فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر438

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر438
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر438

  



’’ملن‘‘ کی کامیابی نے رحمٰن کو دوبارہ ہیرو بنا دیا ور اپنے پیروں میں کھڑا ہونے کے قابل بنا دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ فلم مشرقی او مغربی پاکستان کے فلم والوں کے باہمی تعاون کی انمول مثال تھی ۔جس میں کام کرنے کے لیے کسی نے معاوضہ نہیں لیا۔ مگر اس کہانی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ’’ملن ‘‘ کا میابی کے بعد رحمٰن حد درجہ مغرور اور خود پسند ہوگئے ۔ معاوضہ تو کسی نے بھی نہیں لیا تھا مگر رحمٰن نے زبانی اور عملی طور پر بھی ان کے خلوص اور تعاون کا اعتراف نہیں کیا۔ ہر ایک کے ساتھ ان کا رویہ بدلا ہوا تھاجس کی وجہ سے خود مشرقی پاکستانی کی فلمی صنعت میں ان کے بارے میں اظہار تاسف کیا گیا۔ 

دیبانے اس فلم میں کوئی معاوضہ نہیں لیا تھا مگر رحمٰن کے حسن سلوک کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ لاہور جانے کے لیے ڈھاکا ائر پورٹ گئیں تو رحمٰن نے ائر پورٹ پر انہیں خدا حافظ کہنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ ’’ملن ‘‘ کی کامیابی نے انہیں ایک نئی زندگی دی تھی ۔ وہ نئے سرے سے ہیرو اور ایک کامیاب فلم ساز اور ہدایت کار بن گئے تھے ۔ منافع بھی کمایا تھا مگر مدد کرنے والوں کی طرف سے آنکھیں پھیرلی تھیں۔ 

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر437 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دیبا کو اس بات کا بہت دکھ تھا کہ انہوں نے دل و جان سے کسی معاوضے کے بغیر ’’ملن ‘‘ میں کام کیا تھا مگر رحمٰن نے ان کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی یہاں تک کہ رخصت کرنے ائر پورٹ تک نہ گئے ۔ خان عطاالرحمٰن ‘ سرور بارو بنکوی اور دوسرے لوگوں کو بھی رحمٰن کے رویے سے شکایت تھی۔ رحمٰن نے اس فلم کے بعد اور بھی فلمیں بنائیں اور کئی فلموں میں کام بھی کیا مگر وہ ساتھیوں کی نظروں سے گر گئے تھے۔ نتیجہ یہ ہو اکہ جب کچھ عرصے بعد دوبارہ وہ زوال سے ہمکنار ہوئے تو کسی نے ہمدردی کا اظہار نہیں کیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے ڈھاکا میں ایک فوٹوگرافی کی دکان کھول لی ہے پھر اس کے بعد ان کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔ 

مشرقی پاکستان کی فلم ’’سنگم‘‘ کے موسیقار عطاالرحمن تھے ۔ ’’سنگم ‘‘ کی امتیازی خوبی یہ تھی کہ یہ پاکستان کی پہلی رنگین فلم تھی ۔ ’’سنگم‘‘ کے گانے بہت مقبول ہوئے تھے ۔ فلم ’’کارواں‘‘ کے موسیقار روبن گوش تھے ۔ ’’کارواں ‘‘ مغربی پاکستان میں زیادہ کامیاب نہیں ہوئی تھی مگر اس کے نغمات آج بھی گونج رہے ہیں۔ بشیر احمد کا گانا ہوا گیت ... 

