کچھ ادارے گن پوائنٹ پر پانی لیتے ہیں، ایم ڈی واٹربورڈ، واٹر کمیشن نے سیکریٹری دفاع کو طلب کرلیا

کچھ ادارے گن پوائنٹ پر پانی لیتے ہیں، ایم ڈی واٹربورڈ، واٹر کمیشن نے ...
کچھ ادارے گن پوائنٹ پر پانی لیتے ہیں، ایم ڈی واٹربورڈ، واٹر کمیشن نے سیکریٹری دفاع کو طلب کرلیا

  



کراچی (ویب ڈیسک) واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیرہانی مسلم کے روبرو ایم ڈی واٹر بورڈ نے اپنے بیان میں چوری کے کنکشنز کے بارے میں کہا ہے کہ کچھ ادارے گن پوائنٹ پر پانی لیتے ہیں ہمارے عملے کو یرغمال بنالیتے ہیں ،جب ان اداروں کو اپنا کام کرنا ہو تو چار سو میل آگے جا کر بھی کام کرتے ہیں ،کل ہی ایک قومی ادارے کے مسلح لوگ سادہ لباس میں پمپنگ سٹیشن پر آئے اور سٹیشن بند کرادیا۔

روزنامہ جنگ کے مطابق ہائیڈرنٹ انچارج خالد فاروق نے بتایا کہ مسلح لوگوں نے ہائڈرنٹ بند کرادیا اور مغلظات بکیں بعد میں ان کے کمانڈر کی سربراہی میں مارا پیٹاگیا، مجھے اغوا کرکے لے گئے اور گھمایا پھرایا پھر چھوڑ دیا، ایم ڈی واٹر بورڈ نے بتایا کہ شاہ فیصل کالونی کا ہائڈرنٹ بند کرکے پی اے ایف بیس کو اضافی پانی دیا جاتا ہے، کارساز پمپنگ  سٹیشن کو بھی گن پوائنٹ پر آپریٹ کرایا جاتا ہے، کمیشن نے ایک مرتبہ پھر سیکرٹری دفاع طلب کرتےہوئے قرار دیا ہے کہ کلفٹن کنٹونمنٹ میں ٹریٹمنٹ پلانٹ کا مسئلہ سیکرٹری دفاع کی غیر حاضری میں حل نہیں ہوسکتاہے لہٰذا 4جون کو سیکرٹری دفاع پیش ہوں۔ بعدازاں کمیشن کی مزید کارروائی 4 جون تک ملتوی کردی گئی۔

دوسری طرف سندھ ہائی کورٹ میں واٹر کمیشن کی سماعت کے موقع پر سمندر میں فضلے کے اخراج کے معاملے پر سیکرٹری دفاع نے کلفٹن کنٹونمنٹ کی جانب سے ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب کے حوالے سے بیان حلفی جمع کراتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ مشینری بیرون ملک سے درآمد ہوگی اسلئے سات ماہ سے ذائد وقت لگ سکتا ہے، سی ای او کلفٹن کنٹومنٹ کا کہنا تھا کہ اخبار میں اشتہار شائع کردیا گیا ہے، پلانٹس کی تنصیب اور فعالیت کیلئے حکومت کی منظوری ضروری ہے، کمیشن کا کہنا تھا کہ آپ ایک سال تک لوگوں کو رلانا چاہتے ہیں؟ کیا لوگ آج کے بعد سمندر میں نہ جائیں ؟ساری تعمیرات پر پابندی لگا دیتے ہیں، جب تک فضلہ ٹھکانے لگانے کا بندوبست نہیں ہوگا کوئی تعمیر نہیں ہوگی، سی ای ا و کنٹونمنٹ بورڈ کا کہنا تھا کہ پیپرز رولز پر عمل درآمد کیلئے ایک سال لگ سکتا ہے، چیئرمین پلاننگ کمیشن کا کہنا تھا کہ پیپرز رولز میں ٹینڈر کے اجرا کیلئے تیس دن مقرر ہے، کمیشن کا کہنا تھا کہ آپ نے لکھ کر لگا دیا سمندر میں گندگی نہ پھیلائیں، آپ یہ نہیں بتارہے کہ گندگی تو آپ ہی پھیلا رہے ہیں، کمیشن کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے نے نئے سیکٹرز بنانے سے پہلے سیوریج ٹھکانے لگانے کا منصوبہ کیوں نہیں بنایا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے ہسپتال میں ایک سو لوگ جاتے تھے اب ایک ہزار لوگ جاتے تھے، مقامی انجینئر نے کمیشن کو بتایا کہ گالف کلب کے پاس باقاعدہ ٹریٹمنٹ پلانٹ موجود ہے، یہ پلانٹ صرف ہائی رائز بلڈنگز کیلئے مختص کردیا گیا ہے۔

سیکرٹری ڈی ایچ نے بتایا کہ یہ پلانٹ کام کررہا ہے اور اس کے قریب ہائی رائز بلڈنگز موجود نہیں، کمیشن کا کہنا تھا کہ آپ کے پاس ناقص منصوبہ بندی پر احتساب کا کوئی نظام نہیں؟ ہم ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب کیلئے اتنا طویل وقت نہیں دے سکتے، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ اگست 2019تک مہلت دے دیں اور تحریری حکم جاری کردیں تاکہ کام یقینی ہوجائے، کمیشن کا کہنا تھا کہ ٹھیک ہے پھر آپ فیز تھری میں تعمیرات روک دیں۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے پاکستان کی مہنگی ترین سوسائٹی ہیں مگرسیوریج کا کوئی نظام نہیں، کمیشن کا کہنا تھا کہ میں ایسا حکم جاری نہیں کروں گا جو قابل عمل نہ ہو، میئر کراچی وسیم اختر کا کمیشن میں کہنا تھا کہ سی ویو پر دوبارہ تعمیرات شروع ہوگئی، میکڈونلڈ اور ولیج ہوٹل کے قریب نئی عمارتیں بن رہی ہیں، سیکرٹری ڈی ایچ اے کا کہنا تھا کہ کچھ پرانی عمارتوں کو رینوویشن کی اجازت دی گئی ہے، میئر کراچی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ایسی تعمیرات نہیں ہوتیں، اس کا ملبہ اور فضلہ کہاں جائے گا؟ میں نے آنکھوں سے دیکھا ہے کوئی سیپٹک ٹینک نہیں سارا سیوریج سمندر میں جارہا ہے، بڑی بڑی گاڑیاں ساحل سمندر پر اتر جاتی ہیں رات کو جو خطرناک ہے۔

سی ای او کنٹونمنٹ بورڈ کا کہنا تھا کہ ہم کارروائی کرتے ہیں اور مقدمات بھی درج کراتے ہیں، کمیشن کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پولیس افسر تعاون نہیں کررہا تو بتائیں، کنٹونمنٹ بورد کے افسر نے بتایا کہ ایس ایچ او درخشاں تعاون نہیں کرتے، وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ساحل سمندر پر تعمیرات روکی جائیں، ساحل تک گاڑیوں کے داخلے کو روکا جائے، کمیشن نے حکم دیا کہ سیپٹک ٹینک اور پلانٹ کے بغیر کسی ریسٹورینٹ کو اجازت نہ دی جائے ،کتنے پیسے کماتے ہیں آپ ان ریسٹورینٹس سے؟ اس سے کئی گنا ذیادہ لوگ سیوریج سے بیمار ہوتے ہیں ،مڈل اور لوئر مڈل کلاس لوگ سمندر پر جاتے ہیں اور بیمار ہوتے ہیں۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی


loading...