شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 20

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 20
شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 20

  



گرانڈ ٹرنک میں امرتسر لدھیانہ دہلی سے آگرے پہنچا تو میں نے آگرے کامشہور حلوا سوہن پانچ سیر بیگم عظمت کے لیے لے لیا ..... آگرے سے جھانسی اس کے بعد بھوپال سے روانہ ہو کر ٹرین ایک منٹ کے لیے بڑ کھیڑے رکی ..... بڑکھیڑے کی گلاب جامن ہمیشہ سے مشہور ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے ادھر سے گزرتے وقت ان کو بھلایا ہو ..... گاڑی رکتے ہی میں نے چھ ہانڈیاں خریدیں..... تین بیگم عظمت کے لیے اور تین اپنے لیے..... 

ان دنوں ناگپور میں ٹرین پانچ منٹ رکتی تھی ..... ٹرین ناگپور پہنچی تو عظمت اللہ فوراً ہی نمودار ہوگئے ..وہ میرے لئے رائفل ساتھ لائے جو دراصل میری ہی رائفل تھی اور ان کے پاس امانتاً رہتی تھی ... یہ ہالینڈ کی چار سو پچاس ایکسپریس دو نالی رائفل ہے ..... اس کے علاوہ وہ میری ہدایت کے مطابق تین سو پچھتر ہالینڈ اینڈ ہالینڈ میگنم بھی لائے تھے اور ساتھ اچھی تعداد میں تین سو گرین کی گولیوں والے کارتوس .....

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 19 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حیرت تو یہ ہے کہ وہ اپنے لیے بھی رائفل لائے تھے ..... اور وہ بھی چار سو پچاس ایکسپریس .....! ان کے آدمیوں نے سامان میری ہی کیبن میں رکھا ..... وہ خود بھی بغلگیر ہو کر وہیں تشریف فرما ہوگئے 

’’اپن ٹی ٹی سے بات کر لیں گے خاں ..... ‘‘

’’وہ تو مجھے معلوم ہے ..... ‘‘

میں مسکرا دیا ۔ میں نے مٹھائی ان کے آدمی کے سپر کردی ..... اور بیگم عظمت کو سلا م کہلایا ..... ٹرین ایک دفعہ پھر روانہ ہوگئی ..... 

عظمت خاں کے بستر ..... شکاری تھیلے ..... رائفلیں ‘ بندوق ..... کھانے سے لبریز دو عدد ناشتے دان اور نجانے کیا کچھ ..... ان کو میری طبعیت کا علم تھا اس لیے سامان ساتھ لینے میں انہوں نے کوئی کوتاہی نہیں کی ...میرے کیبن میں امرتسر سے تین حضرات اور تھے ..... وہ تینوں دلی میں اتر گئے ..... ایک صاحب جو دلی سے ایک سیٹ پر قابض ہوئے ان کو بمبئی جانا تھا ..... . وہ دونوں بھوپال میں اتر گئے ..... وہاں سے کوئی پھر مخل نہیں ہوا ..... 

’’مسٹر ..... ‘‘ میں نے عظمت کو مخاطب کیا ’’ اول تو یہ کہ تم اس عہد کی تجدید کرو جو تم مجھ سے خدا کو حاضر و ناظر جان کر کر چکے ہو.....‘‘ 

’’وہ عہد تو مشروط تھا خاں ..... ‘‘

’’وہ کیسے ..... ؟ ‘‘

’’اگر میں رائفل صحیح فائر کر لوں تو شیر کے شکار پر جا سکتا ہوں ..... ‘‘

’’ہر گز نہیں ..... ایسی کوئی شرط نہیں تھی ..... ‘‘

’’مجھے تو یاد ہوگا ..... ‘‘

’’تمہیں غلط یا دہے ..... اور حقیقت ہے کہ تم غلط نشانہ لگاتے ہو ..... ‘‘ 

’’پھر ..... ؟!‘‘

’’تم دیر میں فائر کرتے ہو ..... اور یہ شیر کے شکار میں نہیں چل سکتا ..... ‘‘ 

عظمت خاں ذرا سوچتے رہے ..... پھر بولے 

’’خیر ..... اپن بعد میں فیصلہ کریں گے ..... ‘‘ 

’’لیکن فیصلہ وہی ہوگا ..... خیر ..... بھابھی ..... بچے سب خیریت سے ہیں ..... ؟‘‘

’’الحمداللہ ..... ‘‘

’’زمینوں کا کیا حال ہے ..... ؟‘‘

’’ٹھیک ہی ہے گاخاں ..... مگر اب اپن نے کینیڈا کے امیگریشن کے لیے اپلائی کر دیا ہے گا ..... ‘‘

’’ارے ..... یہ کب ..... ؟‘‘

’’کوئی دو مہینے ہوئے ہینگے ..... ‘‘

’’ تم نے مجھے لکھا ہی نہیں ..... ‘‘ 

’’ لکھنے والا تھا خاں ..... تم سناؤ ..... ایران میں دل لگ گیا ..... ؟‘‘

’’ہاں اب تو میں وہیں کا ہو رہا ..... ‘‘ 

’’ اچھا کیا خاں ..... ‘‘ وہ کسی قدر سنجیدہ ہوگئے ..... مجھے اس کی وجہ معلوم تھی ..... اس کے بارے میں ہم لوگ آدم خور کے بارے میں گفتگو کرتے رہے ..... 

ٹرین تیسرے دن صبح دس بجے بلھار پہنچی ..... اسٹیشن پر عظمت خاں کے کئی آدمی موجود تھے ..... سامان فوراً ہی اتار لیا گیا ..... اور ہم باہر آکر بیل گاڑیوں کے سفر کے لیے آمادہ ہو گئے ..... بلھار شاہ میں عظمت خاں کی خاصی بڑی زمینیں تھیں ..... اور سب خود کاشت ..... اسی لیے وہ ان کے قبضے میں رہیں ..... شریفے اور امرود کا ایک باغ بھی تھا ..... 

اس روز ہمارا قیام بلھار شاہ میں عظمت میاں کی زمین پر بنے کچے مکان میں ہوا ..... اور یہ قیام بہت ضروری بھی تھا کہ دوسرے دن ہم دونوں ہی تازہ دم ہو کر مزید سفر کے لیے آمادہ ہوگئے ..... (جاری ہے )

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 21 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /شکاری


loading...