جب تم اکیلے ہوں گے 

ہم یاد آئیں گے 

آج پاکستان کے سپرہٹ نغموں میں شمار کیا جاتا ہے ۔

’’کاجل‘‘ ہدایت کار کی حیثیت سے نذرالاسلام کی پہلی فلم تھی ۔ یہ ۱۹۶۵ء میں ریلیز ہوئی تھی اور صرف موسیقی کی وجہ سے یاد رکھی جائے گی۔ شبنم نے اس فلم میں ڈبل رول کیا تھا ۔ اپنی پہلی فلم سے نذ ر الاسلام کو شبنم کی اداکاری ایسی پسند آئی کہ پھر ان کی بیشتر فلموں میں شبنم ہی نے ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ ان میں سے بعض فلمیں مثلاً آئینہ‘ بندش ‘ احسان تو ہمیشہ یاد گار رہیں گی ۔ اس فلم کے موسیقار سبل داس تھے ۔ سرور بارہ بنکوی کے نغمات فردوسی بیگم کی آواز میں ریکارڈ کیے گئے تھے ۔ ایک گانا بہت پسند کیا گیا تھا۔ 

یہ آرزو جواں جواں 

یہ چاندنی دھواں دھواں 

پکارتے پھریں تمہیں 

بتاؤ ہم کہاں کہاں 

یہ نغمہ فردوسی بیگم کے ناقابل فراموش گیتوں میں شمار ہوتا ہے ۔ مجموعی طور پر ’’کاجل ‘‘ کی موسیقی اچھی تھی ۔ 

فلم ’’بھیا‘‘ کے موسیقار روبن گوش تھے ۔ اس فلم کے گیت روبن نے مغربی پاکستان کے گلوکاروں کی آوازوں میں ریکارڈ کیے تھے اور جن میں سے بیشتر مقبول ہوئے تھے ۔ 

احمد رشدی اور مسعود رانا نے ایک قوالی گائی تھی جو آج بھی قوالوں کی زبانوں پر ہے۔ 

مدینے والے سے میرا سلام کہہ دینا۔

احمد رشدی اور مالا کی آوازوں میں ریکارڈ کیا ہوا یہ دو گانا بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ 

نہ جانے مجھے کیا ہوگیا۔ 

ایک اور گیت احمد رشدی نے گا یا تھا۔ 

بہنا میری پیاری بہنارے ۔

فلم ’’ایندھن‘‘ کے موسیقار سبل داس تھے ۔ یہ وہی سبل داس ہیں جن کے بارے میں ہم بتا چکے ہیں کہ جب ایک پروگرام کے سلسلے میں میڈم نور جہاں ڈھاکا گئیں تو ساری فلمی صنعت ان سے ملنے اور انہیں دیکھنے کے لیے امڈ آئی ۔ ان میں سبل داس بھی تھے ۔ جنہیں میڈم نور جہاں مطلق نہیں جانتی تھیں۔ ہوٹل کے کمرے میں گانے کی ریہرسل شروع ہوئی تومیڈم کو ہار مونیم بجانے والا پسند نہیں آیا۔ سبل داس احتراماً ہارمونیم لے کر بیٹھ گئے ۔ میڈم کو یہ سنگت بہت پسند آئی اور انہوں نے کہا کہ میرے تمام پروگراموں میں آپ ہی ہارمونیم بجائیں گے۔ 

سبل داس تو خاموش رہے لیکن انہیں جاننے والے دوسرے لوگ بہت حیران بلکہ پریشان ہوئے کہ ایک مانا ہوا موسیقار تقریب میں ہارمونیم کس طرح بجا سکتا ہے ۔ دوسری بات یہ تھی کہ ان دنوں سبل داس کی بیگم کافی بیمار تھیں اور موسیقی کے یہ پروگرام رات ہی کو ہوتے تھے ۔ 

حمید صاحب نے ہمیں ایک طرف لے جا کر سمجھایا کہ یار میڈم کو سمجھاؤ۔ یہ بہت بڑا موسیقار ہے ۔ اسٹیج پر ہارمونیم کیسے بجا سکتے ہیں۔ 

ہم نے نرم لفظوں میں میڈم کو حالات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ سبل داس کی بیگم بھی بیمار ہیں اس لیے وہ رات کو وقت نہیں دے سکتے۔ مگر میڈم جو بات کہتی تھی اس منوا کر رہتی تھیں۔ انہوں نے منتظمین کو صاف جواب دے دیا کہ اگر سبل داس ہارمونیم نہیں بجائیں گے تو وہ گانانہیں گائیں گی پھر خود سبل داس سے بھی انہوں نے کہا ’’ بھائی جان ۔ آپ بے حد اچھا ہارمونیم بجاتے ہیں جس کی وجہ سے گانے میں جان پڑجاتی ہے مہربانی سے تھوڑا وقت نکالیے نا‘‘ 

