سندھ سمبلی الوداعی اجلاس ، تاریخی مناظر دیکھنے میں آئے

سندھ سمبلی الوداعی اجلاس ، تاریخی مناظر دیکھنے میں آئے

  



کراچی (رپورٹ: نعیم الدین) رات 12بجے سندھ اسمبلی تحلیل ہوگئی ۔ سندھ اسمبلی کے الوداعی اجلاس میں تاریخی مناظر دیکھنے میں آئے ۔ شیراور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے ہوئے دکھائی دیئے۔ یعنی حکومتی ارکان اور اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اور لیڈر ایک دوسرے سے گزشتہ 5سالوں کی غلطیوں پر معافی مانگتے ہوئے دکھائی دئیے۔ وزیراعلیٰ سے اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کے درمیان نگراں وزیراعلیٰ کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ توقع ہے کہ یہ مسئلہ 31مئی تک حل ہوجائے گا۔ اس مرتبہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن نے فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا نہیں کیا جبکہ 2013ء سے پہلے یہی اپوزیشن فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سیدمراد علی شاہ اور اپوزیشن لیڈر خرم شیر زمان اور خواجہ اظہار الحسن نے اپنے بعض الفاظوں پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں واپس لینے کا اعلان کیا۔ سندھ اسمبلی کی 50 سالہ تاریخ میں ایسے مناظر انتہائی کم دیکھنے کو ملے ہیں بعض ارکان نے خوشگوار ماحول میں شکوے بھی کئے اور پانچ سال کے دوران ایوان میں ادا کئے ہوئے اپنے تلخ جملوں پر بھی معذرت کی ۔ واضح رہے کہ سندھ اسمبلی میں یہ جملہ بھی کبھی نہیں کہا گیا کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اختلافات جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں اور وزیراعلیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرے منہ سے نکلے ہوئے صوبے کے معاملے پر جو غلط جملے نکلے انہی کارروائی سے حذف کردیا گیا ہے۔ خواجہ اظہار نے کہا کہ ہم نے مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کیا جس میں تلخ باتیں بھی ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت چاہتا ہوں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اجلاس خوشگوار ماحول میں شروع ہوا اور خوشگوار ماحول میں ہی اختتام پذیر ہوا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس بات کا اعتراف وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کیا کہ کوئی بھی شخص آسانی سے اپنا گھر چھوڑ کر نہیں آتا۔ چاہے اس کے بدلے اس کو محل ہی کیوں نہ دیا جارہا ہو۔ جو لوگ یہاں آگئے ہیں وہ سب پاکستانی ہیں وہ کوئی سی بھی زبان بول رہے ہوں۔اپوزیشن ارکان نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا بھی شکریہ ادا کیا کہ ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے اور انہوں نے انتہائی تحمل سے اپوزیشن کے سخت جملے بھی سنے۔ وزیراعلیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے برداشت کا کلچر برقرار رکھا یہ ہی جمہوریت کا انداز ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...