ ،پولیس اور بازار کے تاحیات چیف ارگنائزر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انکوائری کریں کہ 7000دکانوں سے ماہانہ وصول کئے جانے والا رقم کہاں کہاں خرچ ہوتا ہے ،بازار کے انتخابات کیوں نہیں ہو پارہے،گزشتہ پانچ سال سے کیوں ایک ہی ادمی جنرل سیکرٹری کے عہدے پر برا جمان ہے اور قصاب ایسوسی ایشن کا صدر بازار کا نگران صدر کیسے ایک سال سیبنا ہوا ہے۔۔۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...