سب داس کے لیے میڈم نوجہاں کی تعریف ایک سند کی حیثیت رکھتی تھی ۔ وہ خود بھی میڈم نور جہاں کی سنگت میں ساز بجانے کو اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے ۔ بہت با مروت اور لحاظ والے وضع دار آدمی تھے ۔ مان گئے اور جب تک میڈم ڈھاکا میں رہیں وہی میڈم کے ساتھ ہارمونیم بجاتے رہے ۔ آخری دن جب میڈم نے ہوٹل کے ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے وقت دیا تھا تو سبل داس نے یہ کہہ کہ معذرت چاہی کہ میڈم اس وقت ساڑھے دن بج چکے ہیں ۔ آپ کی محفل تو رات گئے تک جاری رہے گی ۔ مجھے بیوی کی تیمارداری کے لیے اجازت دیجئے۔ 

میڈم کہاں ماننے والی تھیں۔ کہنے لگیں ’’بھائی جان! ذرا یہ سوچئے کہ اگر ان بے چارے غریبوں کے لیے سنگت نہ ہونے کی وجہ سے میں اچھے گیت نہ پیش کر سکی تو کیا یہ ان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی؟ آپ آج کی رات اورمہربانی کر دیجئے۔ بھابی سے میری طرف سے معذرت کر لیجئے گا۔ ‘‘

سبل داس رضا مند ہوگئے ۔ گیارہ بارہ بجے تک کھانے کا سلسلہ جاری رہا پھر موسیقی کی محفل سجی جو صبح چار بجے تک جاری رہی ۔ ایسا سماں بندھ گیا تھا کہ نہ گانے والی کو ہوش تھا نہ سننے والوں کو ۔ بجانے والے بھی مدہوش تھے ۔ 

میڈم نور جہاں نے ہر ایک کی فرمائش پر اس کے پسند کے گیت گائے ۔ وہ خود بھی موسیقی کے سحر میں کھوی سی گئیں تھیں۔ اگر ایک نا خوشگوار واقعے کی وجہ سے میڈم کا موڈ خراب نہ ہو تا تو شاید یہ محفل صبح تک جاری رہتی۔ 

اگلے دن سبل داس سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے ان کا بہت شکریہ ادا کیا اور تکلیف دینے پر معذرت کی ۔ انہوں نے کہا ’’مجھے شرمندہ نہ کیجئے۔ ایسی یادگار محفلیں اور توجہاں کی زبان سے آمنے سامنے بیٹھ کر گیت سننا کسی کسی کو ہی نصیب ہوتا ہے ۔ ‘‘

’’ایندھن ‘‘ کی موسیقی بہت اچھی تھی ۔ سبل داس کا بنایا ہوا یہ نغمہ خاص طور پر مقبول ہوا۔ 

بے کل رات بتائی 

بے چین دن گزارا

ڈھاکا کی فلمیں درشن ‘ چھوٹے صاحب‘ نواب سراج الدولہ اور چکوری بھی ایک ہی سال میں ریلیز ہوئی تھیں اور ان سب کی موسیقی بہت اچھی تھی ۔ 

’’چکوری ‘‘ ندیم اور شبانہ کی پہلی فلم تھی ۔ روبن گھوش کی موسیقی نے دھو میں مچادی تھیں۔ یہ فلم ۱۹۶۷ء میں ریلیز ہوئی تھی ۔ اس کی ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ ندیم اور فردوسی بیگم کی آواز میں ایک دوگانا بھی اس کے لیے صدا بند کیا گیا تھا ۔ اس کے بول تھے ۔ 

