بابا سے ملنے جیل جاتی اور وہیں پڑھا کرتی:سما شبیر

بابا سے ملنے جیل جاتی اور وہیں پڑھا کرتی:سما شبیر
بابا سے ملنے جیل جاتی اور وہیں پڑھا کرتی:سما شبیر

  



سری نگر ( ویب ڈیسک ) بارہویں جماعت کے بورڈ کے امتحانات میں 97.8 فیصد نمبروں کیساتھ مقبوضہ کشمیر سے ٹاپ کرنیوالی حریت رہنما شبیر شاہ کی بیٹی سما شبیر نے کہا ہے کہ امتحانات کی تیاری کے دوران جب نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں والد سے ملنے جاتی تو 5گھنٹے انتظار کرناپڑتا ، اس دوران جیل کے باہر پڑھائی کرتی تھی ۔

ایک انٹرویو میں سما کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر میں اگر آپ کے ساتھ کچھ بھی نہ ہوا ہو تو پھر بھی حالات کا اثر آپ کے دل و دماغ پر پڑتا ہے لیکن میں ذاتی طور پر پریشان تھی ، میرے بابا جیل میں تھے اور ملاقات اس قدر مشکل تھی کہ ایک دن جیل کے باہر انتظار کرنا پڑتا تھا لیکن میں کتابیں ساتھ لے جاتی تھی اور انتظار کے دوران جیل کے باہر پڑھتی تھی ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنے والد سے متاثر ہوئیں جو سالہا سال سے قید و بند کی صعوبتوں کے باوجود اپنے مقصد کے حصول کیلئے کوشاں ہیں ، اس لیے اس نے بھی طے کر لیا کہ وہ اپنے والد کیلئے فخر کا باعث بن کر دکھائیں گی۔ انہوں نے کہا میں ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بننا چاہتی بلکہ وکیل بنوں گی اور کشمیر ہو یا کوئی اور جگہ ، میں نا انصافیوں کے خلاف اپنی تعلیم اور اپنا ہنر بھر پور استعمال کروں گی ، میری لڑائی قانونی ہوگی ۔

سما کی والدہ ڈاکٹر بلقیس کا کہنا تھا کہ خاوند کے جیل میں قید ہونے کے بعد انہوں نے بچوں کی دیکھ بھال کا ذمہ لیا کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ جیل کے اندر شبیر شاہ کا سر فخر سے اونچا ہو ، سما کو دکھ ہے کہ وہ اپنی شاندار کامیابی کی خبر سے پہلے اپنے والد کو نہیں سنا پائیں ۔ یاد رہے کہ سما شاہ کے والد شبیر شاہ نے کل ملا کر 31سال جیل میں گزارے ہیں۔

مزید : قومی