ٹانک ، جنریٹر خریداری میں خرد برد پر تحقیقاتی اداروں کی خاموشی معنی خیز ہے : میڈیاٹیم

ٹانک ، جنریٹر خریداری میں خرد برد پر تحقیقاتی اداروں کی خاموشی معنی خیز ہے : ...

  



ٹانک(نمائندہ خصوصی)ضلع کونسل ٹانک کے جنریٹر خریداری میں مبینہ خورد بردمنظر عام پر آنے کے باوجود اینٹی کرپشن اور دیگر تحقیقانی اداروں کی خاموشی سمجھ سے با لا تر ہے لاکھوں روپے کی لاگت سے لیا گیا غیر معیاری اور رنگ شدہ جنریٹر ابھی تک بدستور ضلع کونسل میں موجود ہونا تبدیلی کی دعویداروں کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے مقامی صحافیوں ٹیم جب جنریٹر کی خرید میں مبینہ کر پشن سے متعلق مذید معلومات کیلئے اے ڈی بلدیا ت ٹانک کے دفتر پہنچی تو اے ڈی بلدیات نے میڈیا کو بتایا کہ ضلع کونسل میں پڑا جنریٹر غیر معیاری ہے اس لئے ابھی تک اسے سرکاری طور پر قبول نہیں کیا انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں نے کمپنی اور ڈی سی ٹانک کو متعدد لیٹرز بھی لکھے ہیں جسمیں ان سے کہا گیا ہے کہ ضلع کونسل میں فوری طور پر معیاری جنریٹر مہیا کیا جائے اے ڈی بلدیات نے بتایا کہ اس جنریٹر کے ٹینڈرنگ خود ضلع نائب ناظم نے کرائے ہیں اور سارے عمل میں مجھے بے خبر رکھا گیا ہے انہوں نے کہا کہ جب تک مذکورہ کمپنی معیاری جنریٹر نہیں مہیا کریگی اس وقت تک میں جنریٹر کو سرکاری تحویل میں نہیں لوں گایاد رہے کہ مذکورہ کمپنی کے ذمہ دار موجودہ ضلع نائب ناظم ٹانک ودیگر نے جنریٹر خریداری کیلئے سرکاری خزانے افسران کی ملی بھگت سے 35 لاکھ روپے نکلوائے ہیں لیکن کمپنی نے معیاری جنریٹر خریدنے کی بجائے 4 لاکھ روپے والا جنریٹر ضلع کونسل میں رکھ دیا عوامی اور سماجی حلقوں نے نیب،محکمہ اینٹی کرپشن ،کمشنر ڈیرہ اور ڈپٹی کمشنر ٹانک سے مطالبہ کیا کہ جنریٹر خریداری کے سکینڈل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری قانونی کاروائی کی جائے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...