کہاں ہو تم کو ڈھونڈ رہی ہیں 

یہ بہاریں یہ سماں 

یہ گیت احمد رشدی کی آواز میں بھی ریکارڈ کیا گیا تھا اور امر ہوگیا ۔ اس فلم کے لیے ایک دو گانہ فردوسی بیگم اور مجیب عالم نے بھی گایا تھا۔ 

وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ 

اس فلم میں ناہید نیازی کی چھوٹی بہن نجمہ نیازی نے بھی ایک گاناگایا تھا۔ 

رات ہے جواں دن سہانا

دل ہوگیا ہے دیوانہ 

فلم ’’ڈاک بنگلا‘‘ کی موسیقی علی حسین نے بنائی تھی ۔ یہ بھی بہت اچھی میوزکل فلم تھی ۔ 

موسیقی کے لحاظ سے ’’درشن ‘‘ بھی ایک ناقابل مراموش ظلم ہے ۔ اس کی نمایاں خوبی یہ تھی کہ گلو کار بشیر احمد نے اس کی موسیقی بھی ترتیب دی تھی۔ اس کے گیت بھی خود بشیر احمد نے لکھے تھے ۔ اور گانے بھی خود ہی گائے تھے ۔ اس فلم کی موسیقی واقعی ناقابل فراموش ہے ۔ چند گانے یہ ہیں۔ 

۱۔ ہم چلے چھوڑ کر تیری محفل صنم 

۲۔ تمہارے لیے اس دل مین اتنی محبت ہے 

۳۔ دن رات خیالوں میں تجھے یاد کروں گا

۴۔ یہ سماں پیارا پیارا ‘ یہ ہوائیں ٹھنڈی ٹھنڈی (مالا نے گایا تھا ) 

۵۔ گلشن میں بہاروں میں توہے ۔ 

۶۔ یہ موسم یہ مست نظارے پیار کرو تو ان سے کرو۔ 

یہ تمام نغمات (ایک کے سوا) بشیر احمد نے گائے تھے اور سب کے سب آج بھی سپر ہٹ سمجھے جاتے ہیں۔ اسی فلم میں بشیر احمد نے میڈم نورجہاں کے ساتھ بھی ایک دو گانا گایا تھا جس کے بول تھے ۔

چن لیا اک پھول کو ۔

’’درشن ‘‘ بے حد کامیاب فلم تھی جس کی کامیابی میں بلاشبہ بہت بڑا ہاتھ بشیر احمد کا تھا۔ یہ میوزیکل فلم دراصل ’’ون مین ‘‘ شو تھی۔

سراج الدولہ میں موسیقار ‘ ہدایت کار اور فلم ساز عطا الرحمن تھے۔ فردوسی بیگم کی گائے ہوئی یہ غزل آج بھی سب کو یاد ہے ۔

ہے یہ عالم تجھے بھلانے میں 

اشک آتے ہیں مسکرانے میں 

سرور بارہ بنکوی اس کے نغمے نگار تھے ۔

فلم ’’چھوٹے سرکار ‘‘ میں موسیقار علی حسین نے مالا اور احمد رشدی کی آوازوں میں گانے بنائے تھے ۔ مسفیض اس کے ہدایت کار تھے ۔ اس کے یہ گانے بہت پسند کیے گئے تھے ۔ 

۱۔ جھو میں رہے کلیاں 

۲۔ بگیا میں بہار آئی (مالا) 

۳۔ بدراکاہے اس پر یتم کی یاد دلائے (مالا)

۴۔ آنکھوں کے گلابی ڈورے ‘ زلفوں کامہکتا سایہ (احمد رشدی ) 

۵۔ میرے ہمراہی میرا ساتھ نبھانا (مالا‘ احمد رشدی ) 

یہ سب کے سب سپر ہٹ گانے تھے ۔ جنہوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں دھوم مچادی تھی اور مشرقی پاکستان کے موسیقاروں کا لوہا منوالیا تھا ۔فلم ’’ چاند اور چاندنی ‘‘ میں کریم شہاب الدین کی موسیقی بھی ایک قابلِ ذکر چیز تھی ۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر439 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ


loading...