صدر کام نہیں کرتے ، اپوزیشن نے تنخواہ کا بل مسترد کر دیا

صدر کام نہیں کرتے ، اپوزیشن نے تنخواہ کا بل مسترد کر دیا
صدر کام نہیں کرتے ، اپوزیشن نے تنخواہ کا بل مسترد کر دیا

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے صدر مملک کی تنخواہ ، الاﺅنسز میں اضافہ کے ترمیمی بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر کوئی کام نہیں کرتے تو انکی تنخواہ میں اضافہ کیوں کیا جا رہاہے۔ایم کیو ایم کے ارکان نے مردم شماری کے عبوری نتائج اور معاہدے کے مطابق ان کی جانچ پڑتال نہ ہونے کے خلاف احتجاجاً واک آﺅٹ کیا ، قومی اسمبلی میں کورم پھر ٹوٹ گیا ، کورم کی نشاہد ہی پی ٹی آئی کی شیریں مزاری نے کی جس پر اجلاس آج تک ملتوی کر دیا گیا ۔

وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے صدر مملک کی تنخواہ میں اضافے کیلئے متعلقہ الاﺅنسر و مراعات ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا جسے صدر کی تنخواہ ۔ الاﺅنسز اور مراعات مرمیمی بل 2018سے منسوب کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم ، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے صدر مملکت کی تنخواہ میں اضافے کی ترمیمی بل کو مسترد کر دیا۔ ایم کیو ایم عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ اگر صدر کو اتنے ہی مسائل کا سامنا ہے تو وہ میری تنخواہ لے لیں ، غریب قوم پر رحم کریں ، پہلے ہی ایوان صدر پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں ۔

نکتہ اعتراض پر تحریک انصاف کی ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ صدر مملکت کے پاس اختیار ہے نہ وہ کوئی کام کرتے ہیں ان کی تنخواہ میں اضافہ کیوں کیا جا رہا ہے۔ شرم آنی چاہیے۔ حکومت بل سے دستبردار ہوجائے ، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ صدر مملک کی تنخواہ تقریباً ساڑھے 8لاکھ روپے مقرر کرنا زیادتی ہے۔ ہم بل سے اتفاق نہیں کرتے ۔

شیریں مزاری نے کہا کہ ایسے شخص کو امریکہ میں سفیر تعینات کر دیا گیا جس کی وزارت خارجہ نے کلیئرنس ہی نہیں کی اس پر نیب کے مقدمات ہیں ۔ حکومت آخر امریکہ سے کیا ڈیل کرنا چاہتی ہے۔ پارلیمنٹ کو آگہ کیاجائے کس نے امریکیوں کو سیف ہاﺅسز کی اجازت دی تھی ۔ امریکیوں نے کمیونیکیشن کا نظام نصب کر رکھا تھا۔ بغیر ڈپلومیٹ نمبر زوالی گاڑیوں میں گھومتے تھے اور بائیو میٹرک کے بغیر موبائل فون کی سمیں لینے کی کھلی آزادی تھی ۔ کہاں ہیں وزیر خارجہ اور وزیر دفاع ۔ سپیکر نے اس بارے میں وزیر پارلیمانی امور سے جواب طلب کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے جواب دیا تو معاملہ اور خراب ہوجائے گا۔ سپیکر نے وزیر خارجہ کو اس معاملے پر بیان دینے کی ہدایت کردی۔

قبل ازیں ڈاکٹر شیریں مزاری نے فاٹا کے انضمام پر درد آدم خیل میں پارٹی کے ایم این اے قیصر جمال کے حجرے پر جے یو آئی (ف) کے کارکنوں کے حملے کا معاملہ اٹھایا سپیکر نے کہا کہ کوئی جماعت کسی ایم این اے پر حملہ نہیں کر سکتی۔ جے یو آئی (ف) کی رکن نعیمہ کشور نے کہا کہ ان کی جماعت کے کارکنوں نے کسی پر حملہ نہیں کیا ہماری جماعت پر امن و جدوجہد پر یقین رکھتی ہے ۔ شیریں مزاری نے کہا کہ حملہ آوروں نے جے یو آئی (ف) کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے ۔ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین نے جسٹس (ر) ناصر الملک کے نگران وزیراعظم کے لیے نامزدگی کا خیر مقدم کیا ۔ شیخ صلاح الدین نے مردم شماری کے نتائج کے حوالے سے تحفظات اٹھائے اور واضح کیا کہ کراچی کی ڈیڑھ کروڑ کی آبادی کم دکھانے پر عبوری نتائج کو ہم مسترد کر چکے ہیں اس معاملے پر ایم کیو ایم کے ارکان احتجاجاً ٹوکن واک آﺅٹ کر گئے ۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...