اے پی بی ایف کا شرح سود میں اضافے پر اظہار تشویش

اے پی بی ایف کا شرح سود میں اضافے پر اظہار تشویش

  



کراچی (اکنامک رپورٹر)آل پاکستان بزنس فورم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آئندہ دو ماہ کے لئے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس سے 6.5 فیصد تک اضافہ کے اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی نے کہا کہ جنوری 2018ء سے شرح سود میں یہ دوسری بار اضافہ ہے جب مرکزی بینک نے چار دہائیوں کی سب سے کم شرح کو 5.75 فیصد سے 6 فیصد کر دیا تھا۔ مجموعی طور پر مالی سال 2018ء کی دوسری سہ ماہی میں اس شرح میں 75 بیسز پوائنٹس تک اضافہ ہو چکا ہے۔ 6.5 فیصد کی یہ شرح گزشتہ تین سالوں میں سب سے بلند ہے۔ ابراہیم قریشی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے افراط زر سے نمٹنے کیلئے غلط راستہ کا انتخاب کیا اور ڈسکاؤنٹ ریٹ میں 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کیا ہے جس سے کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ ہوگا اور اقتصادی ترقی کو بھی خاطر خواہ نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری کے بہاؤ میں کمزوریاں جاری رہتی ہیں، مرکزی بینک کو ترقی میں اضافہ کیلئے پالیسی ریٹ میں کمی کرنی چاہئے کیونکہ کمی سے کاروباری برادری کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور درست معیشت فروغ پاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری شرح سود میں کمی کی توقع کر رہی ہے کیونکہ یہ نجی شعبہ کی ترقی کو فروغ دینے میں معاون ہو سکتی ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ موجودہ مالی سال کے دوران کمرشل بینکوں کے ذریعے نجی شعبہ کو دیئے گئے قرضوں کی رفتار میں تیزی نہیں آئی۔ انہوں نے شرح سود میں کمی کو معنی خیز اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے توانائی کے بحران، سیکورٹی چیلنجز اور سیاسی عدم استحکام پر مکمل طور پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے نجی شعبہ کو بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ اور کریڈٹ میں تعاون پر بھی زور دیا جو سرمایہ کی منتقلی کی روک تھام کے ساتھ ساتھ ٹیکس مشینری میں بہتری لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 سال پہلے بینک نجی شعبہ کو 67 فیصد قرضہ فراہم کر رہے تھے جو 2017ء تک 32 فیصد تک آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری میں جاری ہونے والی مالیاتی پالیسی کے مطابق بینکوں نے موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران نجی شعبہ کو 225 ارب روپے کا قرضہ فراہم کیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصہ کے دوران 328 ارب روپے تھا جس سے ایک بار پھر بینکوں کی جانب سے نجی شعبہ کیلئے قرضوں میں کمی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اضافہ سے خوراک کی اشیاء کے ساتھ ساتھ خدمات اور تیل کی قیمتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ابراہیم قریشی نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ تجارتی بینکوں سے قرض حاصل کرنے کی بجائے توازن کا مظاہرہ کرے اور 5.4 فیصد شرح ترقی کے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے گورننس میں بہتری کو یقینی بنائے جو ابھی تک حاصل نہیں کیا جا سکا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...